Al-Risala · November 1993

مسلم دھارمک نیتاؤں کا اندولن اور تیز

Al-Risala, November 1993, pp. 29–32

By Maulana Wahiduddin Khan

ایودھیا کی طرح ہی ہم دلی کی جامع مسجد پر قبضہ کریں گے ۱۵ اگست کو ہمیں سیاسی آزادی ملی ۶ دسمبر کو ہمیں مذہبی آزادی ملی۔

بعض سرخیوں کو اشتعال انگیز سمجھ کر کوئی مسلمان غصہ ہو سکتا ہے۔ مگر میں نے ان سرخیوں کو پڑھ کر سوچا کہ اردو آج بھی ہندی لبی کے روپ میں زندہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم بول چال کی زبان آج بھی اس ملک میں اردو ہے۔ یہ بہت زیادہ قابلِ شکر بات ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور برادرانِ وطن کے درمیان آج بھی لسانی بعد (Language gap) نہیں پیدا ہوا۔ ۱۱۵جنوری کو میں دوپہر کا کھانا کھا کر اٹھا۔ باہر برآمدہ میں گیت آشرم کے دو طالب علم کھڑے ہوئے لوگوں کا ہاتھ دھلا رہے تھے۔ ایک طالب علم تولیہ لئے ہوئے کھڑا تھا اور دوسرا طالب علم مگ کے ذریعہ پانی ڈال رہا تھا۔ میں وہاں پہنچا تو سیمینار میں شرکت کرنے والے ایک صاحب جو سوٹ بوٹ میں تھے، وہ ان طالب علموں سے بات کر رہے تھے۔ میں آگے بڑھ کر ہاتھ دھونے لگا۔ گفتگو کی آواز کان میں آئی۔

مذکورہ صاحب نے طالب علموں سے پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیا پڑھتے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ ہم سنسکرت پڑھتے ہیں۔ موصوف نے لاپر واہی کے انداز میں کہا : سنسکرت پڑھنے سے کچھ نہیں سائنس پڑھو، کچھ اور پڑھو۔ جیون برباد مت کرو۔

یہ ریمارک دینے والے صاحب ایک مسلم نوجوان تھے۔ اس کے بعد اسی دن شام کو ان طالب علموں کے استاد نے اپنے کمرہ میں ہم چند لوگوں کو چائے پر بلایا۔ یہ نہایت صاف ستھرا دو کمروں کا ایک سیٹ تھا جس میں ٹیلی فون اور دوسری چیزیں موجود تھیں۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کو معلوم نہیں کہ آج کے ایک 'پنڈت' کے لئے کیا مواقع کھل چکے ہیں۔ وہ پرانے زمانہ کے روایتی پنڈت پر آج کے زمانہ کے جدید پنڈت کو قیاس کر رہے ہیں۔

۵ جنوری کی صبح کو اچانک شور و غل سنائی دیا۔ میں اپنے کمرہ سے باہر نکلا تو آشرم کے نوجوان طلبہ اپنے ہاتھوں میں ڈنڈا لئے دوڑ رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ آشرم میں کچھ بندر گھس آئے ہیں، ان کو بھگایا جا رہا ہے، کیوں کہ وہ جب آتے ہیں تو کچھ نہ کچھ نقصان کرتے ہیں۔

میں نے سوچا کہ بندر ان لوگوں کے نزدیک ایک مقدس جانور ہے ۔ مگر جب یہ مقدس جانور ان کے انٹرسٹ کے لئے خطرہ بن جائے تو وہ اس کو مارنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ خود اپنے عقیدہ کے مطابق ایک مقدس حیوان کے ساتھ ان کا یہ سلوک ہے تو عام انسانوں کے ساتھ ان کا سلوک کیوں کر مختلف ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص کا یہی معاملہ ہے۔ وہ کسی کو صرف اس وقت تک قابل احترام سمجھتا ہے جب تک وہ اس کے لئے بے ضرر حیثیت رکھتا ہو۔ جیسے ہی وہ ضرررساں دکھائی دے ، آدمی اس کا مخالف بن جائے گا ۔ اب اس کے پاس ایسے آدمی کے لئے ڈنڈا ہوگا نہ کہ پھول ۔

سیمنار کے شرکاء کے لئے قیام کا انتظام گیتا آشرم میں کیا گیا تھا۔ ایک کمرہ میں دو آدمی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ میرے ساتھ آرایس ایس کے ایک خاص رکن تھے۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ اور آرایس ایس کے انٹلیکچول میں شمار کئے جاتے تھے۔ کمرہ میں ایک ڈبل بیڈ تھا۔ اس پر ہم دونوں ایک ساتھ

وہ صبح کو فجر سے پہلے اٹھ جاتے تھے۔ میں بھی اسی وقت اٹھتا تھا۔ ایک روز جب وہ سو کر اٹھے تو بستر پر بیٹھے بیٹھے میں نے ان سے ایک سوال کیا۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ آپ لوگ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں۔ مسلمان کیا کریں کہ آپ لوگوں کی شکایت ان سے ختم ہو جائے ۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں یک طرفہ طور پر ہندوؤں سے ایڈجسٹ کر کے رہیں ۔

انھوں نے فوراً کہا: "نہیں مولانا صاحب ، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ مسلمان برابر کے ناگرک بن کر رہیں ۔ مسلمان بھائیوں سے ہم صرف ایک بات چاہتے ہیں۔ یہ کہ وہ اس دیش کو اپنا دیش سمجھیں “۔ یہ ایک ایسے شخص کے الفاظ تھے، جو آرایس ایس میں عہدیدار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ”بندرابن“ کو آپ پرانی کتابوں میں پڑھیں تو وہ ایک افسانوی مقام معلوم ہوگا ۔ ۱۴ جنوری ۱۹۹۳ کو۔ ان کے جب بندرابن کے اندر داخل ہوا تو وہ ایک عام قصبہ کی مانند تھا۔ آج وہاں ایسی چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو قدیم کتابوں میں لکھی ہوئی ملتی ہیں۔ یہاں ”سنواد پریاس“ گیتا آشرم میں رکھا گیا تھا ۔ گیتا آشرم کافی بڑا ہے۔ پہلے وہ قدیم

رڑ کا ایک مندر ہوگا مگر اب یہاں خالص جدید طرز کی ایک شاندار عمارت بنائی گئی ہے۔ کی تعلیم کا انتظام ہے۔ اور اسی کے ساتھ کئی ہال ہیں۔ ایک ہال میں ہمارے کانفرنس کی کارروائی

اس مضمون میں وہاں کی تمام کارروائیوں کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ باتوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ موجودہ ملکی حالات پر یہ سمینار چار دن تک جاری رہا۔ ہر ایک نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک روز میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو راشٹر عام حالات میں ہندوستان میں قائم نہیں ہو سکتا۔ آر ایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ محض اپنی طاقت سے اس ملک میں ہندو راشٹر قائم کر دیں۔

ہندوستان میں ہندو راشٹر کا قیام تمام تر مسلمانوں کے رویہ پر منحصر ہے۔ اگر مسلمان خاموشی کارویہ اختیار کر لیں، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا آر ایس ایس کی مخالفت نہ کریں تو ہندو راشٹر کے قیام کی تحریک کی ناکامی یقینی ہے۔ ہندو راشٹر صرف اس وقت قائم ہو سکے گا جب کہ اس کے علمبرداروں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہو جائے کہ مسلمان اپنے نادان لیڈروں کی غلط رہنمائی میں پڑ کر اس کے خلاف دھوم مچانا شروع کر دیں۔

بندر ابن کے اس سمینار میں مجھے اس حقیقت کا علم ہوا کہ ہندوؤں میں بھی ایک اعتبار سے وہی صورت حال ہے جو مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں میں آج جو لوگ مختلف سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں کام کر رہے ہیں، ان کی اکثریت انقلابی اسلام سے متاثر نظر آتی ہے۔ سبب بہت زیادہ نظر آتی نہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اسکول یا کالج کی تعلیم کے زمانہ میں ان لوگوں نے ان اسلامی مفکرین کی پر جوش کتابیں پڑھیں جن میں اسلام کو انقلابی انداز میں پیش کیا گیا پختگی سے پہلے کی اس عمر میں انھیں اسلام کی یہ تشریح اچھی لگی۔ اس کا اثر آج تک باقی ہے۔ میں سے ہر ایک کا مذہب مادی انٹرسٹ ہے۔ مگر ٹیبل ٹاک کے لئے وہ اپنے سابقہ تاثر کے تحت رستو را سلام کی انقلابی تشریح کو اختیار کئے ہوئے ہے۔

یہی معاملہ ہندوؤں کا ہے۔ آر ایس ایس اور اس طرح کی دوسری تحریکوں نے "ہندو انڈیا" کا جو رومانی تصور دیا وہ بہت سے ہندو نوجوانوں کو پسند آگیا۔ بعد کو اگر چہ وہ عام لوگوں کی طرح

دنیا کے کمانے میں مشغول ہو گئے۔ تاہم ایک دل پسند تاثر کے طور پر ہندو احیاء کا آئیڈیا بھی ان کے ذہن میں موجود رہا، جو لکھنے اور بولنے کی سطح پر حسب موقع ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ بس اس سے زیادہ اس کی کوئی انھیں میں سے ایک مسٹر ارن شوری ہیں۔

اس سیمینار کے شرکا میں اگر چہ اکثریت آرایس ایس کے ذہن کے لوگوں کی تھی۔ تاہم یہاں فکری غلبہ کا کوئی ماحول نہیں تھا۔ ہر ایک کو آزادی تھی کہ وہ کھلے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرے، مقررین کی کچھ باتیں یہاں مختصر طور پر نقل کی جاتی ہیں۔

سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ لوگوں میں (fixed notions) بنے ہوئے ہیں۔ لوگ پہلے ہی سے یہ مانے ہوئے رہتے ہیں کہ مسلمان ہے تو ایسا ہو گا اور ہندو ہے تو ایسا ہو گا۔ ہمیں سوچنے کا یہ طریقہ بدلنا ہو گا ورنہ نیشن بلڈنگ کا کام نہیں ہو سکتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دیش کے حالات اگر چہ بہت خراب ہیں۔ مگر حالات کا کچھ پازیٹو پہلو بھی ہے۔ مثلاً بابری مسجد کو ڈھایا گیا تو میں دیکھتا ہوں کہ اس کی چنتا جتنی مسلمان کو ہے اس سے زیادہ چنتا ہندوؤں کو ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آج یہ حالت ہے کہ دیش کا ایجنڈا پولیٹیکل لوگ طے کرتے ہیں۔ ایک در بھاگیہ کی بات ہے۔ دیش کو کچھ لوگوں کے پولیٹیکل انٹرسٹ پر بھینٹ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دیش کو الٹے راستہ پر لے جایا جا رہا ہے۔ نان اشوکوا شو بنیا جا اس کے خلاف ہمیں اٹھنا ہوگا ورنہ دیش تباہ ہو جائے گا۔

ایک ہندو نوجوان نے کہا کہ مسلمان آج بھی پاکستان کی طرف اپنا دھیان لگائے ہوئے ہیں۔ اسی لئے جب کرکٹ میں پاکستان کے کھلاڑی جیتتے ہیں تو وہ یہاں خوشی مناتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے راج موہن گاندھی نے کہا کہ ان چیزوں کو آپ اتنی زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ یہ تو خود آپ کی ذہنی ناپختگی کا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں لندن میں ہائی کمشنر تھا۔ وہاں میں نے دیکھا ہے کہ میچ میں اگر ہندوستانی کھلاڑی اچھا گیند مارتا تو وہاں کے ہندوستانی تالیاں بجاتے اور اگر پاکستانی کھلاڑی اچھا کھیل دکھاتا تو پاکستانی لوگ تالیاں بجاتے اور انگریز جو وہاں ہوتے وہ کسی پر فد نہ ہوتے بلکہ دونوں پر سکما دیتے۔ یہی آپ کو بھی کرنا چاہئے۔

Printed page