۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳
Al-Risala, November 1993, pp. 33–42
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر مہیش شرما نے کہا کہ آج کی سمیا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کا احترام نہیں۔ دوسروں میں بھی وہی ہے جو مجھ میں ہے، یہ دیکھنے کی طاقت لوگوں میں نہیں۔ تمام سمجھدار لوگوں کا کہنا ہے کہ دشمن اگر کوئی ہے تو وہ تمہارے اندر ہی ہے۔ پر اب ہم نے دشمن بدل لئے ہیں۔ اب ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دشمن ہمارے اندر نہیں ہے، باہر ہے۔ بھاجپا کا دشمن کانگریس، کانگریس کا دشمن یہ سوچ بدلنا ہوگا۔ اپنے بارہ میں کڑوی بات سننے کی آنکھنی ہونی چاہئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت بھارت میں ٹھٹکی ہوئی حالت ہے۔ ہم ۸۵ کروڑ لوگ آج ٹھٹکے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو نہیں معلوم کہ کدھر جائیں ۔
ایک صاحب نے کہا کہ دھرم کو آدھار بنا کر ہندو نے پہلے کام نہیں کیا۔ آج وہ دوسروں کی دیکھا دیکھی کر رہا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اٹل بہاری باجپئی نے چیتاونی دیتے ہوئے کہا ہے کہ رام کا مندر بننے میں بھارت کا مندر نہ ٹوٹ جائے۔
ایک ہندو ڈیلی گیٹ نے ۱۴ جنوری کی میٹنگ میں کہا کہ کیلاش پربت اور مان سرور جھیل ہندوں نیز بدھوں میں بہت اہم مقدس مقام مانا جاتا ہے۔ (Most important holy site)
ہند و تو اس کو بھگوان شیو کا سورگ مانتے ہیں۔ ہماری اتنی مقدس جگہ پر ۱۹۶۲ میں چین نے حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ لیکن آرایس ایس یا بھاجپا یا ہندو پریشد کے لوگ اس کے خلاف کوئی اندولن اور ایودھیا کے اوپر اتنی دھوم مچاتے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں۔ ایک صاحب نے کہا کہ رام منوہر لوہیا کہا کرتے تھے کہ دیش کو گرماؤ۔ چنانچہ ہم نے دیش مگر نتیجہ دیکھنے کے بعد اب سمجھ میں آتا ہے کہ لوہیا کا نعرہ ٹھیک نہیں تھا۔ زیادہ ٹھیک نعرہ یہ ہے کہ دیش کو ٹھنڈا کرو۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہمیں کسی بھی حال میں گھمنڈ نہیں کرنا چاہئے۔ ایک وقت تھا کہ کمیونزم
سمجھا جار ہا ہے۔
ایک صاحب گاندھیائی علوم کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ مہاتما گاندھی نے ایک بار اپنے اخبار میں لکھا تھا کہ ہندو مسلم ایکتا دیش کی ترقی کے لئے اتنا زیادہ ضروری
ہے کہ اس کے بغیر میں بھی دیش کو ترقی کی طرف نہیں لے جا سکتا۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہند ومذہب کا بنیادی عقیدہ سرو دھرم سمبھاؤ ہے۔ یعنی ہر مذہب کا احترام (respect to all religions) مگر آج جو لوگ ہندو کاز کے لئے اٹھے ہیں وہ اس بنیادی بات کو بھولتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس قسم کی باتوں کو سن کر میرا احساس یہ ہے کہ ہند و ضمیر تڑپ اٹھا ہے۔ اس لئے کہ سیکڑوں سال سے ہندوؤں کو بتایا جارہا تھا کہ سچائی ہر جگہ ہے۔ جس طرح مندر مقدس ہے اسی طرح مسجد اور گرجا بھی مقدس ہے۔ اس پر اضافہ یہ کہ تاریخ پر افسانہ (myth) کو ترجیح دی جا رہی اخلاق اور قانون کو توڑا جا رہا ہے، انسانیت کو بلڈوز کیا جا رہا ہے۔ اس انجام کو دیکھ کر سنگھ پریوار کے خیر خواہ بھی اس کی طرف سے متوحش ہو رہے ہیں۔
ایک دلت دانشور ناگپور سے آئے تھے۔ انھوں نے کافی جارحانہ انداز میں تقریر کی۔ نے اپنی انگریزی تقریر میں کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تاریخ کی غلطیوں کو درست کریں گے۔ کی غلطیاں تو اجودھیا کے علاوہ اور بھی ہیں۔ مسلمانوں سے پہلے برہمنوں نے بودھ مندروں کو توڑا اور ان کی جگہ پر ہند و مندر بنا دیا۔ پھر آپ ان تاریخی غلطیوں کی اصلاح کیوں نہیں انھوں نے کہا کہ ہری جنوں پر ماضی میں بہت زیادہ ظلم کئے گئے ۔ ہم ان کے بارہ میں بولتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ پچھلی باتوں کو بھول جاؤ ۔ پھر آپ بھی اسی طرح اجودھیا اور کاشی اور متھرا کی بات کو کیوں نہیں بھول جاتے۔ خود تو آپ یاد رکھنا چاہتے ہیں اور دوسروں سے کہتے ہیں کہ بھلا دو۔ ایک صاحب نے کہا کہ تلک اور گاندھی کا جھگڑا بر ہمن اور آبرہمن کا جھگڑا گویا کہ وہ جاتی وادی کا جھگڑا تھا۔ وہ کوئی نظریاتی جھگڑا نہ تھا۔ یہی آج بھی ہو رہا ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ میں اسکول کی تعلیم کے زمانہ میں آر ایس ایس سے قریب ہو گیا تھا۔ لیکن تب اور اب میں بہت انتر ہے۔ کل کی آرایس ایس اور آج کی آر ایس ایس میں بڑا فرق آگیا انھوں نے کہا کہ گاندھی کا نام سبھی لوگ لیتے ہیں۔ مگر ہم لوگ گاندھی کو صرف آدھا مانتے ہیں۔ آج خطرہ میں ڈیمو کریسی نہیں ہے۔ آج خطرہ میں دیش نہیں ہے۔ آج خطرہ میں ہند و نہیں ہے۔ خطرہ میں اگر کوئی چیز ہے تو وہ در اصل وہ لڑائی ہے جس کو مہاتما گاندھی نے ۱۹۴۷ تک پہنچایا تھا۔
مگر اس کے آگے ہم اس کو جاری نہ رکھ سکے۔
رام بہادر رائے نے کہا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ نے اگلے دس سال تک کا ایجنڈا طے کر دیا ہے۔ ۶ دسمبر کی گھٹنا نے طے کر دیا ہے کہ اگلے دس سال تک دیش کی بالی فیکس ہندو کے ارد گرد گھومے گی۔ ان کی تقریر ختم ہوئی تو دوسرے ہندو مقرر نے کہا: یہ دیش کے لئے بہت درگھٹنا کی بات ہوگی کہ دیش کا دس سال کا ایجنڈا صرف کوئی ایک دن طے کرے۔ میرا دل ایسی بات ماننے کے لئے تیار
ڈاکٹر راجکمار بھاٹیا اسکول کی زندگی سے آرایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں۔ والد آرایس ایس تھے۔ چنانچہ بیٹے بھی آرایس ایس سے وابستہ ہو گئے۔
میں نے ڈاکٹر بھاٹیا سے پوچھا کہ ہندو مسلم تعلق کو نارمل بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ دونوں میں (interaction) بڑھایا جائے۔ میں نے کہا کہ اور کوئی عملی چیز جو مسلم سے آپ چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اجودھیا اشو پر آپ لوگ راضی ہو جائیں۔ میں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کافی نہ ہو۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو و سنگھن کے لئے اینٹی مسلم فیلنگ ہونا ضروری ہے۔ اس لئے اگر اجودھیا اشو ختم ہو جائے تو آپ لوگ کوئی اور اشو ڈھونڈ کر کھڑا انھوں نے کہا کہ نہیں۔ اس کا ثبوت دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جیل کے زمانہ میں مسلمان اور آرایس ایس دونوں دوست بن گئے تھے۔
بی کے رائے، الہ آباد یونیورسٹی میں ہسٹری کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں کمبھ میلے میں وہاں ایک کروڑ سے زیادہ آدمی آتے ہیں۔ گرمی میں دیکھا کہ وہاں کوئی بھوکا نہیں رہتا۔ کے پاس ایک پیسہ نہ ہو تب بھی اس کو کھانا مل جاتا ہے۔ یہ دھرم کی طاقت ہے۔ ایک صاحب نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ پی اے سی میں افسر ہیں۔ کہا کہ ہندو دھرم کے مطابق سچائی کمی ہو سکتی ہے اس لئے ہندو ازم کا نباہ تو ہر ایک سے ہو سکتا مگر اسلام کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے مطابق، سچائی صرف ایک ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کا نباہ دوسروں سے کس طرح ہوگا۔
میں نے کہا کہ سچائی گئی ہے محض کہنے کی بات ہے۔ وہ عمل میں آنے والی نہیں۔ اگر وہ کوئی حقیقی
بات ہوتی تو ماضی میں برہمن لوگ بدھوؤں کے مندر نہ توڑتے۔ یا آج ہند تو کے علمبردار ۶ دسمبر کو بابری مسجد نہ توڑتے۔ میں نے کہا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ روزانہ کی زندگی میں گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہم طرح طرح کے اختلافات سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہاں ہم کیا کرتے ہیں۔ وہاں ہم برداشت کے اصول پر عمل کر کے زندگی گزارتے ہیں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی اختیار کرنا ہے۔ یعنی مذہبی عقائد کے اختلاف کے باوجود ٹالرنس (tolerance) ۔
"۱۹۴۷ کے بعد نیشن بلڈنگ کا کام نہ ہوسکا۔ ایک صاحب نے کہا۔ اپنی بھومیکا (ذمہ داری) کو پورا کرنے کا دھیان آج بھی لوگوں میں نہیں۔ ۶ دسمبر کے بعد نیشن بلڈنگ میرے نزدیک ایجنڈا میں نمبر ایک پر ہے۔
۱۹۸۴ء میں ہم لوگ بات کرتے تھے کہ کسی گھر میں ایک ویکیوم رہا ہو تو اس کے گھر میں کتنا زیادہ آتنک واد پیدا ہوگا۔ اب یہی بات اور زیادہ بڑھ کر ہمارے سامنے ہے۔ آج جن گھروں میں لوگ مرتے ہیں ان کے یہاں اور کتنا زیادہ آتنک وادی پیدا ہوں گے۔
اوشیش سوامی (رندرابن) نے کہا کہ اس شکتی کے نام تو انیک ہیں۔ لیکن شکتی ایک ہی ہے جسے جن مینا، خدا، گاڈ، رب، واہی گرو، نام انیک ہیں۔ کتو سمجھودن ایک ہی شکتی کو کیا جاتا ہے۔ جھگڑا پوجا کا نہیں ہے اور پوجا پاٹھتی کا بھی نہیں ہے۔ جھگڑا کیول اپنی دکانداری کا ہے۔ کیوں کہ کچھ لوگوں کی دکانداری انھیں مندروں کے ذریعہ سے چلتی ہے اس لئے آپسی تناؤ بھی دیکھنے میں ملتا ہے۔ یدری روحانی نظر سے دیکھیں تو سروم کھلو دم بر ہم یعنی برہم ہی سب میں سمایا ہوا ہے۔ جب سبھی میں برہم سمایا ہوا ہے تو جاتی گت جھگڑے، اونچ نیچ کے جھگڑے، بھاشائی جھگڑے رہ ہی کہاں اس لئے ہمیں اپنے نظریہ کو دنیا وی نظر کے ساتھ روحانی نظر والا بھی بنانا ہوگا۔ ایک بڑے ہال میں فرش بچھا ہوا ہے۔ سمینار میں حصہ لینے والے تقریبا ساٹھ آدمی دائرہ کی صورت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مختلف لوگ موجودہ ملکی حالت پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ میں ایک لڑکا ایک تھال لئے ہوئے داخل ہوتا ہے۔ تھا ل میں کٹی ہوئی مولی مع پتہ رکھی ہوئی ہے جس پر نمک چھڑکا ہوا ہے۔ وہ لڑکا تھا ل لئے ہوئے سب کے سامنے سے گزرتا ہے۔ ہر ایک بقدر خواہش مولی لے لیتا ہے اور اس کو کھانا شروع کر دیتا ہے۔ آخر میں چائے لائی جاتی ہے اور ہر ایک کے
سامنے چائے کی ایک پیالی رکھ دی جاتی ہے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بندرابن کا یہ سمینار کتنا سادہ تھا اور اس کی کارروائی کتنے بے تکلفی کے انداز میں کی گئی۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ کیوں کہ سادگی میری فطرت ہے۔ میں ہر معاملہ میں سادگی کو پسند کرتا ہوں۔
ایک صاحب نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ مد اکیلا ہے، دیش مد ہے، یا دھرم دیش پہلے ہے یا دھرم پہلے ہے۔ دھرم کو کچھ لوگوں نے مڑا بنایا۔ اس کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا کہ خود دیش خطرہ میں پڑگیا۔ اس لئے اب اس کو ختم کرو۔ دیش کو مداہناؤ۔
ایک صاحب نے کہا کہ جس طرح انگریزوں کے اسٹیچو یہاں غلامی کی یادگار تھے۔ ان کو ہم نے اسی طرح بابری مسجد جیسے ڈھانچے بھی مسلم غلامی کی یادگار ہیں۔ ان کو بھی توڑ کر ختم کرنا ہوگا۔ تک غلامی کی یہ یادگاریں کھڑی ہوئی ہیں، دیش میں شانتی آنے والی نہیں۔
ایک صاحب نے بابری مسجد ڈھانے کو عین درست بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتاکہ اس پر ہمارے لوگ معذرت کا انداز کیوں اختیار کرتے ہیں۔ اگر پندرہ اگست پر ہم کو کوئی شرم نہیں ہے تو ۶ دسمبر پر بھی ہم کو شرمنا نہیں چاہئے۔
اس سمینار میں ایک خاص تجربہ یہ ہوا کہ اگر مسلمان چپ رہیں تو خود ہند و لوگ ہم سے بہتر اور مؤثر انداز میں اس کا جواب دیں گے ۔ اس کا تجربہ بندرابن میں کئی بار ہوا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کسی مقرر نے مسلم دشمن تقریر کی ۔ میں چپ رہا۔ اس کے بعد کوئی ہندو اٹھا اور اس نے نہایت طاقت و رانداز میں اس کا جواب دیا، ایسا کہ اگر میں جواب دیتا تو شاید میں اتنا طاقت ور جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اودے پور کے کشور سنت (28271 Telephone) نے بڑی درد مندانہ تقریر کی۔ نے کہا کہ آج یہ لوگ ساری بات گاندھی کے نام پر کر رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہی گاندھی واد اس اندولن سے جو شکتی ابھری ہے وہ تو ہنسک شکتی ہے۔ پھر وہ گاندھی واد کیسے ہے۔ گاندھی وادا ہنسا کا نام ہے۔ میں نے گاندھی کے زمانہ کو دیکھا ہے۔ مگر آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر مجھے اپنا جیون بالکل نرر تھک لگتا ہے۔ نفرت کی آگ آج و یا پک ہے۔ گاندھی کا دیش اب بالکل اندھ کار ہے۔
ابن کی اس میٹنگ میں زدہ بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جو بھارتیہ جنتا پارٹی سے کسی نہ کسی نوعیت کا تعلق رکھتے تھے۔ مجھے تقریر کا موقع دیا گیا تو میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ کی تقریر میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے موجودہ سنگل پوائنٹ پروگرام (single-point programme) کے تحت کبھی مرکزی حکومت تک نہیں پہنچ سکتی۔ کچھ لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک قسم کی منتظر حکومت (government-in-waiting) کا درجہ دئے ہوئے ہیں، مگر موجودہ حالت میں ایسا ہونا ممکن نہیں میں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو یا ہندو راشٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔ مگر مذہب کی بنیاد پر سیاسی نظام بنانا یا یہ روح عصر (spirit of the age) کے خلاف ہے۔ اور جو نظریہ عصری مزاج کے خلاف ہو اس کو قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کی قریبی مثال مسلم ملکوں کا تجربہ ہے مصر، پاکستان، الجزائر، سوڈان اور دوسرے ملکوں میں کچھ مسلم جماعتوں نے اسلامی حکومت قائم کرنے کا نعرہ بلند کیا۔ انھوں نے بڑی بڑی قربانیاں بھی دیں۔ مگر ان کو صد فی صد ناکامی ہوئی۔ اور اس کی وجہ اصلایہ ہی تھی کہ مذہب کی بنیاد پر سیاسی نظریہ بنانا ایک ایسا نظریہ ہے جس کو وقت کی غالب سوچ کی تائید حاصل نہیں۔
میں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اگر مرکزی سرکار بناتی ہے تو اس سے مجھے نہ اختلاف ہے اور نہ اس کو میں کوئی خطرہ سمجھتا ہوں۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ "مندر" مسجد کے اشو کی بنیاد پر وہ کبھی مرکز میں نہیں پہنچ سکتی۔ مرکز میں طاقت حاصل کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کوئی ایسا اشو لینا ہوگا جو پورے ملک کی دل چسپی کا اشو ہو، جو دیش کو بنانے کا اشو ہو نہ کہ محدود طور پر مندر بنانے کا اشو۔
یہ عجیب بات ہے کہ عملی تجربہ کے بعد جو حالات سامنے آئے ، اس کے بعد خود بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ چنانچہ پارٹی کے بنگلور سشن (جون ۱۹۹۳) میں انھوں نے صاف طور پر اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کر دیا۔ پارٹی کے موجودہ صدر مسٹر لال کرشن آڈوانی نے کہا کہ اب ہمارا فوکس رام مندر بنانے پر نہیں ہوگا بلکہ بھارت کا مہامندر بنانے پر ہمیں ملک سے برٹش آچار کو ختم کرنا ہے اور یہاں سماجی نشاۃ ثانیہ (social renaissance) کا دور لے آنا ہے۔
ایک صاحب نے غلطی کی تصحیح کے نظریہ پر سخت تنقید کی ۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح مسجد ڈھانے کے عمل کو اگر ایک بار آپ جائز (legitimate) مان لیں تو پھر مسئلہ مسجد تک نہیں رہے گا ۔ آگے تک جائے گا۔ بس اب ختم کرو ، یہ کہنے کی ہمت ہمارے اندر ہونی چاہئے۔ ورنہ آئندہ بات یہاں تک پہنچے گی کہ ایک آدمی آپ کے گھر پہنچے گا اور کہے گا کہ یہ زمین تمہارے دادا نے میرے دادا سے زبردستی لے لی تھی ، اب میں دوبارہ اس پر قبضہ کروں گا۔ اس کے بعد ہمارے سماج کا کیا حال ہو گا ۔ اس کو سوچئے ۔ اس طرح کے عمل سے ہنسا کو (legitimacy) ملتی ہے۔ ایک ہندو اسکالر نے اپنی تقریر کے دوران یہ واقعہ بتایا کہ گاندھی جی نے لکھا ہے کہ سیکنڈ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس (۱۹۳۱) کے موقع پر گاندھی جی کی ملاقات علامہ اقبال سے لندن میں ہوئی۔ اقبال نے اپنا تعارف کراتے ہوئے گاندھی جی سے کہا : میں کشمیری پنڈت ہوں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں ہندو اور مسلمان دونوں عام طور پر اسی طرح اپنے پن کے انداز میں بات کرتے تھے۔ مگر اب "دو قومی نظریہ" کی مصنوعی تحریک کے نتیجہ میں دونوں طرف کا مزاج بدل گیا ہے ۔ اب اس طرح کی بول بولنے میں قومی عصبیت حائل ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر مہیش شرما نو جوانی کی عمر سے آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔ ایک روز گفتگو کے دوران میں نے کہا اس وقت قومی ایکتا لانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے ، وہ ٹالرنس ہے۔
انھوں نے کہا کہ گر وگو لوالکر ٹالرنس کے شبد کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں کو صرف ٹالریٹ نہیں کرتے ، ہم تو دوسروں کا سواگت کرتے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ۔ میں سچا تو تم بھی سچے۔
کئی لوگوں نے یہ بات کہی کہ دھرم سے متعلق جھگڑوں میں ہم کو زیادہ توجہ نہیں دینا چاہئے۔ توجہ کے قابل دوسرے اشو ہیں ، مثلاً تعلیم ، اقتصادیات ، افراد کے اندر نیشنل کیریکٹر پیدا کرنا۔ آج سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ نئی نسل کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دیش کی ترقی میں اپنا صحیح رول ادا کر سکے۔
جن ستا کے پتر کار منسٹر رام بہادر رائے سب سے کم بولتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ جب
کبھی وہ بولتے ہیں تو لوگ بہت توجہ کے ساتھ ان کی بات سنتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ بعض لوگ زیادہ بولنے کو اہم سمجھتے ہیں۔ مگر کم بولنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مگر کم بولنے کے لئے تحمل کی طاقت درکار ہے، اور تحمل کی طاقت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ دیش میں ہنسا (تشدد) بہت بڑھ گیا ہے۔ ہم لوگ ہنسا کا رد و دہ اہنسا سے کریں گے، یہ طے کر کے یہاں سے ہمیں اٹھنا ہے۔
ہم لوگوں کو ہر طرح کے بھید بھاؤ سے اوپر اٹھنا ہے۔ انسان سب سے بڑھ کر ہے، یہ مان کر یہاں سے جانا ہے۔ انسان پہلے ہے اور دھرم اور پالی ٹیکس سب اس کے بعد ہے۔ مسٹر راج نرائن سنگھ (P.A.C) اعظم گڑھ میں پولیس افسر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کو دیش کے پچھلے پرو رج کو اپنا پر ویج ماننا ہوگا۔ اس کے بنا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک صحیح اور باقی سب غلط ہیں تو ایسی حالت میں ایڈ جسٹمنٹ اور بھائی چارہ کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کی نظر میں ہند و سب کے سب کافر ہیں تو دونوں میں برابری کا تعلق کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو ایسے تمام عقیدوں کو (disown) کرنا ہو گا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے سمبندھ میں یہ ایک بہت پورن مدعا ہے۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ پاکستان اگر کرکٹ جیتے تو وہ یہاں لڈو بانٹتے ہیں، پھر ان کی دیش بھگتی پر کیسے نہ شبہ کیا جائے۔
ایک روز کانفرنس کے اجلاس میں ایک انتہا پسند ہندو نے بڑی گرما گرم تقریر کی۔ نقطہ نظر سے وہ کافی اشتعال انگیز تھی۔ میں خاموشی کے ساتھ تقریر سنتا رہا۔ اس کے بعد وقفہ ہوا تو میں کانفرنس ہال کے باہر نکلا۔ میں نے دیکھا باہر بالکل دوسرا منظر ہے۔ ہال کے باہر مقرر کی "اشتعال انگیزی" کا کوئی اثر نہ تھا۔
یہاں اب بھی درخت اسی طرح ہریالی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ آسمان کی وسعتیں بدستور اپنی جگہ قائم تھیں۔ سورج اپنی روایتی شان کے ساتھ اب بھی اپنی روشنی پھیلائے ہوئے تھا چڑیوں کی آوازیں اس طرح سنائی دے رہی تھیں جیسے کہ انھیں ان باتوں کی کوئی پروا ہی نہ ہو۔ دوسری طرف مقامی باز ار میں دیکھا تو یہاں بھی لوگ اسی طرح لین دین میں مشغول تھے۔
وہ اس طرح اپنے اپنے کاموں میں سرگرم تھے جیسے کہ وہ ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ وہ چیز جس سے لوگ بھڑکتے ہیں وہ تو صرف کانفرنس کے کمرہ کی گونج ہے۔ وہ بس ایک وقتی آواز ہے جو کبھی کبھی اخباروں میں چھپ جاتی ہے۔ اس کے سوا بقیہ ساری انسانیت اور بقیہ تمام کائنات کے لئے وہ گویا ایک نہ ہونے والی بات (non-event) ہے۔ قسم کے الفاظ سے غیر متاثرہ رہ کر وہ اپنے فطری راستہ پر چل رہی ہے۔ جو واقعہ وسیع تر دنیا کے اعتبار سے اتنا کم اہم ہو اس پر مشتعل ہونے کی کیا ضرورت۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہم لوگ تنتر کی بات کرتے ہیں۔ مگر ہم اس کو زور زبردستی سے لانا یہ تو تضاد بات ہے۔ جب جب ہم کروانے اور منوانے کی بات کرتے ہیں تو ہم ہننا کی بات کرنے لگتے ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کو اس دیش میں لوگ تنتر لانا ہے یا ہنسا وا دلانا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ جے پرکاش کے آندولن میں ہم لوگ بہت بڑی تعداد میں جڑے تھے، ہم کو آشا تھی کہ اس سے کچھ اچھا نکلے گا۔ مگر جے پرکاش یہ کہہ کر مرے کہ میری تو کوئی سنتا نہیں۔ اسی طرح گاندھی جی آزادی کے بعد یہ کہہ کر مرے کہ اب میری نہیں چلتی۔ ایک صاحب نے کہا کہ اگر انگریز کا راج برا تھا تو باہر کا راج کیوں برا نہیں تھا۔ حکومت اگر غلامی تھی تو باہر کی حکومت کیوں غلامی نہیں تھی۔
ایک صاحب نے اپنی تقریر ان الفاظ کے ساتھ شروع کی: میں تو سننے کے لئے آیا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے بولنا شروع کیا تو سب سے زیادہ لمبی تقریر را نہیں نے کی۔ مزید یہ کہ سب سے زیادہ زور زور سے بھی وہی بولے۔
گاندھی جی کے پوتے راج موہن گاندھی نے کافی مایوسانہ انداز میں تقریر کی۔ نے کہا کہ بھارت کے سب لوگ بھارتیہ ہیں، یہ میں مانتا ہوں۔ مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کی سوچ یہ نہیں۔ آج ہی میں نے اخبار میں پڑھا کہ بمبئی کے کچھ نوجوانوں نے کچھ لوگوں کو پکڑا اور ان سے زبردستی ”جے شری رام“ کہلایا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آزادی دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔ اگر اس دیش کا مسلمان اپنے آپ کو ہندو نہیں کہتا تو کیا زبردستی اس
ے کہلوانا چاہتے ہیں کہ میں ہندو ہوں۔
۶ دسمبر کو اجودھیا میں جو ہوا اس سے سارے دیش میں الگاواد بڑھے گا۔ پھر دیش کہاں جائے گا۔ اگر اجودھیا پر بات نہیں رکتی تو اس کے بعد کیا ہو جائے گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
اب کیا کرنا چاہئے، اس کے لئے میرے پاس کوئی سجھاؤ نہیں ہے۔ لیکن اگر بات ایودھیا پر رک جائے تو نئی شروعات ہو سکتی ہے۔ وہ جو مانگ ہے کاشی اور متھرا کی، اسے تو چھوڑ دینا اگر ہم اس کو نہیں چھوڑ سکتے تو پھر تو مجھ کو اندھکار ہی اندھکار دکھائی دیتا ہے۔ برند را بن ہندوؤں کا مقدس شہر ہے۔ یہاں تقریباً پانچ ہزار مندر ہیں، کئی سو کی تعداد میں آشر م ہیں۔ یہاں ہمارا قیام گیتا آشرم میں نہ تھا۔ اس نام سے تقریباً دو درجن آشرم مختلف مقامات پر ہیں۔ ان سب کا ہیڈ کوارٹر ہر دوار میں ہے۔
مقامی سنسکرت ود یا لیہ کے ۲۰ طلبہ آشرم کے ہوسٹل میں رہتے ہیں۔ یہ سب برہمن کے لڑکے ہیں۔ یہاں تعلیم و تربیت پانے کے بعد وہ اپنے وطن چلے جائیں گے اور وہاں پنڈت کا کام سنبھا لیں گے۔ کی ضرورت کی تمام چیزیں یہاں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ آشرم کی تعمیر بالکل جدید انداز میں ہوئی ہے۔ پورا فرش سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ طلبہ کو نہایت صاف ستھر اکھانا دیا جاتا ہے۔ اس کا رسوئی گھر مجھے بہت پسند آیا۔ یہاں روزانہ تقریباً تین سو آدمی کا کھانا تیار کیا یہ ایک بڑے کمرہ میں واقع تھا۔ میں نے اندر کی طرف دیکھا تو درمیان میں ایک بڑا سا چو کور توارکھا ہوا تھا۔ اس کے اوپر یک وقت پندرہ روٹیاں پکائی جا سکتی ہیں۔ کے نیچے گیس کا چولھا جل رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ آشرم کے پاس چالیس گیس سلنڈر کا لائسنس ہے۔ آشرم کے طلبہ صبح ۴ بجے اٹھ جاتے ہیں۔ ہر لڑکا سب سے پہلے اشنان کرتا ہے ۔ اس کے بعد تیار ہو کر ایک بڑے کمرہ میں سب کے سب جمع ہو جاتے ہیں۔ سوامی او شیشانند ان کو گیتا کا پاٹھ کراتے ہیں۔ آخر میں سب مل کر ایک ہندی نظم پڑھتے ہیں۔ آر ایس ایس کے ایک دانشور نے کہا کہ دیش بنانا ہے، یہی اصل مدعا ہے، ”دیش بنا نا ہے “ یہ کام میرے حساب سے دس بارہ سال سے نہیں ہورہا ہے۔ کون بنا رہا ہے، کون بنائے