Al-Risala · February 1993

مسجد کس لیے

Al-Risala, February 1993, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو (الجن ۱۸) دوسری جگہ مدینہ کی مسجد کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ مسجد ہے جو اول دن سے تقویٰ کی بنیاد پر تعمیر کی گئی (التوبہ ۱۰۸) ان آیتوں سے مسجد کی حقیقت معلوم ہوتی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد وہ عمارت ہے جو صرف اللہ کی نسبت سے بنائی جاتی ہے۔ اس میں صرف اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت مسجد کو صرف ان اعمال کا مرکز ہونا چاہیے جو بندہ کو اللہ سے قریب کرنے والے ہیں۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے کہ مسجدیں متقیوں کا گھر ہیں (المساجد بيوت المتقين) دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسجد تقویٰ کی تربیت کا مرکز بنے۔ مسجد کا یہ مقصد خود متعین کر دیتا ہے کہ مسجد کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسجد کی زمین ، اس کی تعمیر، اس کا نظام، اس کے اندر کی سرگرمیاں، اس کا ماحول، سب کچھ تقویٰ کے اصول پر مبنی ہونا چاہیے ۔ اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جانا چاہیے کہ مسجد سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی معاملہ ایسا نہ ہو جو تقویٰ کے مقصد کو مجروح کرنے والا ہو۔ مسجد کے تمام معاملات میں اصل معیار تقویٰ ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز۔ مسجد کے معاملہ میں اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس پہلو کو ہمیشہ خاص اہمیت دی جاتی رہی ایسی باتوں سے ہمیشہ احتراز کیا گیا ہے جو کسی بھی درجہ میں تقویٰ کے مقصد کو نقصان پہنچانے یہاں ہم مساجد اسلامی کی تاریخ سے چند چیزوں کا ذکر کریں گے۔ یہ باتیں احاطہ کے طور پر بلکہ ان کی حیثیت علامتی مثالوں کی ہے۔

Printed page