Al-Risala · December 1993

Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.

Al-Risala, December 1993, pp. 22–30

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر مدھو مہتا کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ ایک با اصول آدمی ہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اصول کی خاطر کرتے ہیں نہ کہ مفاد کی خاطر۔ لوگ عام طور پر ان اشوز کو لے کر اٹھتے ہیں جو عوام پسند ہوں، جن کے ذریعہ فوراً مقبولیت حاصل ہوتی ہو۔ مگر مدھو مہتا صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کیا صحیح اس دنیا میں مفاد کو نظر انداز کرنے والا آدمی مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ مدھومہتا ایسے ہی ایک نادر آدمی ہیں، اسی لئے ان کے بارہ میں کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ غیر مقبول مقاصد کے چمپین ہیں۔

اخباروں میں یہ بات آچکی ہے کہ عین اس زمانہ میں جب کہ بمبئی میں فرقہ وارانہ فساد ہو رہا تھا، اس کے پڑوسی علاقہ بھیونڈی میں فساد نہیں ہوا۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ "علمی مطالعہ حقیقۃً تقابلی مطالعہ کا دوسرا نام ہے۔ اس معاملہ میں علمی مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ بمبئی میں فساد ہوا تو بھیونڈی میں فساد کیوں نہیں ہوا۔ نارتھ انڈ یا میں فساد ہوتا ہے تو ساؤتھ انڈیا میں فساد کیوں نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان اس دشمن ملک میں امن و سکون کے ساتھ کس طرح رہتے ہیں۔ اگر اس طرح تقابلی مطالعہ کیا جائے تو اس سے ہم کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ جہاں فساد ہوتا ہے اس کا سبب کیا ہے، اور جہاں مسلمانوں کو امن و سکون کے ساتھ رہنے کا موقع مل رہا ہے وہاں ایسا کس طرح ہوتا ہے۔

میں نے اس پہلو سے بہت غور کیا ہے۔ میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ جہاں مسلمان حقیقت پسندانہ انداز میں رہتے ہیں وہاں فساد نہیں ہوتا ہے اور جہاں جذباتی انداز میں رہتے ہیں وہاں فساد ہو جاتا ہے۔ فسادی عناصر تو ہر جگہ موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں کا مثبت ردعمل ایک جگہ بم کو ڈیفیوز کردیتا ہے، اور مسلمانوں کا منفی رد عمل دوسری جگہ بم کو انفجار تک پہنچا دیتا ہے۔ بہار کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے موجودہ انتظامی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک دلچسپ قصہ بتایا۔ بہار کی ایک سڑک پر کچھ ڈاکوؤں نے ایک مسافر بس کو روکا۔ وہ گن لئے ہوئے بس میں داخل ہوئے اور تمام مسافروں کو حکم دیا کہ جس کے پاس جتنی رقم ہو وہ سب ہمارے حوالے کر دے۔ مسافروں کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ ہر ایک نے اپنی اپنی رقم

ڈاکوؤں کے حوالے کر دی۔

آخر میں ڈاکوؤں کے سردار نے حاصل شدہ رقم کو گنا تو وہ کل سات ہزار تھی۔ کہا کہ اس میں تو ہم کو گھاٹا ہو جائے گا۔ کیوں کہ ہمیں دس ہزار روپیہ تو پولیس کو دینا ہے۔ نے تمام کی تمام رقم مسافروں کو دوبارہ واپس کر دی۔

۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کی شام کو ۵ بجے گورنر ہاؤس میں مہاراشٹر کے گورنر پی سی الیگزینڈر (P.C. Alexander) سے ملاقات ہوئی۔ اس میں میرے علاوہ اچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چیدانند، مدھو مہتا، جسٹس دھرم ادھیکاری، انا ہزارے اور دوسرے کئی لوگ شریک گورنر صاحب نے کہا کہ انھوں نے میرے کچھ انگریزی مضامین پڑھے ہیں اور شانتی یاترا کا ٹیپ دیکھا ہے۔ اس سے وہ کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو سنگین مسئلہ ہے اس کو پولیٹیکل لوگ حل نہیں کر سکتے۔ اس کو صرف مذہبی اور روحانی شخصیتیں ہی حل کر سکتی ہیں۔ اس ملاقات کی رپورٹ راج بھون پریس ریلیز کے تحت بمبئی کے اخبار ٹائمس آف انڈیا یکم فروری ۱۹۹۳) میں چھپی۔ اس میں یہ صراحت بھی تھی کہ یہ ملاقات خود گورنر کی درخواست پر ہوئی : Various religious leaders and prominent citizens met the governor at Raj Bhavan at his request. (p.3)

یکم فروری کی شام کو مسٹر مدھو مہتا کی قیام گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ بمبئی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے خطاب کیا۔ خطاب کے دوران میں نے کہا کہ لوگ اجودھیا کو پرابلم بنائے ہوئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اجودھیا کو سبق اور نصیحت کا واقعہ بنا

یہاں سوال و جواب بھی ہوئے۔ ایک نوجوان راہل شرما (Rahul Sharma) نے کہا کہ مسلمان اپنے آپ کو پاکستان کے ساتھ آئیڈنٹیفائی کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق یہ بات صحیح نہیں ہے۔ یہاں شاید کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو اپنے آپ کو پاکستان کے ساتھ آئیڈنٹیفائی کرتا ہو۔ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ میچ میں کچھ مسلمان لڑکے بعض طفلا نہ حرکتیں کرتے ہیں۔ میں اس قسم کی حرکتوں کو لغو سمجھتا ہوں۔ مگر وہ صرف

اس قابل ہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ان کی بنیاد پر ہندستانی مسلمانوں کے بارہ میں رائے بنانا صحیح نہیں۔

ٹائمس آف انڈیا کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر ایلون فرنانڈیز (Allwyn Fernandes) نے مفصل انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ریجنسی ہوٹل کے کمرہ ۳۰۵ میں ریکارڈ کیا گیا۔ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲ فروری ۱۹۹۳ میں یہ انٹرویو شائع ہو چکا ہے۔

سوالات زیادہ تر مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں تھے۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ ہندو اور مسلمان دونوں کو ایک بات واضح طور پر جان لینا چاہئے کہ جب مختلف لوگ مل کر ایک سماج میں رہتے ہیں تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک کو دوسرے سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ اور وہ ہر سماج میں ہوتا ہے خواہ وہ انڈیا کا معاملہ ہو یا اور کسی ملک کا معاملہ۔ ایسی حالت میں کیا کرنا ہے۔ ایسی حالت میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو لاؤنڈ کریں ۔

جنرل ایس کے سنہا (۶۷ سال، پٹنہ کے رہنے والے ہیں ۔ ان سے یہاں ملاقات ہوئی ۔ ۲ فروری کی ملاقات میں میں نے کہا کہ آپ لمبی مدت تک فوج میں رہے ہیں۔ اپنی فوجی زندگی کا کوئی واقعہ بتائیے ۔

انھوں نے کہا کہ ۷ ۴ ۱۹ سے پہلے انگریزوں کے زمانہ میں جو فوج تھی وہ آج سے بہت مختلف اس میں زہر دست یکڑ کر پایا جاتا تھا ۔ ۱۹۰۴ میں لارڈ کرزن وائسرائے تھے۔ انگریزوں کی ایک بٹالین تھی۔ اس میں ایک ہزار انگریز سپاہی تھے۔ ان میں سے کچھ انگریز کلکتہ کی ایک کینٹین میں کھانا کھانے کے لئے گئے۔ ہندستانی ملازم نے کھانا لانے میں کچھ دیر کی۔ ایک انگریز سپاہی جو شراب پئے ہوئے تھا غصہ میں آگیا۔ اس نے ہندستانی ملازم کو گھونسا ماردیا۔ اتفاق اتفاق سے وہ مر گیا۔ یہ واقعہ اخبار میں چھپ کر کافی مشہور ہوا۔

اس کے بعد یہ کیس فوج کی کورٹ آف انکوائری میں آیا۔ انگریز فوجیوں نے طے کیا کہ وہ گواہی نہیں دیں گے اور یہ کہہ دیں گے کہ ہم کو نہیں معلوم کہ کس نے گھونسا مارا۔ آخر کار قاتل کا ثبوت نہ مل سکا۔ فوجی ذمہ داروں نے وائسرائے کو لکھ کر بھیج دیا کہ قاتل کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔

اس لئے اس کیس کو کلوز کر دیا جائے اور مقتول کے وارثوں کو پانچ ہزار روپیہ بطور تلافی دے دیا

لار ڈ کرزن نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ مقتول کو پانچ ہزار روپیہ ہم دے دیتے ہیں۔ مگر کیس کو ہم کلوز نہیں کریں گے۔ بلکہ پوری انگریز بٹالین کو اس کی سزا دیں گے۔ چنانچہ وائسرائے نے ایک ہزار فوجیوں کی اس انگریز بٹالین کو برما کے ایک غیر ترقی یافتہ علاقہ میں بھیج دیا جو کہ ملیریا کا وہاں پوری بٹالین دو سال تک بطور سزا رہی۔ بہت سے لوگ ملیریا کی وجہ سے بیمار ہو گئے اور سترہ انگریز فوجی وہیں مر گئے۔

ڈاکٹر عبد الکریم نائک بہت با شعور اور دردمند آدمی ہیں۔ وہ اپنے دو صاحبزادوں، ڈاکٹر محمد نائک اور ڈاکٹر ذاکر نائک کے ساتھ نہایت مفید انداز میں دعوہ ورک کر رہے ہیں۔ یکم فروری کی شام کو مدھو مہتا صاحب کی رہائش گاہ پر جو میٹنگ ہوئی، اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہاں اجتماع کے بعد ان لوگوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسری انگریزی کتابیں لوگوں کے درمیان تقسیم کیں۔ لوگوں نے بہت شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ ڈاکٹر نائیک صاحب نے کہا کہ مسلم نوجوان اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے لئے مواقع نہیں۔ جو مواقع بظاہر مہیا نہیں ہیں ان کی تو وہ شکایت کرتے ہیں۔ مگر جو مواقع مہیا ہیں ان کو وہ استعمال

انہوں نے کہا کہ ایک چیز یہ ہے کہ آدمی ڈسپلن والی زندگی اختیار رکھے۔ اس سلسلہ میں ایک ضروری کام یہ ہے کہ ہر آدمی ڈائری رکھے اور روزانہ اپنی سرگرمیوں کا اس میں اندراج اسی طرح ملک میں بہت سے رضاکارانہ ادارے (volunteers bodies) ہیں جو مفت میں مختلف قسم کی چیزیں سکھاتے ہیں۔ مثلاً جرنلزم، اسمال اسکیل انڈسٹری، جمنازیم اس قسم کی رضا کار تنظیموں سے وابستہ ہو کر مسلم نوجوانوں کو ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

۲ فروری کی دوپہر کو مہاراشٹرا اسٹیٹ پولیس کے ہیڈ کوارٹر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ تاریخی بلڈنگ میں قائم ہے۔ یہاں انسپکٹر جنرل آف پولیس مسٹر جی این وبادلے (G.N. Ubale)

اور ڈپٹی کمشنر آر ایس راٹھور (R. S. Rathod) اور دوسرے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عام طور پر لوگ پولیس کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ پولیس کے لوگ بھی دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہی ہوتے ہیں۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ اس کو چھیڑیں تو وہ غصہ میں حتی کہ مقدس بزرگ بھی۔ جب آدمی کسی کے اوپر غصہ ہوتا ہے تو وہ اس کے خلاف ہر کارروائی کر گزرتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ جس آدمی کے پاس کنکر ہے وہ کنکر پھینک کر مارے گا۔ اور اگر بندوق ہے تو وہ بندوق چلائے گا۔ گویا کہ یہ معاملہ وہ ہے جس کی بابت فارسی شاعر نے کہا کہ : ایں گناہ است کہ درشہر شما نیز کنند۔

مسٹر آر ایس راٹھور بمبئی پولیس میں ڈپٹی کمشنر ہیں۔ ان کی فرمائش پر ۳ فروری کی شام کو ان کے یہاں کھانا کھایا۔ کھانا، فرنیچر، مکان، ہر چیز میں سادگی تھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ وہ صرف تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ وہ عام پولیس افسروں سے بہت مختلف ہیں۔ کھانے کے دوران انھوں نے کئی قصے بتائے۔ ایک یہ تھا کہ ۱۹۷۷ء میں جب جنتا گورنمنٹ نے اندر اگاندھی کو گرفتار کیا، اس وقت وہ پربھنی میںپولیس افسر تھے۔ اس وقت شہر میں دو جلوس ایک کانگریس پارٹی کا جو حکومت کے خلاف بطور احتجاج تھا۔ دوسرا جنتا پارٹی کا جو حکومت کی حمایت میں تھا۔ دونوں ایک ہی سڑک پر مخالف سمتوں سے آرہے تھے۔ اس سے ظاہر تھا کہ ایک پوائنٹ پر پہنچ کر دونوں میں ٹکراؤ ضروری ہے۔

دونوں طرف ہزاروں آدمی تھے اور دونوں ہی جوش سے بھرے ہوئے تھے۔ وردی میں ملبوس ہو کر موقع پر پہنچے۔ انھوں نے جلوس کا مائک اپنے ہاتھ میں لے لیا اور تقریر شروع انھوں نے کہا کہ میرے پاس یہاں کافی فورس موجود ہے۔ اگر آپ لوگ تشدد کرتے ہیں تو میں بھی تشدد کروں گا اور فوراً فائرنگ کا آرڈر دے دوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ جلوس میں بہت سے معصوم (Innocent) لوگ ہیں۔ اگر فائٹنگ ہوئی تو سب سے پہلے یہی معصوم لوگ اس لئے میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو فوراً یہاں سے چلے جائیں۔

اس اعلان کے بعد آدھے سے زیادہ لوگ جلوس سے نکل کر چلے گئے۔ اس کے بعد جلوس

والے اتنا پریشان ہوائے کہ انھوں نے راستہ بدل دیا اور کسی ٹکراؤ یا ایکشن کی نوبت نہیں آئی۔ ۲ فروری کو مسٹر مدھو مہتا کی رہائش گاہ پر جنرل سنہا اور راما کرشنن (S. Ramakrishnan) سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر راما کرشنن نے میری کل کی تقریر کے بارہ میں کہا کہ اس کو سن کر مجھے ایسا لگا جیسے کوئی رشی بول رہا ہے۔ آپ کے شبد ہونٹوں سے نہیں بلکہ دل سے نکل رہے تھے۔ مسٹر راما کرشنن ایک بہت بڑا مشن چلا رہے ہیں۔ اس کا نام دی ڈیوائن لائف سوسائٹی انھوں نے اپنی سوسائٹی کی چھپی ہوئی کئی کتابیں دیں جو اخلاق اور روحانیت کی تعلیمات پر انھوں نے راج گوپال اچاری کے کئی واقعات بتائے۔

راج گوپال اچاری کے متعلق میرا خیال ہے کہ مہاتما گاندھی کے بعد وہ پورے ملک میں سب سے زیادہ قابل اور لائق آدمی تھے ۔ ۱۹۴۷ کے بعد اگر وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہوتے تو شاید ملک کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔

مسٹر پرتاپ بھوگی لال بمبئی کے ایک صنعت کار ہیں، فون نمبر 3623688 ) ان کی رہائش گاہ پر ۲ فروری کی شام کو مغرب بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریباً چالیس لوگ شریک وہ زیادہ تر ممتاز تجارتی افراد تھے۔ اس موقع پر میں نے سہ نکاتی فارمولے کی وضاحت کی نیز یہ بتایا کہ موجودہ ملکی مسائل کا حل کیا ہے۔ آخر میں سوال و جواب ہوا۔ ۲ فروری کو مسٹر آشیش شاہ (Ashish Shah) نے نہایت تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مڈڈے (Mid-day) کے لئے تھا۔ وہ مڈڈے کے شمارہ ۳ مئی ۱۹۹۳ میں شائع ہو چکا ہے۔

مسٹر ہرندر دوے ایک گجراتی اخبار جنم بھومی (جاری شده ۱۹۳۴) کے ایڈیٹر ہیں۔ نے اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ وہ اشعار کا بھی ذوق رکھتے ہیں۔ انھوں نے موجودہ ملکی لیڈر شپ پر سلام مچھلی شہری کا ایک شعر سنایا:

سمندر تیز طوفانی ہو ٹوٹی ہوئی کشتی یہی اسباب کیا کم تھے کہ اس پر نا خدا تم ہو ۔ مسٹر ہرندردوے روحانی مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں پرارتھنا بھی کرتا ہوں تو بھگوان سے یہ کہتا ہوں کہ جو بھی اچھی بات میرے لئے ہو اس کو آپ میرے لئے کر دو۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ سوامی ویویکانند کے بہت معتقد تھے۔ انھوں نے سوامی ویویکانند کے عالمی مذہب (universal religion) کے نظریہ کی حمایت کی ۔ ایک کتاب دکھائی ۔ اس میں تھا کہ سوامی ویویکانند نے ۱۸۹۳ میں امریکہ کے ایک لکچر میں کہا تھا کہ نام نہاد ٹالرنس ایک بد دینی کی بات ہے۔ میں ٹالریٹ کرنے کے بجائے قبول کرنے میں یقین رکھتا ہوں۔ کا مطلب یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم غلط ہو اور میں تم کو صرف زندہ رہنے کی اجازت دیتا ہوں۔ کیا یہ سوچنا بد دینی نہیں ہے کہ میں اور تم دونوں ایک دوسرے کو بس زندہ رہنے کا حق دے رہے ہوں ۔ ہی مذہبوں کو قبول کرتا ہوں ۔

میں نے کہا کہ یہ ایک خوبصورت تخیل تو ہے مگر وہ کوئی خوبصورت نظریہ نہیں۔ نظریہ وہ ہے جو قابل عمل ہو۔ یہ بات موجودہ دنیا میں قابل عمل نہیں ۔ یہاں عملی طور پر جو چیز ممکن ہے وہ ٹالرنس اس کے ناقابل عمل ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس نظریہ کے ماننے والے ایسے مذہب کی تو قدر کرتے ہیں جو انھیں کی طرح یہ کہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ مگر جو مذہب یہ کہے کہ سچا مذہب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے ، اس کی قدر دانی کرنے کے لئے یہ لوگ کبھی تیار نہیں ہوں گے ۔ اپنے نظریہ کے مطابق انھیں ایسے مذہب کی بھی پوری قدر کرنا چاہئے۔

تعدد حقیقت کے اس ہندو نظریہ کو مغربی ملکوں میں بہت مقبولیت ملی ہے۔ مقابلہ میں اسلام کے توحید حقیقت کے نظریہ کو وہاں زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے اس کو مغرب کے لوگوں کا تعصب قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسلام دشمنی کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں ۔

میں نے کہا کہ یہ رائے درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اہل مغرب کے لئے ہندو ازم کا نظریہ زیادہ مفید مطلب (convenient) ہے ، جب کہ اسلام کا نظریہ انھیں اپنے لئے موافق نظر نہیں آتا ۔

اہل مغرب یہ چاہتے ہیں کہ مذہب ان کے سیاسی اور تمدنی معاملات میں داخل نہ ہو۔ مقصد کے لئے انھوں نے کہا کہ مذہب ایک پرائیویٹ انسانی معاملہ ہے۔ ہندو ازم کے نظریہ میں بھی ان کو یہی فائدہ دکھائی دے رہا ہے ۔ جس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انھوں نے مذہب

کو ایک پرائیویٹ معاملہ بتایا تھا وہی مقصد نہیں ہند وازم کے اس نظریہ میں بھی الفاظ بدل کر حاصل ہو رہا ہے۔

ایک صاحب سے گفت گو کے دوران میں نے کہا کہ عربی، اردو، فارسی، انگریزی میں مسلمانوں کے جتنے بھی اخبار یا رسالے نکلتے ہیں، ان سب کو ایک ہی مشترک نام دیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہر صحافت نامہ احتجاج نامہ ان میں اغیار کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار بتا کر ان پر سب وشتم کیا جاتا ہے۔ یہ یقینی طور پر قرآن کی خلاف ورزی ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ تمہارے اوپر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا عملی طور پر قرآن کے انکار کے ہم معنی ہے۔ مگر قرآن کا یہ عملی انکار ساری مسلم دنیا میں علی الاعلان کیا جا رہا ہے۔ اور یہ عملی انکار وہ لوگ کر رہے ہیں جو قرآن اور اسلام کے نام ہی پر اپنی ساری مہم چلا رہے ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دستور نے ہم کو برابری کا حق دیا ہے اور کوئی بھی شخص ہم کو اپنا دستوری حق لینے سے روک نہیں سکتا۔ نے پر جوش طور پر کہا :

None can curtail minorities rights bestowed by the constitution. میں نے کہا کہ یہ واقعہ تو خود آپ لوگوں کے بیان کے مطابق، پچھلے چالیس سال سے جاری ہے کہ مسلم اقلیت کو اس کا دستوری حق نہیں مل رہا ہے۔ پھر کیوں نہیں آپ نے اس کو میں نے کہا کہ کسی گروہ کو اس کا حق دستوری الفاظ کی بنیاد پر نہیں ملتا بلکہ اس کے اپنے استحقاق کی بنا پر ملتا ہے۔ آپ اگر دستور میں لکھا ہوا حق لینا چاہتے ہیں تو اس قسم کی پر جوش تقریر بلکہ مسلمانوں کو تعلیم اور دوسرے شعبوں میں آگے بڑھا کر اس قابل بنا دیجیے کہ وہ اپنا حق وصول کرنے کے قابل ہو جائیں۔

ایک صاحب سے میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا جو لکھنے اور بولنے والا طبقہ ہے، اس

کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہند و مسلم معاملات میں اپنے لئے اپوزیشن سے رہنمائی لیتا ہے۔ اپوزیشن کا سیاسی فائدہ یہ ہے کہ وہ حکمراں پارٹی کو بدنام کرے۔ چنانچہ فرقہ وارانہ فساد یا اور کسی موقع پر اپوزیشن کے افراد فورا یہ کرتے ہیں کہ اس کو لے کر انتظامیہ کی مذمت شروع کرتے ہیں۔ اس پالیسی کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام انتظامیہ (یعنی حکمراں پارٹی) سے بدظن ہو جائیں اور اگلے الیکشن میں ان کو ووٹ نہ دیں۔

مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے بھی عین یہی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر مسئلہ میں ان کو بس کہنے کی ایک ہی بات معلوم ہے، اور وہ یہ کہ انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف مذمتی بیانات شائع کریں۔

یہ پالیسی ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ ہم کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ انڈیا میں جو ہند و مسلم معاملہ ہے اس کا بہت کم تعلق نام نہاد انتظامیہ سے ہے۔ اس کا زیادہ تر تعلق مسلم عوام اور ہندو عوام سے ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات پیدا کریں اور لوگوں کو یہ نصیحت کریں کہ وہ اختلافی معاملات میں صبر و ضبط اور حکمت و تدبیر سے کام لیں نہ کہ جوش اور مشتعل مزاجی سے۔ اس کے سوا جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے وہ تباہ کن ثابت ہو گا۔ ایک مجلس میں کسی نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا مسئلہ ہے۔ نے کہا کہ یہ بات صرف جزئی طور پر صحیح ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے دیش میں لوگوں کے اندر کام کرنے کا جذبہ نہیں۔ وہ چاہتے کہ بس انھیں ایک ملازمت مل جائے اور پھر کام نہ کرکے بھی تنخواہ لیتے

انھوں نے کہا کہ میں امریکہ گیا اور وہاں مختلف لوگوں سے ملا۔ میں نے پایا کہ ایک امریکی نوجوان جس کے پاس کوئی جاب نہ ہو وہ اپنے بارہ میں بتاتے ہوئے یہ کہے گا کہ میں کام کی تلاش

Printed page