Al-Risala · February 1993

غصب کی زمین نہیں

Al-Risala, February 1993, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطابق کسی مذہب کے عبادت خانہ کو ڈھانا ایک ظالمانہ فعل ہے (الحج ۴۰) خلیفہ ثانی عمر فاروقؓ کے زمانہ میں شام وفلسطین کے عیسائی علاقے اسلامی مملکت میں شامل ہوئے ۔ وقت مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جو عہد نامے لکھے گئے ان میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی درج تھا کہ ان کے گھر جا میں رہائش نہ کی جائے گی اور ان کو ڈھایا نہ جائے گا اور نہ ان میں کچھ کمی کی جائے گی (لا يُسكن كنائسهم ولا تُهدم ولا يننقص منها)

اسلام میں یہ بات سراسر ناجائز ہے کہ کسی کی زمین پر زبردستی قبضہ کر کے وہاں مسجد بنائی اگر غصب کی ہوئی زمین پر مسجد بنائی جائے تو اسلامی فقہاء کا کہنا ہے کہ ایسی مسجد میں نماز

پڑھنا جائز نہیں (لا تجوز فیة الصلاة)

بنو امیہ کے زمانہ میں دمشق کے ایک گرجا پر قبضہ کرکے مسلمانوں نے وہاں مسجد بنا لی تھی۔ کے بعد جب حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے جو نہایت صالح اور راشد حکمران تھے، عیسائیوں نے اس کی شکایت ان کے سامنے پیش کی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے حکم دیا کہ یہ مسجد عیسائیوں کے حوالے کردی جائے۔ اس واقعہ کی تفصیل عبد العزیز رشید الاهل کی کتاب الخلیفة الزاهد عمر بن عبد العزیز (مطبوہ قاہرہ) میں دیکھی جاسکتی ہے۔

Printed page