Al-Risala · December 1993

قول سدید

Al-Risala, December 1993, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

يَا ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا اے ایماں والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات قَوْلاً سَدِيداً - يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ کہو ۔ اللہ تمہارے اعمال کو درست کر دے گا اور وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظيماً اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ (۳۳ / ۴۰ - ۴۱)

قرآن کی اس آیت میں اہل ایمان کو قولِ سدید کا حکم دیا گیا ہے۔ قولِ سدید کا مطلب ہے درست بات، ٹھیک بات ۔ دوسرے لفظوں میں مطابقِ ِواقعہ بات۔ یعنی یعنی کوئی معاملہ جیسا ہے ٹھیک ویسا ہی اس کو بیان کرنا۔ بتایا گیا ہے کہ اگر تم نے قولِ سدید کا اہتمام کیا تو تمہارے اعمال درست ہو جائیں گے اور تم اللہ کی مدد سے کامیاب رہو گے ۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام معاملات بگڑے ہوئے ہیں۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کے یہاں قولِ سدید کا اہتمام باقی نہیں رہا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان ایسے رہنما اٹھے جو یا تو شاعر تھے یا خطیب یا انشا پرداز، اور شاعر اور خطیب اور انشا پرداز کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر سدید انداز میں کلام کرتا ہے۔

مثال کے طور پر اقبال (۱۹۳۸- ۱۸۷۷) کو مسلمانوں کے درمیان "مفکرِ اسلام " کا درجہ حاصل ہے۔ موجودہ مسلمانوں پر غالباً سب سے زیادہ اثر اقبال کا ہوا ہے۔ اقبال بنیادی طور پر شاعر تھے۔ ان کا بیشتر کلام قولِ غیر سدید کا نمونہ ہے۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کے ذہن کو، قرآن کے الفاظ میں، غیر اصلاح یافتہ ذہن بنا دیا ہے۔ اور قرآن کے مطابق غیر اصلاح یافتہ ذہن کے لیے اس دنیا میں

مثال کے طور پر اقبال کا ایک شعر ہے جو مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہوا ہے۔ میں وہ موجودہ مسلمانوں کے بارہ میں کہتے ہیں :

آج بھی ہو جو براہیم کا ایمان پیدا آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

یہ شعر سراسر سداد قول کے خلاف ہے۔ اس میں درست گفتاری کی صفت نہیں پائی جاتی۔ اور جس قول میں درست گفتاری کی صفت نہ ہو اس سے درست عمل کا ظہور کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ حضرت ابراہیم کے لیے آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ مگر وہ نبوت کا معاملہ تھا۔ وہ سادہ معنوں میں صرف ایمان کا معاملہ نہ تھا۔ پیغمبر کے لیے اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ مدعو کے مقابلہ میں اس کی کامل حفاظت کی جائے تاکہ وہ ان کے اوپر اتمام حجت کی حد تک دعوت کا کام کر سکے ۔ حضرت ابراہیم کے لیے آگ کا معاملہ اس سنت الہی سے تعلق رکھتا تھا۔ مخالفین نے آپ کو آگ میں پھینک دیا اور آگ آپ کے اوپر ٹھنڈی ہوگئی تو اس کا ٹھنڈا ہونا مذکورہ شعر کے مطابق ”ایمان“ کے زور پر نہ تھا بلکہ خدا کے مخصوص حکم کی بنا پر تھا۔ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا

جس چیز کا تعلق خدا کے خصوصی حکم سے تھا اس کا تعلق اس شعر میں ایمان سے جوڑ دیا گیا اس کی وجہ سے ساری بات بدل گئی۔ اس معاملہ کا صحیح تصور آدمی کو خدا کی قدرت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جب کہ مذکورہ شاعرانہ تصور آدمی کے اندر جھوٹا بھرم پیدا کر کے اس کو بے معنی ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔

اقبال نے حضرت ابراہیم کے معاملے کو ایمان کا معاملہ بتا کر مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ایمان کو لے کر اگر تم آگ میں کو د پڑ و تو آگ تمہارے لیے گلزار ہو جائے گی ۔ شعلے تمہارے ایمان کے زور پر ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔

اس غلط سوچ کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان آج بار بار آگ“ میں کو د رہے ہیں۔ مزید یہ کہ جب آگ انھیں جلاتی ہے تو اپنے غلط ذہن کی بنا پر وہ دوبارہ اس کو دشمنوں کے خانہ میں ڈال حالانکہ اس کو انھیں اپنی اور اپنے رہنماؤں کی نادانی کے خانہ میں ڈالنا چاہیے۔ ایسے ہر تجربہ کو انھیں فریاد کا مسئلہ بنانے کے بجائے نصیحت کا مسئلہ بنانا چاہیے۔ ہر یاد سے جھنجلاہٹ پیدا ہوتی ہے اور نصیحت سے اصلاح۔

Printed page