Al-Risala · November 1993

شام کے بعد صبح

Al-Risala, November 1993, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص نے کہا کہ شام ہو گئی۔ دوسرا شخص بولا : یوں کہو کہ صبح آنے والی ہے ۔ معاملَات کو حال کے اعتبار سے دیکھیں تو بظاہر آپ کو تاریکی دکھائی دے گی ۔ لیکن اگر آپ معاملہ کو مستقبل کے اعتبار سے دیکھیں تو سامنے کے افق پر روشنی ابھرتی ہوئی نظر آنے لگے گی ۔

بیشتر لوگوں کی نظر اپنے آج پر ہوتی ہے ۔ اس لئے اگر ان کے آج کے حالات اچھے نہ ہوں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انھیں اچھی زندگی حاصل نہیں۔ حالاں کہ عقلمندی کی بات یہ ہے کہ آنے والے کل پر نظر رکھی جائے ۔ تجربات بتاتے ہیں کہ اکثر آنے والا کل ایسے مواقع لے کر آتا ہے جس کو اس سے پہلے آدمی نے سوچا بھی

زمین ہر لمحہ گھوم رہی ہے ۔ زمین کے اوپر بار بار شام بھی آتی ہے اور صبح بھی طلوع ہوتی ہے۔ لوگوں کی نظر صرف قریب پر ہو، وہ جب شام کو دیکھیں گے تو کہہ دیں گے کہ اب تو زندگی کی شام آگئی ۔ جو لوگ دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ شام کو شام کے اعتبار سے نہ دیکھو ۔ اس کو اس نظر سے دیکھو کہ وہ آنے والی صبح کی تمہید ہے۔

زندگی میں جب بھی کوئی نا موافق صورتِ حال پیش آئے تو وہ ایک نئی موافق صورتِ حال کی تمہید ہوتی وہ ایک نئے مستقبل کی خبر دیتی ہے ۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اپنے ذہن کو استعمال کرے۔ وہ اپنی سوچ کو حرکت میں لاکر آگے بڑھ جائے ۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ پاتا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جس کو اس نے نہیں پایا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑے کو کھوکر نہ زیادہ کو پانے کا موقع پھر بھی آدمی کے لئے باقی رہتا ہے۔ کو کھو کر افسوس کرتا ہے حالاں کہ ابھی پورا پہاڑ اس کے حوصلوں کے امتحان کے لئے موجود ہے ۔ وہ ایک قطرہ سے محرومی پر فریاد کرتا ہے ، وہ بھول جاتا ہے کہ ابھی تو خدا کی دنیا میں پورا سمندر باقی ہے جس کو پانے کے لئے وہ از سرِ نو اپنی کوششوں کو جاری کرسکے۔

دنیا میں کوئی کھونا آخری کھونا نہیں ۔ ہر کھونے کے بعد پانے کا نیا امکان آدمی کے لئے موجود رہتا عقل مند وہ ہے جو کھونے کو بھلا دے، وہ ہمیشہ پانے کی طرف دیکھتا رہے۔

Printed page