حوصلہ مندی
Al-Risala, November 1993, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
سب کچھ کھونے کے بعد بھی اگر آپ کے اندر حوصلہ باقی ہے تو سمجھ لیجئے کہ ابھی آپ نے کچھ حوصلہ بلاشبہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ بلکہ حوصلہ ہی زندگی میں سب
آدمی کا اصل سرمایہ اس کا حوصلہ ہے۔ آدمی حوصلہ ہی کی بنیاد پر بڑی بڑی بات سوچتا ہے حوصلہ ہی کے ذریعہ وہ اقدام کرتا ہے۔ حوصلہ ہی کے بل پر وہ جوکھم میں کودتا ہے۔ حوصلہ ہی کے سہارے وہ مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ حوصلہ ہی کی مدد سے وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ثابت قدم رہتا ہے حوصلہ ہی آدمی کے اندر اعلیٰ کردار پیدا کرتا ہے جو تمام ترقیوں اور کامیابیوں کو پانے کا واحد
حوصلہ مند انسان وہ ہے جو سطحی باتوں سے اوپر اٹھ کر سوچے ۔ جو ماحول سے غیر متاثر رہ کر اپنی رائے بنائے، خطرات جس کا راستہ نہ روکیں اور نقصانات جس کو دل شکستہ نہ کر سکیں۔ جو اپنے آپ میں جینے کی طاقت رکھتا ہو، خواہ تمام لوگ اس کا ساتھ چھوڑ دیں، خواہ اسباب کے نام کی کوئی چیز اس کے پاس باقی نہ رہے۔
بے حوصلگی سب سے بڑی کمزوری ہے اور حوصلہ سب سے بڑی طاقت۔ آدمی اگر بے حوصلہ ہو جائے تو ۹۹ چیزیں رکھتے ہوئے بھی وہ ایک چیز کھونے کی خاطر اپنا خاتمہ کرلے گا۔ اور اگر وہ اپنے حوصلہ کو باقی رکھ کے تو وہ ۹۹ چیزیں کھو کر ایک چیز کے بل پر دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا۔ بے حوصلہ آدمی مرا ہوا آدمی ہے، اور حوصلہ مند آدمی زندہ آدمی۔ بے حوصلہ آدمی جس چیز کو مشکل سمجھتا ہے، حوصلہ مند آدمی اس کو اپنے لئے زینہ بنا لیتا ہے۔ آدمی جہاں ایک عذر لے کر رک جاتا ہے، حوصلہ مند آدمی وہاں سے اپنے لئے آگے بڑھنے کا نیا راستہ پا لیتا ہے۔ بے حوصلہ انسان کی نظر واقعات کے تاریک پہلو پر ہوتی ہے اور حوصلہ مند انسان کی نظر واقعات کے روشن پہلو پر۔
ترقیوں کی تاریخ حوصلہ مند انسانوں کے عمل کی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔