بولنا، چپ رہنا
Al-Risala, December 1993, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بار ایک سینئر صحافی نے پبلک سیکٹر کمپنیوں کے تعلقات عامہ کے افسروں سے پریس کے رول کے موضوع پر خطاب کیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ بیرونی اخبارات میں ہندوستان کے بارہ میں بہت کم خبریں شائع ہوتی ہیں۔ البتہ ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو جن سے اس کی بدنامی ہوتی ہے ، بہت اچھالا جاتا ہے ۔
صحافی نے کہا کہ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ اس دنیا میں صرف طاقت ور لوگوں کو عزت اور نیک نامی ملتی ہے ، ان لوگوں کو نہیں جو آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر پانچ جاپانیوں کا کوئی وفد کہیں جاتا ہے تو ملاقات کے وقت صرف ایک آدمی بولتا ہے ۔ اور باقی افراد سر ہلا ہلا کر اس کی تائید کرتے ہیں۔ برعکس اگر پانچ ہندوستانی افراد کہیں جاتے ہیں تو وفد کا سربراہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو باقی چار افراد اس کو بیچ بیچ میں ٹوکتے ہیں ، وہ اس کی تردید کرتے رہتے ہیں (چندر کانت سروانا، جنرل منیجر بی ایچ ای ایل ، مستقبل ، نئی دہلی)
بولنا بلا شبہ ایک ضروری کام ہے ۔ مگر بہت سے لوگوں کو چپ ہونا پڑتا ہے ، اس کے بعد ہی ایک شخص کو موقع ملتا ہے کہ وہ بولے ۔ جنہیں چپ رہنا ہے ، اگر وہ چپ نہ ہوں تو جس کو بولنا ہے وہ بھی بولنے کا کام نہ کر سکے گا۔
کیا وجہ ہے کہ لوگ زیادہ بولتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ سوچے بغیر بولنا چاہتے ہیں۔ سوچنا ایک محنت ہے ، آدمی محنت کرنا نہیں چاہتا ، اس لیے وہ ایسا کرتا ہے کہ جو خیال دماغ میں آیا ، فوراً اس کو زبان سے اگل دیا۔ آدمی اگر بولنے سے پہلے سوچے تو وہ بیش تر حالات میں بولنے سے رک جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ بولنے سے زیادہ بڑا کام سننا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کا کلام سنے۔ اس پر غور کرے ۔ اس کو اچھی طرح ہضم کرے ۔ اس کے بعد جب ضرورت ہو تو بولے ۔ کے لیے بھی بولنا اس وقت درست ہے جب کہ سننے والے لوگ سننے کے لیے تیار ہوں۔
اگر وہ کہنے کے قابل بات ہو تو کے ور نہ چپ رہے۔
بولنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس کا بولنا کسی کی بات میں خلل ڈالنے کا سبب تو نہیں بن رہا ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی خیال رینگ گیا تو وہ فوراً ہی اس کو اگلنا شروع کر دیں گے۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ان کا خیال کیا اظہار کے قابل ہے یا نہیں۔
اظہار کے قابل بات کا بھی ہر حال میں اظہار کرنا ضروری نہیں۔ اگر ایک شخص بول رہا ہے اور آپ کا اظہار خیال اس کی بات میں صرف خلل ڈالنے کے ہم معنی بننے والا ہے تو ایسی حالت میں فرض کے درجہ میں ضروری ہو جاتا ہے کہ آدمی چپ رہے۔ ایسے موقع پر چپ رہنا ایک خدمت ہے اور بولنا محض خلل اندازی۔
درست اور مفید بولنا یہ ہے کہ آدمی بولنے سے پہلے چپ ہونے کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ وہ دوسروں کو سنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو اپنی بات کا مخاطب بنائے ۔ بولنے سے پہلے چپ ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے اپنی بات پر غور کرے۔ وہ اس کے موافق اور مخالف پہلوؤں کا جائزہ لے۔ وہ اس سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرے ۔ اپنی بات پر یقین کر لینے سے پہلے وہ اپنی بات کی تحقیق کرے۔ کی سوچ اور اپنی سوچ میں تقابل کرے اور دیکھے کہ کیا واقعی اس کے پاس ایسے طاقت ور دلائل ہیں جو دوسروں کو مطمئن کر سکیں ۔
بولنا برائے بولنا اس دنیا میں کوئی چیز نہیں۔ بولنا وہی بولنا ہے جس سے کوئی واقعی مقصد پورا ہوتا ہو۔ اور ایسا بولنا کسی شخص کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ . منٹ بولنے کے لیے اس نے اس سے پہلے دس گھنٹہ اس پر غور کیا ہو۔