مسجد کا مسئلہ
Al-Risala, February 1993, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
مسجد کے لفظی معنی ہیں ۔ سجدہ کرنے کی جگہ۔ اصولی طور پر ساری زمین مسجد ہے۔ کیوں کہ زمین میں جہاں بھی اور جس حصہ میں بھی نماز ادا کی جائے وہ کسی کمی کے بغیر پوری طرح ادا ہو جائے گی۔ حدیث میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات نقل ہوئے ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں :
أينما صليتم فهو مسجد ۔ تم جہاں بھی نماز پڑھ لو وہی مسجد ہے۔
جعلت لى الارض مسجداً وطهوراً ۔ پوری زمین میرے لیے مسجد اور پاک بنا دی گئی۔ أينما كنتم فصلوا تم جہاں ہو وہیں نماز پڑھ لو ۔
(الجامع لاحکام القرآن ، ۱۹ / ۱۹)
مسجد کے نام سے مخصوص عمارت جو بنائی جاتی ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی عبادت صرف اسی مسجد کے اندر ادا کی جاسکتی ہے۔ کسی آبادی میں مسجد بنانے کا خاص مقصد نماز کی کیوں کہ جگہ کی تعیین کے بعد جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا لوگوں کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ مساجد کا درجہ دنیا میں اس وقت چھوٹی اور بڑی تقریبا چالیس لاکھ مسجدیں ہوں گی۔ مگر تین مسجدوں کو چھوڑ کر ، تمام مسجدوں کا درجہ شریعت میں یکساں ہے۔ یہ تین مسجدیں یہ ہیں ۔ مکہ کی مسجد حرام، مدینہ کی مسجد نبوی اور فلسطین کی مسجد اقصیٰ۔
یہی تین مسجدیں ہیں جن کو اسلام میں امتیازی درجہ دیا گیا ہے۔ ان تین کے علاوہ جو مسجدیں ہیں وہ سب کی سب بالکل یکساں ہیں ، خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی ، تاریخی ہوں یا غیر تاریخی ، مشہور ہوں یا غیر مشہور۔ حتی کہ مذکورہ تین کے علاوہ بقیہ مسجدوں کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ آدمی ان کے علاوہ کسی اور مسجد میں فضیلت کے خیال سے جائے یا قریب کی مسجد کو چھوڑ کر بلا سبب دور کی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة سفر کیا جائے مگر صرف تین مسجدوں کے لیے۔ الرسائل فروری ۱۹۹۳
مساجد المسجد الحرام ومنسجد مسجد حرام اور مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔
الرسول ومسجد الاقصیٰ ( اخرجه البخاری ومسلم )
مذکورہ تین مسجدوں کے سوا سب مسجدیں اسلام کی نگاہ میں برابر ہیں۔ الا یہ کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی استثنا ثابت ہو۔ ان تین کے علاوہ کسی اور مسجد کو بطور خود اگر کوئی بڑا نام دے دیا جائے، مثلاً اس کو شہنشاہی مسجد کہا جائے تو ایسا نام ان هى الاسماء سميتموها (یوسف) کا مصداق ہوگا، وہ لوگوں کا اپنا خود ساختہ نام ہوگا۔ ایسے کسی نئے نام کی وجہ سے وہ مسجد امتیازی اہمیت کی حامل نہیں بن جائے گی۔