گا۔ مجھے کوئی نہیں لاجو کہے کہ میں بناؤں گا۔ “
Al-Risala, November 1993, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
”راج نیتی نے دیش بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ بلکہ اس کام کو بگاڑا اور اتنا زیادہ بگاڑا کہ وہ مجرم ہیں۔ ان کے ساتھ جو بھی کیا جائے کم ہے: ہر ویکتی میں یہ بھاؤ نا آنا چاہئے کہ”میں دیش بناؤں گا‘‘۔ انھوں نے کہا کہ رچناتمک چھپیتیں آر ایس ایس نے ۶۰ سال تک کام کیا ہے۔ اب ہم کو دیش بنانے کے لئے راج نیتک چھپیتر کو لینا ہوگا۔
اس قسم کی باتوں کو سن کر مجھے غصہ نہیں آتا۔ بلکہ میں سوچتا ہوں کہ موجودہ اتھل پتھل شاید اس لئے ہورہی ہے کہ ہند و ازم جو ابھی تک صرف نظری طور پر قابل رد تھا، وہ عملی اعتبار سے بھی قابل رد ہو جائے۔
۱۶ جنوری ۱۹۹۳ کی صبح کو میں بندرا بن سے متھرا گیا۔ اس سفر کا مقصد کرشن جنم استھان کے معاملہ کو براہ راست طور پر دیکھنا اور سمجھنا تھا۔ میرے ساتھ ڈاکٹر مہیش شرما، ڈاکٹر راج کمار بھاٹیا، مسٹر رام بہادر رائے بھی تھے۔
وہاں میں نے دیکھا کہ کرشن جنم استھان کے نام سے ایک بہت بڑا کامپلکس بنا ہوا ہے اور مسجد اس سے بالکل الگ ہے۔ کرشن کا جنم استھان پوری طرح مندر کے احاطہ میں ہے۔ وہاں روزانہ درشن اور پوجا کا عمل جاری ہے۔ ہم لوگ جب اس خاص کمرہ کو دیکھ کر باہر آئے جس کو کرشن کا جنم استھان کہا جاتا ہے تو مسٹر رام بہادر رائے نے کہا: متھرا اور کاشی کو اجودھیا کی کٹگری میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ کرشن کا جنم استھان تو مسجد میں شامل ہی نہیں۔ دوسرے صاحب نے کہا: یہاں جنم استھان پر قبضہ کا جھگڑا نہیں ہے۔ یہاں یہ جھگڑا ہے کہ جنم استھان کا دوار کدھر سے ہو۔ یہ لوگ مسجد کی طرف اس کا دوار کھولنا چاہتے ہیں۔ کرشن جنم استھان کی سیڑھی کے پاس ایک بڑا سا بورڈ رکھا ہوا ہے۔ اس پر ہندی میں کئی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ اس پر درج ہے کہ شری کرشن کا اوتار اس جگہ پر ۳۱۶۸ ق م میں ہوا تھا۔ مندر کو پہلی بار محمود غزنوی نے ۱۰۱۷ء میں توڑا۔ ۱۱۵۰ء میں راجہ وجے پال نے دوبارہ سے اس کو بنوایا۔ سکندر لودی نے سولھویں صدی میں اس کو پھر توڑا۔ اس کے بعد ۱۵۱۴ء میں ویر سنگھ دیو نے اس مندر کو پھر بنوایا۔ اس کے بعد اورنگ زیب نے ۱۶۶۹ء میں اس کو توڑا، اور روند ۴۳ الرسائل نومبر ۱۹۹۳
کی زمین کا بڑا حصہ لے کر یہاں مسجد بنوائی۔ اب پھر یہاں زیادہ بڑے پیمانے پر مندر کا پلک بنوایا جارہا ہے۔
کرشن جنم استھان کے اوپر سے مسجد دکھائی دے رہی تھی۔ مگر وہاں پہنچنے کا کوئی اچھا راستہ نہیں آدمی ایک کچے اور تنگ راستہ سے گزر کر ایک گہرے نالہ کے سامنے پہنچتا ہے۔ اس نالہ پر کوئی پل اس کے اندر اتر کر اس کو پار کرنا پڑتا ہے۔ ان مراحل سے گزر کر ہی ہم لوگ مسجد کے پاس
یہ ایک خوبصورت شاہی دور کی مسجد ہے، اس کے سامنے ایک اونچا گیٹ ہے جو بعد کو ۱۳۴۶ھ میں علی خاں، رئیس مسعود آباد نے بنوایا تھا۔ اس کے اوپر ایک فارسی قطعہ ہے۔ ایک شعر یہ ہے:
بکرد انجمن انتظامیہ آں کار صدائے آفریں برخاست از صغار و کبار اس مسجد کے پاس کچھ مسلمان آباد ہیں۔ ان کے تقریباً ۲۰۰ گھر ہیں۔ یہ لوگ گائے اور بھینس کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہاں ہر طرف گندگی اور بے ترتیبی کے مناظر تھے۔ پورا محلہ کوڑے خانہ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کچھ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک ظہور محمد صاحب تھے۔ کے امام صاحب سے ملاقات نہ ہوسکی۔
معلوم ہوا کہ مسجد میں پانچ وقت نماز ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز پوری مسجد بھر جاتی ہے۔ ظہور محمد (۷۵سال) مسجد کے پاس رہتے ہیں۔ ان سے تفصیلی گفت گو ہوئی۔ مسلمانوں کی طرح بھینس کا کام کرتے ہیں۔ ان کا بیان یہ ہے کہ ۱۹۵۴ تک یہاں سب مسلمانوں کی پیچھے کی جگہ خالی تھی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھگڑا ہوا۔ مقدمہ قائم ہوا۔ نے صلح کرائی۔ مسلمان اس پر راضی ہوئے کہ خالی جگہ مندر کے لئے دیدی جائے۔ کوتوال نے کہا کہ ہندو لوگ یہاں مندر بنائیں تو آپ لوگوں کو اعتراض تو نہیں ہوگا۔ مسلمانوں نے کہا کہ نہیں، اگر وہ اپنی ذاتی کوئی بنائیں تو ہم کو اعتراض ہوگا۔ اگر وہ مندر بنائیں تو ہم کو کوئی اعتراض نہیں۔ ظہور محمد صاحب نے کہا میں قوم سے جاٹ، مذہب سے مسلمان اور پیشہ سے گھوسی ہوں۔
ڈاکٹر سریندر شرما، بندرا بن (۶۵ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے متھرا کے بارہ میں حسب ذیل کہانی سنائی: یہاں پہلے سے کیشو دیو جی کا مندر تھا۔ اس کو کیشو دیو کڑا کہا جاتا تھا۔ اور نگ زیب نے اس مندر کو توڑا اور اسی کی نیو پر مسجد بنائی۔ مرہٹہ کا راج ہوا تو انھوں نے اس کو نزل بھول ڈ کلیئر کر دیا۔ مگر بنوایا نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ادھیکار آ گیا تب بھی نزول کمپنی کے زمانہ میں نیلامی ہوئی۔ تقریباً چودہ سور و پیہ میں راجہ ٹینی مل نے سارے چھیترا کو خرید لیا۔ پھر اس کے بعد اسی چھیترا میں ریلوے لائن نکلی۔ ریلوے لائن نے معاوضہ راجہ مسلمانوں نے برٹش گورنمنٹ کے ٹائم میں دعویٰ پیش کیا کہ اس کو نہیں دیا جائے۔ میں مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ میں بھی خارج ہو گیا۔ ۱۹۲۸ میں مسلمانوں کی طرف سے پھر مقدمہ دائر کیا گیا۔ ۱۹۳۲ میں فیصلہ ہوا۔ اس فیصلہ میں اس کی پوری ہسٹری شامل کی اب منوہر لال شرما ایڈوکیٹ نے رٹ دائر کی ہے الہ آباد ہائی کورٹ میں۔ اس میں معاہدہ کو کالعدم کہنے کو کہا گیا ہے۔
۱۶ جنوری ۱۹۹۳ کی شام کو دہلی واپس آیا۔ جب گیتا آشرم سے نکل کر ہماری گاڑی بندرا بن کے بازار سے گزری تو میں نے دیکھا کہ بازار کے لوگ بدستور اپنی تجارتی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ یہاں ہند و اور مسلم سوال کو بھول کر لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کمانا اور کھانا ہے۔ بھاشتروں سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں۔
شہر سے باہر نکلے تو دنیا اور زیادہ وسیع تھی۔ یہاں فطرت کا ماحول ایک آفاقی پیغام دے آسمان کی وسعتیں بدستور قائم تھیں۔ درخت بدستور اپنی ہریالی دکھا رہے تھے۔ چاند کا نظام بدستور اپنی جگہ قائم تھا۔ ہواؤں کے جھونکے بدستور اپنا سہانا پیغام دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ لوگ اشتعال انگیز باتوں پر بھڑکتے ہیں، مگر جو آواز اتنی بے قیمت ہو کہ بولنے کے ساتھ ہی ہوا میں تحلیل ہو کر رہ جائے۔ یا اخبار میں چھپ کر شام تک ردی کی ٹوکری میں پہنچنے والی ہو، اس پر بھڑکنے یا مشتعل ہونے کی کیا ضرورت۔