Al-Risala · December 1993

They are killing the spirit of India.

Al-Risala, December 1993, pp. 45–50

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے کہا کہ اگر اجودھیا میں رام مندر بنتا ہے تو اس کے ساتھ وہیں ایک مسجد بھی بننا چاہئے۔ اور اگر ایسا ہواتو میں خود وہاں جاکر اذان دوں گا اور وہاں نماز پڑھوں گا۔ مغرب کی نماز پونہ میں پڑھ کر بمبئی کے لئے روانگی ہوئی ۔ یہ سفر بذریعہ روڈ طے ہوا ۔ اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چید آنند بھی ساتھ تھے۔ راستہ میں ایک چھوٹے بازار میں کچھ کام کے لئے رکے۔ دکاندار نے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ اس نے کہا کہ ابھی ہم نے آپ لوگوں کو ٹی وی پر دیکھا ہے۔ ٹی وی کسی شخصیت کی توسیع ہے۔ وہ اس عقیدہ کو قابل فہم بناتا ہے کہ خدا ہر جگہ موجود ہے۔ رات کو ساڑھے دس بجے ہم لوگ بمبئی پہنچے۔

فجر کی نماز بمبئی میں جو ہوا سکیم میں پڑھی۔ صبح کا کچھ وقت یہاں گزرا۔ اس کے بعد ہمیں ہیکر ٹاورس پہنچنا تھا۔ ہمارا تاتلۂ نین کاروں میں روانہ ہوا۔ میں مسٹر افضل الانہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے نئے تھے۔ وہ الیکٹرانک سنٹر چلاتے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے نئی ماروتی کار خریدی ہے۔ اس پر وہ مجھ کو لے کر روانہ ہوئے۔

لمبے راستہ میں ایک گھنٹہ تک زیادہ تر وہی بولتے رہے۔ ان کی گفتگو تمام کی تمام اس پر تھی کہ آج مسلم نوجوانوں میں زبردست فرسٹریشن ہے۔ یہ فرسٹریشن لڑائی جھگڑے کی صورت میں ظاہر ہوتارہتا ہے۔ انھوں نے موجودہ حالات کی ذمہ داری سب سے زیادہ ملکی تعصب پر ڈالی۔

ان کے ذاتی حالات معلوم کرتے ہوئے مجھے یہ پتہ چلا کہ وہ بمبئی آئے تو انھوں نے ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ کی "پگار" پر کام کرنا شروع کیا۔ عام رواج کے خلاف، انھوں نے کبھی بیٹھ سے تنخواہ اور الاؤنس بڑھانے کی بات نہیں کی۔ وہ بس اپنے کام میں محنت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کو کافی تجربہ ہوگیا۔ اب وہ الیکٹرانکس میں اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں اور بمبئی میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

آخر میں میں نے کہا کہ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی عملی زندگی الگ ہے، اور آپ کی سوچ آپ نے اپنی زندگی کے لئے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ بلاشبہ کامیابی کا طریقہ تھا۔ مگر یہ طریقہ آپ کی سوچ میں شامل نہ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ انڈیا میں مسلم نوجوانوں کے لئے کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ حالانکہ عین اسی وقت آپ اسی انڈیا میں مکمل کامیابی حاصل کئے ہوئے ہیں۔

میں نے کہا کہ آپ ہی جیسا معاملہ آج کل اکثر مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ ہیں، جنھوں نے اپنی ذات کی سطح پر محنت کرکے کامیاب زندگی حاصل کی ہے۔ مگر جب وہ بولتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کا تجربہ بیان نہیں کرتے۔ بلکہ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر شکایت اور مایوسی کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ آپ جیسے لوگ اگر صرف یہ کریں کہ وہ خود اپنا تجربہ لوگوں سامنے بیان کریں تو

ملت کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔

...اق م میں بمبئی صرف مچیروں کی ایک معمولی بستی تھی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ اشوک کی سلطنت کا حصہ بنا۔ اس کے بعد وہ مختلف راجاؤں کے ماتحت رہا۔ وہ خلجی خاندان کے قبضہ میں آیا۔ ۱۵۰۴ میں یہاں سمندر کے راستہ سے پرتگالی داخل ہوئے۔ ۱۶۶۱ میں جزیرہ بمبئی انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ ایک عرصہ تک وہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر انتظام رہا۔ ۱۸۵۰ میں پہلی سوتی مل یہاں قائم ہوئی۔

بمبئی میں میں" جو ہو اسکیم کے علاقہ میں ٹھہرا تھا۔ یہاں ہندوؤں کا اوپر کا طبقہ اور کچھ اعلیٰ طبقہ کے مسلمان رہتے ہیں۔ مختصر قیام کے دوران یہاں اس طبقہ کے لائف اسٹائل کو دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ اس اختلاط کے دوران یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہندو۔ مسلم اشوز کو اگر محدود دائرہ میں رکھا جائے ، ان کو قومی پرستیج کی حد تک نہ پہنچنے دیا جائے تو ہندوؤں کا اوپر کا طبقہ ان معاملات میں غیر جانب دار رہے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہندوؤں کے اوپر کے طبقہ کا وزن اس قسم کی تحریکوں کو نہ ملے تو اس کی واحد یقینی تدبیر یہ ہے کہ ان کو قومی پرستیج کی حد تک جانے سے روکا جائے۔

مثلاً اجودھیا کے مسئلہ کو اگر اجودھیا تک محدود رکھا جاتا، شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں ملکی اندولن نہ چلایا جاتا تو فرقہ پرست یا تشدد پسند عناصر کو اوپر کے طبقہ کے ہندوؤں کا تعاون ہرگز نہ ملتا۔

بمبئی میں مسٹر ایس آر سنگھوی (750625 ,750866 .Tel) سے ملاقات ہوئی، وہ کلکتہ میں رہتے ہیں اور ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ انھوں نے امرار کے ساتھ کہا کہ آپ کلکتہ کا ہم اس میں پورا تعاون دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم بنارس میں ہوئی۔ یہاں کالج میں مسلم لڑکے بھی تھے۔ ان کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایک دوسرے کے گھر میں آنا جانا تھا۔ کوئی بھید بھاؤ ہم لوگ ایک دوسرے سے بھائی کی طرح ملتے تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی ہندو مسلم ذہن کے ساتھ نہیں سوچتا تھا۔ ۶ سال میں بہت زیادہ فرق آگیا۔ ایک دوسرے کے درمیان بہت دوری ہم الرسائل دسمبر ۱۹۹۳

یہ اس وقت ہوا جبکہ ایک طرف بابری مسجد تحریک اٹھی، اور دوسری طرف رام مندر تحریک ان تحریکوں نے سارے ماحول میں زہر گھول دیا۔

گویا کہ موجودہ فرقہ وارانہ منافرت نہ مسلم دور حکومت کی دین ہے اور نہ ملک کے بٹوارہ وہ قریب کی بعض تحریکوں کا نتیجہ ہے جو نہایت غیر دانش مندانہ انداز میں چلائی گئیں۔ کچھ فرقہ پرست ہندو اگر ماضی کی بعض باتوں کو آج دہرارہے ہیں تو اس کی حیثیت حقیقتاً نکٹ بعد الوقوع کی ہے۔

ظہر کی نماز کے بعد مسٹر خوراکی والا شریف بمبئی نے پنچ پر شہر کے کچھ خاص لوگوں کو بلایا تھا۔ یہاں موجودہ حالات پر لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ مسٹر خوراکی والا نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ملک جدھر جا رہا ہے اس پر سب کو دکھ ہے۔ اب ہمیں سوچنا ہے کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہئے۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ ذاتی مفاد اور پارٹی پالٹیکس سے اوپر اٹھ کر دیش کے مفاد کو سپریم بنانے کی ورنہ قومی مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں۔

آج دن میں شہر کی کئی ممتاز شخصیتوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں ہندو اور مسلمان دونوں ہر ایک نے تین نکاتی فارمولا سے غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا اور اس کو ملک میں امن کے قیام کا ذریعہ بتایا۔

شام کو ۸ بجے جم خانہ کلب کے ہال میں عمومی اجتماع ہوا۔ تمام سیٹیں پوری طرح بھری ہوئی تھیں۔ اعلی تعلیم یافتہ افراد، ہندو اور مسلم دونوں بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ مقررین میں میرے علاوہ اچار یہ سوشیل کمار، سوامی چیدانند نانی پالکی والا، کارہ دینال سالمن پینٹا، لو مالوپ زنگ اور ایف ٹی خوراکی والا تھے۔

مسٹر سعید نقوی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میں فیض آباد کارہنے والا ہوں جواجو دجیا کے پڑوس میں ہے۔ مگر ۱۹۸۱ء کے ایجی ٹیشن سے پہلے تک میرے والدین کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ بابری مسجد کہاں ہے۔ یہ صرف تحریکوں کی دھوم تھی جس نے لوگوں کو اس سے باخبر کیا۔ پالکی والا نے اپنی تقریر میں کہا انڈیا میں اس وقت آپس کے جو جھگڑے ہیں وہ شرمناک حد تک بے معنی ہیں۔ ہم کو اگر ترقی کرنا ہے تو ہمیں ان آپسی جھگڑوں کو ختم کرنا ہوگا۔

اپنی تقریر ان الفاظ پر ختم کی: یا تو بھائیوں کی طرح زندگی گزاریے یا جانوروں کی طرح مرجائیے۔ Live as brother or die as animals. میں نے اپنی تقریر میں تین نکاتی فارمولے کی تشریح کی۔ آخر میں اچاریہ سوشیل کمار مائک انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں میں سے جن لوگوں کو فارمولے سے اتفاق ہے وہ ہاتھ اٹھائیں۔ اچانک کچھ مسلمان اٹھ کر شور کرنے لگے۔ ان کے شور میں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ صرف یہ سنائی دیا کہ: ہم مولانا کے فارمولے کو نہیں مانتے۔

اس کے بعد سوامی چید آنند اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے بڑے جذ باتی انداز میں میری اس سے لوگ ٹھنڈے ہوئے ۔ اس کے بعد نانی پالکی والا آئے۔ انھوں نے شاندار انگریزی تقریر میں میری زبردست حمایت کی۔ ان کی تقریر نہایت علمی اور نہایت موثر تھی۔ اس کے بعد مجمع بالکل خاموش ہوگیا۔

۲۰ فروری ۱۹۹۳ کو بمبئی کے مذکورہ جلسہ میں جس مسلمان بزرگ نے سب سے زیادہ ہنگامہ برپا کیا، وہ مولا نا ضیاء الدین بخاری تھے۔ موصوف ابتدا ایک معمولی اور گم نام چیز تھے۔ بعد وہ بمبئی کی مسلم سیاست کے میدان میں آئے۔ اپنی جوشیلی تقریروں کے ذریعہ انھوں نے مقامی مسلم حلقوں میں کافی شہرت حاصل کی۔ وہ " بیباک مسلم لیڈر" کے روپ میں ابھرے۔ اور ایک صحافی کے الفاظ میں، بمبئی کے مسلمانوں کی مزاحمتی سیاست کی علامت بن گئے۔ (ہندوستان، بمبئی، ۲۱- ۲۲

۲۰ فروری کے جلسہ میں انھوں نے اتنا شور کیا کہ کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ بات ہے کہ دو ماہ بعد ۲۱ اپریل ۱۹۹۳ کو یہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ بمبئی کے علاقہ ۔ بائی کلہ کی نائن پولیس بلڈنگ میں واقع ان کے دفتر میں چار مسلح لوگ داخل ہوئے اور ریوالور سے مسلسل فائر کر کے ان کو ہلاک کر دیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

بمبئی کے سفر پر روانگی سے پہلے بمبئی سے کئی ٹیلی فون آئے تھے کہ آپ بمبئی نہ آئیں۔ کچھ افراد آپ سے بہت ناراض ہیں۔ وہ آپ کے خلاف کچھ بھی حرکت کر سکتے ہیں۔ تاہم میں اللہ کے بھروسے پر بمبئی گیا۔ جس وقت ہال میں کچھ مسلمان ہنگامہ کر رہے تھے اور میں اسٹیج پر

خاموش بیٹھا ہوا تھا ، ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ کسی بھی طرف سے گولی آسکتی ہے اور یہیں میرا خاتمہ کرسکتی ہے ۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ میرے دل میں اس وقت ذرا بھی گھبراہٹ نہیں تھی ۔ جلسہ ختم ہوتے ہی ، اسٹیج کا پردہ اس کے ذمہ داروں نے کھینچ دیا ۔ اس کے بعد دو پولیس افسر میرے دائیں اور بائیں وہ باہر گاڑی میں سوار ہونے تک مسلسل میرے ساتھ رہے ۔

۲۰ فروری کی شام کو میں مسٹر افضل الانہ کی گاڑی میں ائیر پورٹ جانے کے لئے بیٹھا ۔ اسی وقت دو ہندو نوجوان گاڑی میں داخل ہوئے اور میرے دائیں اور بائیں بیٹھ گئے۔ میرے لئے نئے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم آپ کی حفاظت کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔ نے کہا: مولانامجی ، یری کوئی آپ پر گولی چلاتا ہے تو وہ گولی پہلے ہمارے سینہ کو چھید ے گی۔ کے بعد ہی وہ آپ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ لوگ ائیر پورٹ کے دروازہ تک میرے ساتھ رہے۔ شام کو فلائٹ نمبر ۱۸۳ ا کے ذریعہ بمبئی سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی ۔ کسی قدر لیٹ ہو کر جہاز نے 9 بجے بمبئی سے پرواز شروع کی ۔ راستہ میں چند اخبار ہندی اور انگریزی کے دیکھے۔ ہندی اخبار سندھیہ ٹائمس (۲۰ فروری ۱۹۹۳) میں ایک تفریحی کالم ہوتا ہے ۔ اس کا عنوان ہے: اٹ پٹے سوال، چٹ پٹے جواب۔ اس کے دو سوال و جواب اس طرح تھے:

سوال: جب دنیا کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں تو اس وقت راستہ کون دکھاتا ہے۔

سوال : یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ مگر ایک دہاتنے کو شکایت ہے کہ لگاتار پانچ ورشوں کی کڑی محنت کے بعد بھی پھل کڑوا ملا ۔ یہ کیا ماجرا ہے۔

جواب: پانچ سال میں محنت سے کریلے ہی بوئے ہوں گے۔

۲۰ فروری ۱۹۹۳ کی رات کو میں دہلی واپس پہنچا ۔ تاخیر کا سبب یہ تھا کہ جہاز غیر معمولی طور پر کئی گھنٹہ مگر مجھے ذاتی طور پر اس کا نقصان نہیں ہوا۔ کیوں کہ مجھے اس کی اطلاع بمبئی میں پیشگی طور پر مل گئی تھی اور میں نے اس وقت کو بمبئی میں استعمال کر لیا تھا۔

Printed page