۱۵ فروری ۱۹۹۳
Al-Risala, December 1993, pp. 35–45
By Maulana Wahiduddin Khan
صبح فجر سے پہلے نظام الدین سے روانہ ہو کر دہلی ایئر پورٹ پہنچا۔ ایئر پورٹ پر ساڑھے پانچ بجے نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو یہ الفاظ زبان پر آگئے: یا اللہ ، آپ کا ایک کمزور ترین بندہ ایک مشکل ترین کام کے لئے نکلا ہے۔ اس کی مدد فرمائیے۔ ملک میں امن قائم فرمائیے اور اہل وطن کے لئے اپنی رحمت و برکت کے دروازے کھول دیجئے ۔
دہلی سے مدراس کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۳۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ سے اس قافلہ میں اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چیدانند اور نائجل ٹولی آسٹریلیا، شریک تھے۔ مدراس پہنچ کر مسٹر مدھومہتا (ہندوستانی اندر ولن)، اور مسٹر شانتی لال موتھا بھی اس میں شامل ہو گئے۔ یہ دونوں مبئی سے براہِ راست مدراس پہنچے تھے۔
دہلی اور مدراس کے درمیان سفر میں اچاریہ جی اور سوامی جی سے اس پر بات ہوئی کہ ملک میں امن و امان کس طرح قائم ہو۔ دونوں نے اس سے اتفاق کیا کہ بے غرض اور غیر متعصب قسم کی مذہبی شخصیتوں کو سامنے آنا چاہئے۔ ایسے ہی لوگ اس وقت کوئی موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نے کہا کہ بہتر انسانی تعلقات میں سب سے زیادہ جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ ایگو ہے۔ ذہن ٹکراؤ پیدا کرتا ہے، اور اگر میں کا ذہن ختم کر دیا جائے تو اپنے آپ میل ملاپ ہو جائے
The term “I” in the vertical form stands for ego, but in the horizontal form it becomes a bridge between two points.
موجودہ حکومت کی اوپن اسکوئی پالیسی (open-sky policy) کے نتیجہ میں اس وقت تقریباً چالیس پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں ملک میں کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ایسٹ ویسٹ اس کو بمبئی کے مسلمانوں نے قائم کیا ہے۔ اس کے مینیجنگ (East West Air Ways) ڈائرکٹر ٹی اے وحید ہیں۔ یہ ایک بڑی کمپنی ہے جو ۱۶ سیکٹر میں اپنے دس جہاز چلا رہی ہے۔ انڈیا کے مسلمانوں میں سے جو لوگ مسائل تلاش کر کے ان میں الجھے رہتے ہیں، ان کے پاس شکایت اور احتجاج کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ مسائل کو نظرانداز کرکے مواقع کو تلاش کرتے ہیں ان کو یہاں ایسے مواقع مل جاتے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر لیں ۔ درمیان میں ہمارا جہاز کچھ دیر کے لئے حیدر آباد میں اترا۔ اس کے بعد وہ مزید پرواز کر کے مدراس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ مدراس میں ہم لوگوں کا قیام ایک ہندو تاجر کے مکان دوپہر کا کھانا یہیں کھایا گیا۔ کھانے کی میز کے گرد کئی مقامی اور غیر مقامی ہندو صاحبان موجود وہ لوگ مسلسل بات کرتے رہے۔ میں خاموشی کے ساتھ صرف ان کی باتیں سنتا رہا۔ اس گفتگو کے بعد میری وہ رائے مزید پختہ ہو گئی جو اس سے پہلے اپنے مطالعہ کے دوران میں نے قائم کی تھی ۔ وہ یہ کہ مسٹر محمد علی جناح نے ، ۱۹۴۷ء سے پہلے جو سیاست مسلمانوں کے درمیان چلائی، ٹھیک اسی انداز کی سیاست اب ہند و انتہا پسند ہندوؤں کے درمیان چلا رہے ہیں۔ یہ خطرہ کی سیاست ہے۔ مسٹر جناح اور ان کے ساتھیوں نے کچھ فرضی یا واقعی باتوں کو لیکر مسلمانوں کو بتایا کہ ہندو تمہارے لئے زبردست خطرہ ہے۔ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ تمہارے ملی وجود کو مٹا دے گا۔ وہ تم کو ترقی نہیں کرنے دے گا۔ اسی کے ساتھ زرد صحافت کا استعمال کر کے انھوں نے بیشتر مسلمانوں کو بہکایا۔ انھوں نے نان اشو کو اشوبنایا اور پھر اس کو مبالغہ آمیز انداز میں پیش کر کے مسلمانوں کو ہندوؤں کے خلاف بھڑکا دیا۔ اس کا نتیجہ ملک کا بٹوارہ تھا۔ اب ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر ٹھیک اسی مریضانہ سیاست کو ہندوؤں میں دہرا رہے وہ مسلمانوں کو خطرہ کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کچھ بے بنیاد باتوں کو لے کر انہیں ان کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ انھوں نے ہندوؤں کو یقین دلایا کہ مسلمان اس ملک کے لئے مستقل خطرہ ہیں۔ حتی کہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے ذریعہ کچھ برسوں کے بعد وہ بھارت کو اسلامستان ۳۶ رسالہ دسمبر ۱۹۹۳
بنا دیں گے۔
اسی جنہانی سیاست نے پہلے ملک کا بٹوارہ کیا تھا۔ اب وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا بٹوارہ کر رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں میں اتنی زیادہ دوری آچکی ہے کہ ایک سماج میں دونوں کا معتدل طور پر رہنا ہی نا ممکن دکھائی دینے لگا ہے۔ مزید درد ناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے نا اہل لیڈر اپنی نا عاقبت اندیشانہ کارروائیوں کے ذریعہ اس دوری میں صرف اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔
مدراس سے سنکراچاریہ کے یہاں جانا تھا۔ چنانچہ یہاں سے بذریعہ کار کا نچی پورم کے لئے وہاں ہم لوگ ڈھائی بجے دن میں پہنچے۔ کانچی کے سنکراچاریہ (جگت گرو سنکر اچاریہ) سے تقریباً دو گھنٹہ کی ملاقات رہی۔ یہ آشرم کافی بڑا ہے۔ مگر وہ اتناہی سادہ ہے۔ نظم اور صفائی کا زیادہ اہتمام نظر نہیں آتا۔
کانچی کے سنکراچاریہ معمر ہیں اور انتہائی سادہ مزاج آدمی ہیں۔ گفتگو میں ہنسی کا انداز غالب رہتا ہے۔ ابتدائی مشاہدہ میں مجھے خیال ہوا کہ وہ بالکل سیدھے سادے ایک سنت ہیں۔ مگر بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ نہایت ذہین آدمی ہیں۔ حالات سے پوری طرح با خبر ہیں۔ اور ہر معاملہ میں نہایت چنچی تلی رائے دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے احوال سے بھی وہ کافی باخبر نظر
سنکر اچاریہ نے جو باتیں کہیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ مندر اور مسجد کا جھگڑا اس طرح طے کیا جانا چاہئے کہ دیش کی شانتی بھنگ نہ ہونے پائے۔ کیوں کہ دیش میں اگر شانتی نہ ہو تو اس کے بعد دوسرا کوئی بھی کام نہیں کیا جاسکتا۔
اس دن ہم لوگ کانچی پورم سے لوٹ کر مدراس آ گئے۔ یہاں شام کو نماز مغرب کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ مدراس کے انگریزی اور تامل اخباروں کے رپورٹر موجود تھے۔ یو این آئی کی طرف سے بھی ایک نمائندہ اس میں شریک تھا۔ گفت گو زیادہ تر اجودھیا کے مسئلہ پر ہوئی۔ میں نے تین نکاتی فارمولا کی وضاحت کی۔ اس پریس کانفرنس میں میرے علاوہ اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چیدانند بھی موجود تھے۔
مدراس میں کئی تعلیم یافتہ افراد سے ملاقات ہوئی۔ ایک ہندو تاجر مسٹر سی ایل مہتا نے کہا کہ اجودھیا میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جو کچھ ہوا، اس کا مکمل ویڈیو فلم تیار کیا گیا تھا۔ اس کو اب جگہ جگہ دکھایا اگر پہلے سے اس کا منصوبہ نہ بنایا گیا ہوتا تو اس عمل کا پورا فلم کیسے تیار کیا جاسکتا اس فلم کے اثرات بے حد خطر ناک ہیں۔ ایک ہندو نوجوان نے اس فلم کو دیکھ کر کہا : آخر کار ہم نے فتح پالی۔ ایک اور ہندو نوجوان اس کو دیکھنے کے بعد بول اٹھا: غلامی کا نشان مٹ ایک اور ہندو نوجوان نے کہا : مسلمان دباؤ کی بھاشا سمجھتے ہیں، یہ بات اب پکی ہو گئی ۔ مدراس سے ہم لوگوں کو منگلور جانا تھا۔ اور پھر وہاں سے سرینگری جا کر دوسرے سنکراچاریہ سے ملنا تھا، قیام گاہ سے ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے تو گاڑی میں میرے ساتھ آسٹریلیا (اسٹلی) کے ۴۷ سالہ مسٹر نائیجل ایڈمنڈ ٹولی (Nigel Edmund Tolley) بھی موجود تھے۔ میں نے پوچھا کہ انڈیا اور آسٹریلیا میں آپ نے کیا فرق دیکھا۔ انھوں نے بہت سے مادی فرق بتائے۔ مثلاً زیادہ آمدنی، زیادہ صاف سڑکیں، زیادہ اچھے گھر، ہر چیز اعلیٰ صنعتی معیار کی۔ میں نے کہا کہ کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آسٹریلیا کے لوگ ہندستان سے زیادہ خوش ہیں۔ نے کہا کہ نہیں۔ خوشی کا تعلق دل سے ہے، اس کا تعلق مادی چیزوں سے نہیں : Happiness comes from the heart, not from money. مسٹر ٹولی نے ایک لڑکی سے شادی کی۔ اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ مگر چند سال کے بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ اب دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔ دونوں غیر مطمئن ہیں۔ دونوں میں سے کسی نے ابھی تک دوسرا نکاح نہیں کیا۔ مغربی ملکوں میں طلاق کی کثرت کی وجہ انھوں نے یہ بتایا کہ آزادی کا تصور اتنا غالب ہے کہ عورتیں مرد کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ۔ مدرس سے منگلور کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۵۵۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ میں انڈین ایکسپریس (۱۶ فروری) دیکھا۔ اس میں صفحہ ۶پر ایک کتاب کا تذکرہ تھا : Dr Barbara Theiring, Jesus the Man ڈاکٹر بار برانے ۲۰ سال تک بحر مردار کی دستاویزات (Dead Sea scrolls)
کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مذکورہ کتاب تیار کی ہے۔ اس میں حضرت مسیح کی زندگی کے جو حالات ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہیں جو موجودہ انجیل میں ہیں یا مسیحی چرچ میں بتائے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق حضرت مسیح نے دو بار نکاح کیا۔ ان کے یہاں بچے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک بچی کا نکاح پال سے ہوا۔ حضرت مسیح سولی کے بعد بھی زندہ رہے۔ کی عمر کو پہنچ کر ان کی وفات ہوئی۔ مبصر نے ان باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: The Christ whom Christians worship and the Jesus of the New Testament do not appear to be the same person. The former is the romantic product of theology and the latter, an Intolerant prophet who denied his own mother at a wedding party, cursed a tree for not bearing fruit, promised to divide family members against each other. ۱۰ بجے دن میں ہمارا جہاز منگلور کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ ہمارے قافلہ میں پانچ آدمی تھے۔ یہاں سے ہم لوگ کار کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ سڑک کے دونوں طرف دور تک سرسبز وادیوں کا منظر پھیلا ہوا تھا۔ تاہم مسلسل سفر کی وجہ سے میرا سر بوجھل ہو رہا تھا۔ سر کے اندر چکّر کی سی کیفیت تھی۔ چاہتا تھا کہ قدرتی مناظر کو دیکھنے کی خوشی حاصل کروں۔ مگر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میری ذہنی حالت اس میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
میرے دل نے کہا کہ قادر مطلق کی شان کے خلاف ہے کہ وہ انسان کو امپرفکٹ دنیا دے مگر وہ اس کو پرفکٹ دنیا سے محروم رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا یہ محسوس کرنا کہ یہ دنیا اس کے لئے امپرفکٹ ہے، یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پرفکٹ دنیا بھی ضرور اس کے لئے تیار کی گئی ہے۔ منگلور سے بذریعہ روڈ ہم نے ڈھائی گھنٹہ کا سفر طے کیا۔ اس کے بعد ہم لوگ ڈیڑھ بجے دن میں سرنگری (Sithgen) میں داخل ہو گئے۔ یہیں پرستی کے کنارے ایک بڑے رقبہ میں شنکر اچاریہ کا آشرم ہے جو ۱۲ سو سال سے قائم ہے۔
سرنگری میں ایک معلوماتی کتاب ۱۲۵ صفحہ کی ملی۔ یہ ۱۹۹۱ میں انگریزی میں چھاپی گئی ہے۔ میں بتایا گیا ہے کہ جگہ گرد و آدمی شنکر اچاریہ (۸۲۰- ۷۸۸ ء) نے صرف ۳۲ سال کی عمر پائی۔ مگر انھوں نے انڈیا کی تاریخ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ انھوں نے دیش بھر کا سفر کر کے چار کونوں پر
چار مٹھ بنائے۔ دوارکا (ویسٹ) بدری کسرانا (نارتھ) جگناتھ (ایسٹ) سرنگیری (ساؤتھ)۔ تعارفی کتاب کا ایک ذیلی عنوان ٹیپو سلطان کے بارہ میں ہے ۔ اسی میں بتایا گیا ہے کہ ٹیپو سلطان کے کئی خطوط مٹھ کے دفتر میں محفوظ ہیں۔ ایک خط کے بارہ میں یہ الفاظ درج ہیں: In a letter, he reiterated his conviction that his strength and hope were reared upon the three fold basis of God's grace, the holy Jagadguru's blessings, and the prowess of the arms of the realm. (p.68)
سرنگیری کے سنکر اچاریہ سے ملنے کے لئے یہاں کا سفر ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ آدمی سنکر اچاریہ نے بھارت میں چار مرکز قائم کرنے کے بعد یہیں قیام کیا تھا۔ ان کے آخری ایام اسی جگہ گزرے ۔ مٹھ بالکل جدید طرز پر بنا ہوا ہے ۔ ۴۶ ایکڑ کے رقبہ میں واقع اس مٹھ میں نظم اور صفائی اعلیٰ معیار کی نظر آئی۔
یہ مٹھ قدرتی مناظر کے درمیان واقع ہے۔ جگہ نہایت پر فضا ہے۔ پورے ماحول میں ایک خوشگوار سکون چھایا ہوا ہے۔ چڑیوں کی آواز کے سوا کوئی اور آواز اتفاقاً ہی سُنائی دیتی ہے۔ پل، پارک، پہاڑیاں، یہ اس کے اجزائے ترکیبی ہیں۔
دوپہر کا کھانا ہم لوگوں نے یہاں کھایا۔ میرے علاوہ سوامی چیدانند، مدھو مہتا، شانتی لال مونٹھا اورسٹر ٹولی شریک تھے جو ہندو ازم سے متاثر ہیں۔ ایک بڑے کمرہ میں سادہ میز کے چاروں طرف سادہ کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر کیلے کے ہرے پتے بچھائے گئے ۔ پھر اس پتے کے اوپر روٹی ، چاول، سالن وغیرہ باری باری لا کر رکھا گیا ۔
ہر چیز صاف ستھری اور صحت بخش تھی۔ سنگری مٹھ کے ایڈ منسٹریٹر ڈاکٹر گوری شنکر (V.R. Gowri Shankar) بھی کھانے میں شریک تھے۔ کھانے سے فارغ ہو کر مٹھ کے اندر اپنے کمرہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد آرام کیا۔ شام کو چار بجے سنکر اچاریہ سے ہم لوگوں نے
سنکراچاریہ سے بہت اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ہمارے پیس مشن کی مکمل انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ دھرم کا مطلب مذہب نہیں ہے۔ بلکہ کہ تو برالس دسمبر ۱۹۹۳
یہ سیاسی لوگ ہیں جنہوں نے دھرم کو مذہب کا معنی دے دیا ہے۔ دھرم تو انسان کا کر تو ہے ۔ جیسے پتنی کا دھرم ، راجہ کا دھرم ، وغیرہ۔ ہندو کا لفظ ہماری کتابوں میں کہیں نہیں۔ یہ لیڈر ہیں جنھوں نے "ہندو" کو وہ نام دیا ہے جو آج سمجھا جاتا ہے۔
مسٹر دھوہتانے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہر چیز بزنس ہو گئی ہے۔ حتی کہ روحانیت کو بھی تجارت کی چیز بنا دیا گیا ہے:
Even spiritualism has been commercialised in this country. ۱۷ فروری ۱۹۹۳ آج صبح کو سرنگیری سے واپس ہونا تھا۔ یہاں میں نے اپنے کمرہ میں فجر کی نماز پڑھی۔ جذبات کا تلاطم برپا تھا۔ مگر ایسا محسوس ہوا جیسے کہ جذبات الفاظ کی صورت میں ڈھل نہیں رہے جذبات جب بہت زیادہ گہرے ہوں تو کیفیات کا غلبہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ الفاظ کے لئے ساتھ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ خدا یا ، اس دعا تو میری طرف سے لکھ لے جس کے لیے میرے پاس الفاظ بھی نہیں۔
ہمارے ساتھی شانتی لال مورتا (پونہ) نے کل شام کو یہاں کے مطبخ میں کہہ دیا تھا کہ صبح کو ہم لوگ اڈلی کا ناشتہ کریں گے۔ چنانچہ صبح کو ضروریات سے فارغ ہو کر ہم لوگ کھانے کی میز پر آئے تو کیلے کے پتہ پر اڈلی ، ناریل کی چٹنی اور کافی رکھی ہوئی تھی۔ یہ جنوبی ہند کا عمومی ناشتہ ہے۔ اس سے فراغت کے بعد ہمارا قافلہ سرنگیری سے منگلور کے لئے روانہ ہوا۔
پورا راستہ سبزہ سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے درمیان طے ہوا۔ قدرت کے پھیلے ہوئے مناظر اٹھارہ سکون کا پیغام دے رہے تھے۔ کبھی کبھی سامنے سے کوئی گاڑی آتی ہوئی دکھائی دیتی۔ سامنے کی گاڑی اور ہماری گاڑی قریب آتی تو ٹر آنک اصول کے مطابق، ایک گاڑی دائیں کی طرف اور دوسری گاڑی بائیں کی طرف کترا کر نکل جاتی۔ میں نے سوچا کہ دونوں گاڑی اگر سیدھا چلنے پر اصرار کرے تو دونوں ہی تباہ ہو جائیں۔ اور جب دونوں ایک دوسرے کو اوائڈ کرتی ہیں تو دونوں کو زندگی کی شاہراہ مل جاتی ہے۔
راستہ میں سوامی جیانند اپنی دلچسپ باتیں سناتے رہے۔ ایک بار انھوں نے کہا کہ پیار کی
کون سی ایسی ہے جو دنیا میں ہر جگہ چلتی ہے۔ پھر اس خیال کو موزوں کرتے ہوئے کہا: پیار کا دیا جلاؤ، دشمنی کا اندھیرا بھاگاؤ۔
اگلے دن میں ہم لوگ منگلور ایئر پورٹ پہنچ گئے۔ یہاں لاؤنج میں کچھ وقت گزارا۔ میں باتیں کر رہے تھے۔ میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ ایک ہندو بھائی نے کہا کہ ہم مندر ۔ کو فورڈ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ ممبئی میں میرا کار خانہ ہے۔ میں ایکسپورٹ کا سامان تیار میرے علاقے میں فساد نہیں ہوا، مگر فساد کی خبریں پھیلیں تو میرے ورک فورس کا ۹۵ فیصد حصہ بھاگ گیا۔ اب میری انڈسٹری ٹھپ پڑی ہوئی ہے۔ بھلا اس طرح دیش ترقی کر سکتا ہے۔ دوسرے ہندو بھائی نے کہا کہ اشوک سنگھل جیسے لوگوں کا کہنا ہے کہ :
دیش کو بچانا ہے غلامی کا کلنک مٹانا ہے۔
مگر یہ نعرہ بالکل الٹا ہے۔ ان لوگوں کو کہنا چاہئے کہ غلامی کا کلنک مٹانے کے نام پر دیش کو تباہ یہی تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جھوٹی سیاست سے دیش کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا اور پھر خود ہی وہ دیش کو بچانے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
میں نے سوچا کہ اسی کو فارسی زبان میں کہا گیا ہے کہ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ سیاست کی بد ترین قسم ہے۔ اس میں کچھ فرضی چیزوں کو اشو بنایاجاتا ہے۔ اور پھر جذباتی تقریروں کے ذریعہ اس کو بڑھا کر آخری حد پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کا قومی نشہ ہے، اس کا قومی ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔
انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۱۴۰ کے ذریعہ منگلور سے ممبئی کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں آج کے دو اخبار پڑھے۔ انڈین ایکسپریس اور حیدر آباد کا نیوز ٹائم۔ نیوز ٹائم دے، افروزی میں رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف کا ایک انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ اس کو ورلڈ نیوز لنک نے ریکارڈ کیا تھا۔
ایک سوال یہ تھا کہ مسلم دنیا میں جو فنڈ منٹلسٹ تحریکیں چل رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ ڈاکٹر نصیف نے جواب دیا کہ ہر مذہب میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے جوش کے تحت رات دن کے اندر نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں میں بھی ہیں۔ پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں میں تعلیم
اخلاق اقدار پیدا کی جائیں۔ اسی طرح ایک اور سوال یہ تھا کہ سلمان رشدی کے خلاف موت کا فتویٰ جو ایران کے مذہبی لیڈر نے دیا تھا، اس کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر نصیف کا حسب ذیل جواب اخبار میں نقل کیا گیا ہے:
یہ بات اگر ہندوستان یا پاکستان کا کوئی شخص کہے تو نام نہاد علماء اس کے قتل کا یا کم از کم اس کو کوڑا مارنے کا فتویٰ صادر کر دیں گے۔ مگر یہی پر جوش حامیانِ اسلام اس وقت خاموش رہتے ہیں جب کہ وہ سعودی عرب کے کسی ذمہ دار شخص کی طرف سے کہی گئی ہو۔ کیسا عجیب ہو گا وہ اسلام جو بھارت جیسے ملک میں کچھ اور ہو اور پٹرول ڈالنے والے ملک میں پہنچے، ہی کچھ اور ہو جائے ۔ بمبئی میں ہمارے ساتھی ائیر پورٹ پر موجود تھے۔ تاہم پروگرام کے مطابق ، آج پونہ جانا تھا۔ بمبئی میں دو گھنٹے گزار کر بذریعہ کار پونہ کے لئے روانگی ہوئی۔
مسٹر شانتی لال موتھا نے مجھ کو پیچھے کی سیٹ پر لٹا دیا۔ تقریبا ایک گھنٹہ کے بعد اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میں باہر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شانتی لال موتھا نے پوچھا کہ آپ کو کیا چاہئے۔ کیا چائے یا کولڈ ڈرنک میں نے کہا کہ نہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ سڑک کے کنارے کوئی مسجد ہو تو اتر کر نماز پڑھلوں۔ انھوں نے کہا کہ مسجد تو ابھی ہمارے پیچھے تھی۔ فوراً گاڑی روک کر پیچھے کی طرف لے گئے۔ کے پاس اس کو کھڑا کر دیا۔ میں نے اتر کر وہاں نماز پڑھی اور پھر ہم لوگ آگے کے لئے روانہ
مغرب کے وقت ہم لوگ پونہ پہنچ گئے۔ یہاں پہلے مسٹر شانتی لال موہتا کے آفس میں ٹھہرا۔ دیر بعد جناب عبد الصمد صاحب اور جناب محمد یونس صاحب آگئے ۔ ان لوگوں کے ساتھ میں نیوایرا کالونی میں آگیا۔ یہاں میرا قیام محمد یونس صاحب کے مکان پر تھا۔ پونہ کے کئی لوگ خبر سن کر یہاں رات ساڑھے گیارہ بجے تک ان لوگوں سے بات ہوتی رہی۔
میں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ہندو مسلم تعلقات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ
کی ضرورت ہے۔ اکثر مسلمان ایسا کہتے ہیں کہ وہ برادرانِ وطن کو حلقوں اور جماعتوں میں تقسیم کر کے یہ آر ایس ایس کا آدمی ہے۔ یہ کانگریس کا آدمی ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آدمی ہے۔ جماعت کا آدمی ہے۔ یہ اُس جماعت کا آدمی ہے۔ اس قسم کی سوچ سراسر بے بنیاد ہے۔ صحیح اسلامی بات یہ ہے کہ تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے ۔ جماعتی تعلق ہمیشہ اضافی ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر ایک انسان ہے۔ اور ہر ایک کے ساتھ انسان کے اعتبار سے معاملہ کرنا چاہئے ۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۳ آج فجر کی نماز نیو ایرا پورنہ کی مسجد میں پڑھی۔ امام صاحب نے آخری رکعت میں قرآن کا جو حصہ پڑھا، اس کی آخری آیت یہ تھی: تھی:واصبر وما صَبَرُكَ اِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ - انّ الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون (النحل - ۲۸ - ۱۲۷) نماز کے بعد کچھ لوگ میری قیام گاہ پر اکٹھا ہو گئے۔ میں نے مذکورہ آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کے اس بیان پر غور کیجئے تو اس میں آپ کو موجودہ حالات کے اعتبار سے بہت بڑا سبق اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنائی ہے کہ یہاں ہمارا اصل مسئلہ ہمارے خلاف سازش کی موجودگی نہیں ہوگی۔ بلکہ اصل مسئلہ خود ہمارے اندر صبر اور تقویٰ اور حسن عمل کی غیر موجودگی ہوگی۔ گویا یہاں سارا معاملہ خود ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ ہمیں باہر کی سازشوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ خود اپنے اندر تقویٰ اور صبر اور حسن عمل کی صفت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر داخلی سطح پر ہمارے اندر یہ اوصاف موجود ہوں تو اس کے بعد تمام بیرونی مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔
پونہ کے تعلیم یافتہ افراد میری رہائش گاہ پر آتے رہے اور ان سے مختلف قسم کے دینی اور ملی امور پر باتیں ہوتی رہیں۔ عبد القادر عبد الغنی صاحب (۳۵ سال نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج کا مسلمان جھگڑا بالکل نہیں چاہتا۔ آج اگر مسلمان لیڈر کسی جھگڑے والی بات کے لئے بلائیں تو مسلمانوں کی طرف سے انھیں کوئی رسپانس ملنے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ۶ دسمبر کے حادثہ کا ایک روشن پہلو ہے۔ ۶ دسمبر کو جب بابری مسجد کی عمارت ڈھائی گئی تو اسی کے ساتھ موجودہ نام نہاد مسلم قیادت بھی ہمیشہ کے لئے ڈھ گئی۔
شام کو نمازِ عشاء کے بعد ڈاکٹر عبد الرزاق شیخ کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ شہر کے تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے اجودھیا کے مسئلہ پر تقریر کی اور تین نکاتی فارمولا کی تشریح کی۔ آخر میں سوال و جواب پر مجلس برخاست ہوئی۔ بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا کا پونہ کے لئے ایک ضمیمہ نکلتا ہے۔ اس کا نام پونے پلس (Pune Plus) ہے۔ شیخ کا ایک مراسلہ اس کے کل کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے تین نکاتی فارمولا کی مکمل حمایت کی ہے۔