Al-Risala · February 1993

نزاعی مقام سے پر ہیز

Al-Risala, February 1993, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کے زمانہ میں ۱۶ھ میں فلسطین فتح ہوا۔ اس موقع پر خود حضرت عمر مدینہ سے فلسطین گئے تاکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان معاہدہ کی تکمیل کریں۔ اس سلسلہ میں جو واقعات تاریخ کی کتابوں میں آئے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ بات چیت کے دوران ایک بار حضرت عمر یروشلم کے کنیسہ قیامہ ، (Church of Resurrection) میں تھے۔ اس اثنا میں نماز کا وقت آگیا۔ انھوں نے وہاں کے بطریق (Patriarch) سے کہا کہ مجھے نماز پڑھنا ہے۔ نے کہا کہ آپ اپنی نماز یہیں گرجا کے اندر پڑھ لیجیے۔ حضرت عمر نے کہا کہ نہیں۔ اگر میں یہاں نماز پڑھوں گا تو بعد کے مسلمان یہ کہیں گے کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز پڑھی ہے، اس لیے ہم یہاں مسجد اور اس طرح مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مسجد اور چرچ کا جھگڑا کھڑا ہو جائے گا۔

حضرت عمر نے اس کے بعد یہ کیا کہ وہ چرچ سے نکل کر اتنے فاصلہ تک گئے جس کو پتھر پھینکنے کی دوری (stone's throw) کہا جاتا ہے۔ اور پھر وہاں اپنی عبا بچھا کر نماز ادا کی۔ بعد کو وہی ہوا جس کا اندیشہ حضرت عمر نے ظاہر کیا تھا۔ چنانچہ بعد کے مسلمانوں نے آپ کے نماز پڑھنے کی جگہ پر قبضہ کیا اور وہاں ایک مسجد تعمیر کی۔ یہ مسجد آج بھی یروشلم میں موجود ہے اور اس کا نام مسجد عمر ہے۔ یہ مسجد کنیسہ قیامہ سے رمیز حجر کے فاصلہ پر ہے۔ یعنی ایک پتھر ز دور سے پھینکا جائے تو وہ جتنی دور پہنچے گا اتنی ہی دوری پر یہ مسجد بنی ہوئی ہے۔

(عبد اللہائل، خطر اليهودية العالمية على الاسلام والمسيحية ، القاهرة ۱۶۴ م ۱۹۶۴ ، صفحہ ۱۲۹)

پروفیسر آرنلڈ (T.W. Arnold) نے اپنی مشہور کتاب تاریخ دعوتِ اسلام میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : (The Preaching of Islam) In company with the Patriarch, Umar visited the holy places, and it is said while they were in the Church of the Resurrection, as it was the appointed hour of prayer, the Patriarch bade the caliph offer his prayers there, but he thoughtfully refused, saying that if he were to do so, his followers might afterwards claim it as a place of Muslim

عمر نے بطریق کے ساتھ یروشلم کے مقدس مقامات کی زیارت کی۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ دونوں کنیسہ قیامہ میں تھے تو وہاں نماز کا وقت آگیا۔ مسیحی بطریق نے مسلم خلیفہ سے کہا کہ آپ کنیسہ ہی میں اپنی نماز پڑھ لیں۔ مگر انہوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے انکار کر دیا۔ کہا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو مسلمان بعد کو یہ دعویٰ کریں گے کہ یہ ایک اسلامی عبادت خانہ ہے (صفحه ۵۷) خلیفہ اسلام کا یہ عمل بتاتا ہے کہ نزاع کی جگہ پر مسجد تعمیر کرنا اسلام میں غیر مطلوب ہے۔ روحانی پاکیزگی کے لیے ہے، اور جس مسجد کے ساتھ جھگڑے کا ماحول قائم ہو جائے وہ مسجد بھی روحانی پاکیزگی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ نزاعی زمین پر اگر کوئی مسجد بنائی جائے تو وہ اللہ کی یاد کا مرکز بننے کے بجائے انسانی بگاڑ کا مرکز بن جائے گی۔ ایسی مسجد خود مسجد کے مقصد کی نفی کرنے والی ثابت

مزید یہ کہ ایسی مسجد امکاناتِ دعوت کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ اسلام کے لیے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اہل اسلام کو حکم دیا گیا ہے کہ دوسری قوم میں اگر تمہارے ساتھ زیادتی کریں تب بھی تم ایک طرفہ طور پر ان کے معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کرو (ابراهیم ۱۴) اس حکم کا مدعا یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلق قائم رہے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ اسلام اس کو پسند کرے کہ خود اہل اسلام ایسا فعل کریں جو داعی اور مدعو کے درمیان نزاع پیدا کر کے باہمی تعلقات میں تلخی پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔

اس حکمت کی بنا پر لازم ہے کہ اہل اسلام ایسی جگہ مسجد بنانے سے مکمل پر ہیز کریں جس کے بارہ میں یہ اندیشہ ہو کہ حال یا مستقبل میں اس کو فریقین کے درمیان نزاع کا مسئلہ بنایا جا سکتا ہے۔

Printed page