سفر بندرابن
Al-Risala, November 1993, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ تعلیم یافتہ ہندو صاحبان نے بندرابن میں ایک چار روزہ سمواد پر یاس کا انتظام کیا تھا اس کی دعوت پر بندرابن اور متھرا کا سفر ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد حسب ذیل ہے۔ ۱۴ جنوری ۱۹۹۳ کی صبح کو ہم لوگ بذریعہ کار دہلی سے بندرابن کے لیے روانہ ہوئے۔ قافلہ میں چار آدمی تھے ڈاکٹر راج کمار بھاٹیا ، ڈاکٹر ہتیش شرما ، ڈاکٹر سریندر شرما، اور راقم الحروف۔ یہ گاڑی ڈاکٹر بھاٹیا پر وفیسر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی تھی اور وہ خود ہی اس کو چلا رہے تھے۔ راستہ میں مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ قافلہ کے دو آدمی جے پرکاش نرائن (۱۹۰۲-۱۹۷۹) کے ساتھیوں میں سے تھے، چنانچہ زیادہ تر گفتگو کا موضوع جے پرکاش نرائن کی ذات اور ان کا مشن رہا۔
میں نے کہا کہ جے پرکاش کو تھنکر کہا جاتا ہے۔ مگر ان کو تھنکر کہنا بہت مشکل ہے۔ میں کبھی ان سے ملا نہیں۔ مگر ان کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں بار بار اپنا نظریہ بدلتے رہے اور آخر وقت میں فکری بے اطمینانی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔ ایسے آدمی کو سیکر (seeker) کہنا چاہیے نہ کہ تھنکر۔
میں نے کہا کہ ۱۹۷۷ کے الیکشن میں جے پرکاش نرائن نے ٹوٹل ریولیوشن (پورن کرانتی) کا نعرہ دیا۔ انھوں نے اپنی تقریروں میں یہ تاثر دیا کہ کانگریس پارٹی کو الیکشن میں ہرانا ہی دیش میں پورن کرانتی لے آنا ہے۔ مگر واقعات نے ثابت کیا کہ یہ محض ان کی سادگی یا خوش فہمی تھی۔ کانگریس مکمل طور پر ہار گئی، اس کے باوجود مکمل انقلاب نہ آسکا ۔ الیکشن کی ہار جیت سے کسی ملک میں مکمل انقلاب نہیں آیا کرتا۔ اگر جے پرکاش نرائن تھنکر ہوتے تو وہ پیشگی طور پر اس کو جان لیتے ، مگر وہ اس کو نہ جان سکے۔
ایک صاحب نے جواب میں کہا کہ جے پرکاش نرائن بنیادی طور پر ایک شریف اور دیانتدار آدمی تھے۔ وہ فوری تاثر کے تحت ایک رائے قائم کرتے اور پھر کچھ دن بعد نئی رائے بنا لیتے تھے۔ یہ سب کچھ انسانی ہمدردی کے تحت ہوتا تھا۔ میں نے کہا کہ اگر اس کو مان لیا جائے تو
جے پرکاش نرائن ایک شریف انسان تھے نہ کہ مفکر انسان۔
بندرابن پہنچ کر ہم گیتا آشرم گئے۔ یہیں پر قیام اور اجلاس دونوں کا انتظام کیا گیا تھا آ شرم میں داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ اجلاس جاری ہے۔ چنانچہ ہم لوگ سیدھے آ شرم کے ہال میں پہنچے اور اجلاس میں شریک ہوگئے۔ اس ہال تک پہنچنے کے لئے جامع مسجد دہلی کی طرح اونچی سنگ مرمر کی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔
اس آ شرم میں ایک ہاسٹل ہے جس میں سنسکرت کے طلبہ کے لئے قیام کا انتظام ہے۔ یہ طلبہ شہر کے سنسکرت کالج میں پڑھتے ہیں اور ان کے لئے قیام و طعام کا انتظام آ شرم کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ تقریباً ۲۰ کی تعداد میں تھے۔
میں نے دیکھا کہ یہ نوجوان طلبہ ہر روز صبح سویرے ایک بڑے کمرہ میں جمع ہوتے ہیں اور گیتا کا پاٹھ کرتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے ہمارے یہاں تجوید کے مدارس میں ہوتا ہے۔ سامنے بیٹھ کر گیتا کے سنسکرت اشلوک اصول قرآت کے مطابق پڑھتا اور بقیہ تمام طلبہ اس کو دہراتے اس عمل کے خاتمہ پر سب مل کر ایک ہندی نظم پڑھتے تھے۔ اس کے چند اشعار یہ ہیں۔ پاٹھ گیتا کا سدا کرنا برہم ہے پاٹھ گیتا کا سدا کرنا ہی مانو دھرم ہے گیان گیتا کا سدا ہر دے میں دھرنا چاہئے منش کو ہر روز گیتا پاٹھ کرنا چاہئے میں نے پنڈت جی سے پوچھا کہ پورے دیش میں گیتا کے کتنے لاکھ حافظ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھ تو نہیں, شاید کچھ ہزار ہوں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آپ کو تو پوری گیتا یاد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہاں, کچھ کچھ۔ وہاں ۲۰ طالب علم تھے۔ سب کے سب معمولی گھروں کے دکھائی دئے۔ تاہم آ شرم کی عمارت کافی شاندار اور وسیع تھی۔
یہاں آگرہ کا ہندی اخبار دینک جاگرن (۱۵ جنوری ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس کے پہلے صفحہ کی کچھ سرخیاں یہ تھیں:
بمبئی میں دنگائیوں نے ۸ لوگوں کو زندہ پھونکا احمد آباد میں چھرے بازی کی چٹ پٹ وار داتیں مسجد ڈھانا بھاجپا کی سوچی سمجھی سازش (ارجن سنگھ)