دو منٹ کی بات
Al-Risala, November 1993, pp. 57–8
By Maulana Wahiduddin Khan
لندن کی ایک ٹی وی کمپنی انسائٹ ٹیلی وژن (Insigh Television) کی ٹیم ۱۰ مارچ ۱۹۹۲ کو اسلامی مرکز میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ۱۲ منٹ کا ایک ویڈیو پروگرام ریکارڈ کر رہے ہیں۔ اس میں چھ آدمی دو منٹ کے لیے بولیں گے۔ یہ پروگرام ساری دنیا میں دکھایا جائے گا۔ سے ایک سوال کیا جائے گا اور وہ صرف دو منٹ میں اس کا جواب دے گا۔ سوال یہ تھا : We are today a deeply divided society. To what principle of life should we turn, Hindus and Muslims and others, so that we can live in harmony? میں نے کہا کہ اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ ایک بچہ آپ سے پوچھے کہ مجھ کو گلاب کا پھول لینا ہے۔ لیکن گلاب کے پیڑ میں کانٹے بھی ہیں۔ پھر میں کیا کروں۔ آپ کہیں گے کہ تم کانٹے سے بچو اور اس کے پھول کو لے لو۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان کے اندر بھی کانٹا اور پھول ایگو اس کا کانٹا ہے اور کانشنس اس کا پھول ہے۔ آپ انسان سے معاملہ کرتے ہوئے ایسا کریں کہ اس کے ایگو کو نہ چھیڑیں۔ آپ ہمیشہ اس کے کانشنس کو ٹچ کریں۔ اس کے بعد سماج میں ہر طرف ہارمنی ہی ہارمنی دکھائی دے گی۔
ہر آدمی کے اندر فطری طور پر دو فیکلٹی ہوتی ہے ۔ ایگو اور کانشنس۔ ایگو نفرت کا سورس ہے اور کانشنس محبت کا سورس۔ مگر دونوں ہی سوئی ہوئی حالت میں ہیں۔ یہ آپ کے اوپر ہے کہ آپ دونوں میں سے کس کو جگائیں۔ اگر آپ نے ایگو کو جگایا تو آپ کو اس سے نفرت اور دشمنی ملے گی ۔ اگر آپ نے کانشنس کو جگایا تو محبت اور دوستی آپ کے حصہ میں آئے گی۔
مدھیہ پردیش کے ایک ٹاؤن میں ہندوؤں کا جلوس نکلا۔ وہ چلتا ہوا مسلم ایریا میں آیا۔ کے امام سے جلوس والوں کی تکرار ہو گئی۔ کچھ مسلم نوجوانوں نے جلوس پر پتھر پھینکے اور پھر فرقہ وارانہ فساد بعد کو امام صاحب کی سمجھ میں آیا کہ فساد کا سبب یہ تھا کہ جلوس پر پتھر پھینک کر جلوس والوں کے ایگو کو بھڑکا دیا گیا۔ انہوں نے طے کیا کہ اب جلوس نکلا تو وہ ان کے کانشنس کو جگائیں گے ۔ اگلے سال پھر اسی طرح ہندوؤں کا جلوس نکلا۔ جب وہ چلتا ہوا مسجد کے سامنے پہنچا تو امام صاحب پیشگی منصوبہ کے تحت پھولوں کا ہار لے کر باہر آئے۔ انہوں نے جلوس کے ہندو لیڈر سے کہا : ہم آپ کا سواگت کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے پھولوں کا ہار لیڈر کے گلے میں ڈال دیا۔
جیسے ہی امام صاحب نے ایسا کیا لیڈر کی گردن انسانیت کے اعتراف میں جھک گئی۔ نے دونوں ہاتھ جوڑ کر امام صاحب کو پر نام کیا۔ اس نے کہا کہ امام صاحب، مسلمانوں کے پتھر مجھ کو نہیں جھکا سکے تھے، مگر آپ کے پھولوں نے مجھ کو جھکا دیا۔ اب تک میں آپ کو دشمن کے روپ میں دیکھتا تھا۔ مگر آج سے آپ میرے دوست ہیں۔ اور یہ دوستی اب کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ دونوں میں فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کا پچھلا رویہ لیڈر کے ایگو کو جگانے والا تھا۔ امام صاحب کے موجودہ رویہ نے لیڈر کے کانشنس کو جگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے سال جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کو مارا تھا، وہیں دونوں ایک دوسرے سے گلے ملنے کل کے دشمن آج کے بھائی بھائی بن گئے ۔
دونوں واقعہ میں فرق کیا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ بستی کے مسلمانوں نے اس سے پہلے جلوس والوں کی انا کو بھڑ کا دیا تھا ۔ اب انہوں نے جلوس والوں کے ضمیر کو جگا دیا۔ انا نفرت کا سر چشمہ ہے اور ضمیر محبت کا سرچشمہ ۔ انا سے آگ اور دھواں نکلتا ہے اور ضمیر سے خوشبو اور ٹھنڈک ۔ انا انسانیت کو توڑنے والی ہے اور ضمیر انسانیت کو جوڑنے والی ۔
عام طور پر لوگ انسانوں کو اچھے اور برے کے خانے میں بانٹتے ہیں، وہ کچھ افراد کو دوست سمجھ لیتے ہیں اور کچھ اور افراد کو دشمن۔ مگر یہ تقسیم مصنوعی ہے۔ اپنی ابتدائی فطرت کے اعتبار سے تمام انسان صرف انسان ہیں۔ وہ اپنی اصل فطرت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے لیے بے ضرر ہیں۔ ہر انسان اپنے ذاتی مفاد میں اتنا مشغول ہے کہ اس کو دوسرے کے ساتھ دشمنی کرنے کی فرصت نہیں۔
اس کے باوجود دشمنی کیوں پیدا ہوتی ہے۔ دشمنی ایک استثنائی حالت ہے نہ کہ عام اور معتدل حالت۔ دشمنی ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ قول یا عمل سے کسی کے غصہ کو بھڑکایا جائے ۔ اگر آپ آدمی کے اندر سوئے ہوئے غصہ کو نہ بھڑکائیں تو آپ اس کے نقصان سے بھی لازمی طور پر بچے رہیں گے ۔