Al-Risala · December 1993

قرآنی ہدایت

Al-Risala, December 1993, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں ان کو تم برا نہ ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر بے علمی کی بنا پر اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظر میں اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے (الانعام ۱۰۹)

لوگوں نے اللہ کے سوا جو معبود بنائے ہیں، ایک توحید پرست اگر ان میں سے کسی معبود کو برا کہے تو اپنے خیال کے مطابق وہ ایک بری چیز کو برا کہہ رہا ہوگا۔ لیکن دوسرے لوگ چونکہ اس کو معبود بر حق فرض کیے ہوئے ہیں اس لیے وہ بھڑک اٹھیں گے اور جھوٹے معبود کی حمایت میں سچے معبود کو برا کہنا شروع کر دیں گے۔

اس سے اجتماعی معاملات میں اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں مومن کو ایسا نہیں کرنا ہے کہ ایک عمل اگر قانونی اعتبار سے درست ہے تو اس کو وہ فوراً بلکہ اس کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ دوسروں کی طرف سے اس کا کیا رد عمل سامنے آئے گا۔ اگر دوسروں کی طرف سے برا رد عمل سامنے آنے والا ہو تو مومن پر لازم ہے کہ ایسے عمل سے مکمل پر ہیز کرے۔

اس قرآنی حکم کی روشنی میں دیکھا جائے تو انڈیا کے مسلمانوں نے بار بار اس کے خلاف کیا ہے۔ مثلاً ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں نے مسلم یونی ورسٹی کے مسئلہ پر احتجاجی تحریک چلائی۔ اپنے نزدیک وہ اپنے ایک دستوری حق کے لیے لڑ رہے تھے۔ مگر انتہا پسند ہندوؤں نے اپنے ذہن کے مطابق اس کو یہ حیثیت دی کہ مسلمان دوبارہ یہاں ایک منی پاکستان بنانا چاہتا مسلمانوں نے شاہ بانو کے معاملہ میں احتجاجی تحریک چلائی۔ وہ سادہ طور پر سمجھتے تھے کہ وہ مداخلت فی الدین کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں مگر ہندو انتہا پسندوں نے اپنے ذہن کے مطابق، اس کا یہ مطلب سمجھا کہ مسلمان اس ملک میں ایک ایسے امتیازی گروہ کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں جن کو یہ حق ہو کہ وہ جب چاہیں عدالتی حکم کو ماننے سے انکار کر دیں۔ اسلامی عمل وہ ہے جس کا نقشہ نتیجہ کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہو۔

Printed page