حکیما تدبیر
Al-Risala, November 1993, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
فساد صرف حکیمانہ تدبیروں سے ختم ہوتا ہے نہ کہ فساد ختم کرو کا مطالبہ کرنے یہ اصول بلا شبہ صد فی صد درست ہے۔ اس کے سوا فساد کے مسئلہ کا کوئی
دو انسانی گروہ جب ایک ساتھ رہیں گے تو عین فطری قانون کے تحت ایسا ہوگا کہ ان کے درمیان بار بار اختلاف اور نزاع کے مواقع پیش آئیں گے۔ مثلاً ایک کا نعرہ دوسرے کو برا لگے گا۔ ایک گروہ دوسرے گروہ کے عبادت خانہ کا وہ احترام نہ کرے گا جیسا کہ وہ گروہ کرتا ہے جس کا وہ عبادت خانہ ہے۔
اس طرح کی مختلف صورتیں ہیں جن میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے شکایت پیدا ہوگی۔ اس شکایت کا حل جوابی شکایت نہیں ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو نظر انداز کیا جائے۔ اختلافی امور میں رواداری اور تحمل کا اصول اختیار کرنا چاہئے نہ کہ نزاع اور جوابی کارروائی
ہم فطرت سے لڑ نہیں سکتے۔ اور اختلافی بات پیش آنے پر رد عمل کا طریقہ اختیار کر نا گو یا فطرت سے لڑنا ہے۔ کیوں کہ اس طرح کے اختلافات عین فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں فطرت سے مطابقت مسئلہ کا حل ہے ، فطرت سے ٹکر او کبھی مسئلہ کا حل نہیں بن سکتا۔ ہر مسئلہ کا حل ہے۔ مگر یہ حل صرف حکیمانہ تدبیر میں ہے۔ اگر ہم ایسا کر لیں کہ مسئلہ پیش آنے کے بعد ہم جھنجھلاہٹ کا شکار نہ ہوں، بلکہ ٹھنڈے طریقہ سے پوری صورت حال پر غور کریں۔ صرف مسئلہ کی حیثیت سے نہ دیکھیں ، اس کو ساکھ اور وقار کا معاملہ نہ بنائیں تو یقینی ہے کہ ہم ایسی تدبیر دریافت کریں گے جس کے ذریعہ اس مسئلہ کو آسانی کے ساتھ حل کیا جاسکے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو اپنے آپ کو منفی جذبات کا شکار ہونے سے بچائیے۔ ذہن کو صرف تدبیر ڈھونڈنے میں لگا دیجئے! اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ مسئلہ اس طرح حل کر لیا گیا ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔