بمبئی کا سفر
Al-Risala, December 1993, pp. 17–21
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ جنوری ۱۹۹۳ کو میں ایک پرکچھوگرام کے تحت ودیش (اندھیہ پردیش) میں تھا۔ وہا ں اتفاقی طور پر مسٹر مدھو مہتا سے ملاقات ہوئی۔ موصوف مشہور ہندوستانی آندولن کے چیئرمین ہیں جس کا ہیڈ کوارٹر بمبئی (3624471 .Tel) میں ہے۔ موصوف سے یہ میری پہلی ملاقات ان سے موجودہ ملکی حالات پر گفت گو ہوئی تو وہ میرے خیالات سے بہت متاثر ہوئے۔ بمبئی واپس جانے کے بعد ان کے کئی ٹیلی فون آئے۔ وہ بمبئی میں میرا کچھ پروگرام رکھنا چاہتے تھے۔ ان کے اصرار پر بمبئی کا سفر ہوا۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کی صبح کو بمبئی کے لئے روانگی ہوئی، اور وہ فروری کی شام کو دہلی واپس آگیا۔
دہلی ایرپورٹ پہنچا تو وہ بھیانک ہوائی حادثہ یاد آیا جو تین ہفتہ پہلے ۹ جنوری کو یہاں پیش آیا تھا۔ روسی ساخت کا ایک جہاز (154-Tu) جوکہ انڈین ایئر لائنز کے استعمال میں تھا، حیدر آباد سے اڑ کر دہلی پہنچا۔ اس وقت ہوائی اڈہ پر کہر تھی۔ جہاز جہاز نیچے اترا تو پائلٹ جہاز کو رن وے کی سنٹر لائن پر نہ اتار سکا۔ جہاز کا دائیں طرف کا پہیہ پختہ رن وے سے اتر کر کچی زمین پر چلا گیا۔ اس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ تاہم اس کے ۱۶۳ مسافر معجزاتی طور پر بچ گئے۔
زندگی کی بھی ایک پختہ سڑک ہے۔ اور اس کے دائیں اور بائیں کچے راستے ہیں۔ کے سفر کا اصول ہے کہ احتیاط کے ساتھ چلو (drive cautiously) یہی اصول زندگی کے عام سفر کا بھی ہے۔ حقائق کی رعایت کر کے زندگی کا سفر طے کرنا گویا پختہ سڑک پر چلنا ہے ۔ اور جذباتی ابال یا خوش گمانی کے تحت بلا احتیاط اپنی گاڑی چلانا گویا کچی زمین پر اپنی گاڑی کو دوڑانا ہے۔ ایک صورت میں زندگی کی گاڑی محفوظ سفر کر کے اپنی منزل تک پہنچے گی اور دوسری صورت میں صرف یہ ہوگا کہ وہ بربادی کے گڑھے میں گر کر تباہ ہو جائے۔ دہلی سے بمبئی کے لئے انڈین ایئر لائنز کے جہاز کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ مگر کوئی بات ایسی نہیں ملی جس کو میں یہاں درج کر سکوں۔ آجکل کے اخباروں
یہ یہ حال ہے کہ ان میں زیادہ تر ایسی خبریں اور ایسے مضامین ہوتے ہیں جن میں کوئی سبق نہ ہو۔ یہ گویا نمک کے پہاڑ ہیں جن میں شکر کے کچھ ذرات مل جاتے ہیں جن کو ڈھونڈ کر نکالنا پڑتا ہے۔ انگریزی شاعر کے الفاظ میں "پانی پانی ہر طرف ، مگر پینے کے لئے ایک قطرہ نہیں: Water, water everywhere. Nor a drop to drink. جہاز میں ایک ہندو سائنٹسٹ سے ملاقات ہوئی۔ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ وہیں ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہوگئے تھے۔ پھر انھیں خیال آیا کہ اپنے دیش جائیں اور وہاں سائنسی علوم کو ترقی دیں۔ مگر یہاں آنے کے بعد انھیں بہت تلخ تجربہ ہوا۔ انھوں نے پایا کہ یہاں کے تمام سائنس داں کیرپیسٹ سائنس داں (careerist scientists) ہیں۔ وہ اپنے سوا کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنے حوصلہ شکن تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ اب میں دوبارہ امریکہ چلا جاؤں گا۔ کیوں کہ انڈیا میں میرا کوئی مستقبل نہیں: I will go back to the States, as there would hardly be any future for me in جس ملک میں خود اس ملک کے اپنے دماغ مایوس ہو جائیں، وہ ملک گویا کہ خود اپنے معماروں سے محروم ہوگیا ۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ ایک وکیل صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ عدالت میں جب جج کے سامنے مقدمہ پیش ہوتا ہے تو ایک طرف ہم ہوتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا مخالف وکیل ۔ اس وقت ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم ایسی بات کہیں جس سے ہمارا مخالف مشتعل ہو جائے ۔ اگر کسی طرح ہم نے اس کو مشتعل کر دیا تو اس کے بعد ہماری کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مشتعل آدمی کا ذہن ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ غیر متاثر ذہن کے تحت معاملہ کے تمام پہلوؤں پر دھیان دے سکے۔ اس کا ذہن اصل معاملہ سے ہٹ کر حریف کی شخصیت کی طرف چلا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غیر متعلق باتیں کرنے لگتا ہے۔ متعلق باتیں اس کی پکڑ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اور جس آدمی کا یہ حال ہو جائے
وہ کبھی مقابلہ کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
میں نے کہا کہ اسی کا نام صبر ہے۔ ایک ہے عاجلانہ فکر، دوسری ہے صابرانہ فکر۔ عاجلانہ فکر وہ ہے جب کہ آدمی ردِ عمل میں مبتلا ہو کر سوچے ۔ صابرانہ فکر یہ ہے کہ آدمی فریقِ ثانی کی اشتعال انگیزی سے غیر متاثر رہے۔ وہ آزادانہ سوچ کر اپنے عمل کا رخ متعین کرے ۔ آج ۳۱ جنوری کو بمبئی ایئرپورٹ پر ایک حادثہ پیش آیا۔ برٹش ایئرویز کا ایک جہاز (747 Boeing) بمبئی سے لندن کے لئے روانہ ہوا۔ مگر ایک گھنٹے کے اندر دوبارہ وہ بمبئی اس کے اوپر عملہ کے ۱۸ لوگوں کو ملا کر کل ۳۷۲ عورت اور مرد سوار تھے ۔ واپسی کی وجہ یہ ہوئی کہ فضا میں بلند ہونے کے بعد جہاز کے پائلٹ نے پایا کہ اس کا ایک انجن جنریٹر(engine (engine generator) فیل ہو گیا ہے۔ اب جہاز کو آگے لے جانا اس کو منزل کی طرف لے جانا نہیں تھا بلکہ اس کو تبا ہی کی طرف لے جانا تھا، اس لئے پائلٹ نے پیچھے کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا۔ آگے بڑھنا بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس دنیا میں کبھی پیش قدمی کو روک کر پیچھے کی طرف واپس جانا آدمی کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو درست کر کے دوبارہ پیش قدمی کے قابل ہو سکے۔ جب کہ اس وقت آگے بڑھنے کا مطلب عملی طور پر یہ بن جاتا ہے کہ اپنے وجود ہی کا خاتمہ کر لیا جائے۔ بمبئی ایئر پورٹ پر یہاں کے کئی احباب موجود تھے۔ ان کے ساتھ شہر کے لئے روانگی ہوئی۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کو فجر کی نماز میں نے نظام الدین کی کالی مسجد میں پڑھی تھی۔ اور اسی دن ظہر کی نماز کے وقت میں بمبئی پہنچ چکا تھا۔ جب کہ دہلی اور بمبئی کے درمیان تقریباً ۱۵۵۰ کلومیٹر کا فاصلہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک واقعہ وہ گزرا جس کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے:— پاک ہے وہ اللہ جو ایک رات اپنے بندے کو مکہ کی مسجدِ حرام سے دور کی مسجدِ فلسطین، تک لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے با برکت بنایا ہے تاکہ اس کو اپنی کچھ نشانیاں
"اسراء" کے اس معاملہ پر سوچتے ہوئے خیال آیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کا شاید ایک پہلو یہ بھی ہو کہ تاریخ میں آپ ایک ایسے
انقلاب کا آغاز کرنے والے ہیں جب کہ انسان کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ " ایک رات " میں دور کی کسی منزل کا سفر کرے اور پھر اسی رات کو دوبارہ اپنے مقام پر واپس آ جائے ۔ بمبئی میں میرا قیام ریجنسی ہوٹل کے کمرہ نمبر ۳۰۵ میں تھا ۔ یہ بمبئی کے ایک پر سکون علاقہ (نیپین سی روڈ پر واقع ہے ۔ اس لحاظ سے وہ میری پسند کے مطابق تھا ۔
بمبئی ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے ، بمبئی کے ساتھ بے شمار یادیں اور تاریخیں وابستہ جون ۱۸۸۸ میں موہن داس کرم چند گاندھی یہیں کے ساحل سے مزید تعلیم کے لئے انگلینڈ روانہ ہوئے تھے ۔ اس وقت ان کی عمر ۱۸ سال تھی ۔ انھوں نے اپنی بیوی کاستور یچ کر پانی کے جہاز کا ٹکٹ حاصل کیا تھا ۔ بنیا کمیونٹی کو معلوم ہوا تو اس نے موہن داس کو ذات باہر (outcaste) قرار دے دیا ۔ ہوئی فشر کے الفاظ میں ، ان کا مذہب سمندری سفر طے کر کے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔ کیوں کہ وہاں ہندو دھرم پر عمل نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ Their religion forbade voyages abroad because Hinduism could not be practiced there. (p.23)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب سے سو سال پہلے تک انڈیا کا سماج کتنا بند سماج تھا ۔ بند سماج کو ۵۰ فیصد مسلم تہذیب نے کھولا ، اور بقیہ ۵۰ فیصد مغربی تہذیب نے ۔ بمبئی فساد کے زمانہ میں پاکستانی اخبارات میں صفحہ اول پر نہایت اشتعال انگیز خبریں چھپ رہی تھیں ۔ روزنامہ وفاق جو پاکستان کا اسلامی اخبار سمجھا جاتا ہے ، اس کے شمارہ ۱۴ جنوری ۱۹۹۳ کے صفحہ اول کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا :
بمبئی فسادات کا جہنم بن گیا ۔ شہر پر جنونی ہندوؤں اور غنڈوں کا راج موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت اس قسم کے اخبارات ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے اخبارات زرد صحافت کی بدترین مثال ہیں ۔ ان اخبارات نے کوئی بھی تعمیری کردار ادا نہیں کیا ۔ انھوں نے پچھلے سو سال میں صرف ایک کام کیا ہے ۔ مزاج کو بگاڑنا ۔ انھیں آخری حد تک دوسری قوموں سے متنفر کر دینا ۔ اسی منفی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہو جاتے ہیں ۔ جب کہ اس دنیا
میں ترقی کا راز برداشت ہے نہ کہ اشتعال۔
۳۱ جنوری کی شام کو مسٹر مدھو مہتا کے مکان پر ان کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ انھوں نے کئی دلچسپ باتیں سنائیں۔ سردار پٹیل کے سکریٹری نے ایک بار انھیں بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب پاکستان سے ریفیوجی بڑی تعداد میں دہلی آئے تو وہ چاندنی چوک کے علاقہ میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور وہاں سامان رکھ کر بیچنے لگے۔ اس کے بعد چاندنی چوک کے دکانداروں کا ایک وفد سردار پٹیل سے ملا جو اس وقت ہوم منسٹر تھے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ان شررناریوں نے جب سے اگر فٹ پاتھ پر کاروبار شروع کیا ہے، ہمارا بزنس ختم ہوگیا ہے۔ اس لئے ان شررناریوں کو یہاں سے ہٹائیے۔
سردار پٹیل ان تاجروں کی بات چپ چاپ سنتے رہے۔ جب انھوں نے اپنی بات ختم کی تو سردار پٹیل نے پرسکون لہجہ میں کہا: اس کا حل بہت آسان ہے۔ آپ لوگ دکان چھوڑ کر فٹ پاتھ پر آجائیے اور فٹ پاتھ والوں کو دکان میں بٹھادیجئے۔ اس کے بعد تمام دکاندار خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے ۔ ___ سردار پٹیل کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ایڈمنسٹریشن چلانے کے لئے کس قسم کی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مسٹر مدھو مہتا نے بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب پنجاب اور بنگال میں فرقہ وارانہ فساد پولیس اور فوج اس کو کنٹرول کرنے سے عاجز ہو گئی تھی۔ اس وقت گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن برلا ہاؤس، دہلی گئے اور مہاتما گاندھی سے ملے۔ انھوں نے گاندھی جی سے کہا کہ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے، اور میری فورس اس کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ہی اس کو روک سکتے ہیں۔ آپ میری واحد نفری فوج ہیں: You are my one-man army. (Allwyn Fernandes) بمبئی میں ایک انگریزی جرنلسٹ مسٹر الوین فرنینڈیز سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بمبئی کے لوگ مسٹر مدھو مہتا کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ غیر مقبول کاموں کے چیمپئن ہیں: