مسجد کی بے حرمتی
Al-Risala, February 1993, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
البخاری مسلم، النسائی، الترمذی، ابوداؤد اور موطا امام مالک میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ کی مسجد نبوی میں تھے۔ اس اثناء میں ایک دیہاتی وہ مسجد میں کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ آپ کے اصحاب اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے تو آپ نے فرمایا کہ ٹھہرو۔ اس کو کر لینے دو۔ دیہاتی آدمی جب پیشاب کر چکا تو آپ نے لوگوں سے کہا کہ پانی لے کر پیشاب کے مقام پر بہا دو اور اس کو صاف کر دو۔ پھر آپ نے دیہاتی کو بلایا اور اس سے نرمی کے ساتھ کہا :
اِنَّ هٰذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ یہ مسجد میں پیشاب اور گندگی جیسی چیزوں کے مِنْ هٰذَا الْبَوْلِ وَالْقَذَرِ اِنَّمَا ھِیَ لیے نہیں ہیں، وہ اللہ کی یاد کے لیے اور نماز لِذِكْرِ اللهِ وَالصَّلوةِ وَقِرَاءةِ القُرآنِ - کے لیے اور قرآن پڑھنے کے لیے ہیں۔ اس حدیث کو امام البخاری نے باب الرفق فی الامر کلہ کے تحت نقل کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد کی اتنی بڑی بے حرمتی کرے کہ وہ اس میں داخل ہو کر پیشاب کر دے تب بھی مسلمانوں کو مشتعل نہیں ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کو ہر حال میں نرمی اور بردباری کی روڈش پر قائم رہنا چاہیے۔ ان کی توجہ گندگی کی صفائی پر ممکنہ رہنا چاہیے نہ کہ گندگی پیدا کرنے والے سے انتقام لینے پر۔ ھذا کا معاملہ مساجد کے تاریخی واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو برطانیہ کا کے بیان کے مطابق ۵۷۰ء میں عرب میں پیش آیا۔ اس وقت یمن میں ایک مسیحی بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام ابرہہ اس نے اپنی راجدھانی صنعا میں ایک بہت بڑا کلیسا بنایا۔ اور چاہا کہ اس کو سارے جزیرہ عرب کی زیارت گاہ بنا دے۔ اس وقت کعبہ عربوں کا سب سے بڑا مقدس عبادت خانہ سمجھا جاتا تھا۔ طے کیا کہ وہ کعبہ کو ڈھا دے، تاکہ اس کے مقصد کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ ابرہہ ایک بڑی فوج لے کر یمن سے روانہ ہوا۔ اس میں ۶۰ ہزار سپاہی اور تقریبًا ایک
درج بن ہاتھی تھے ، مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے پڑاؤ ڈالا۔ اس کے فوجیوں نے یہاں لوٹ مار کی ۔ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب بن ہاشم کے دو سو اونٹ بھی تھے جن کو ابرہہ کے فوجی ہنکا لے گئے ۔
عبد المطلب اس کے بعد روانہ ہو کر ابرہہ کے پاس پہنچے اور اس سے ملاقات کی۔ وجیہہ آدمی تھے اور شاندار شخصیت کے مالک تھے ، جب وہ ابرہہ کے خیمہ میں داخل ہوئے تو ابرہہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اتر کر فرش کے اوپر ان کے پاس بیٹھ اس کے بعد ترجمان کے ذریعہ دونوں میں بات ہوئی ۔
ابرہہ نے ترجمان کی معرفت عبد المطلب سے پوچھا کہ آپ کے آنے کی غرض کیا ہے؟ نے جواب دیا کہ تمہارے آدمیوں نے میرے دو سو اونٹ پکڑ لیے ہیں۔ یہ اونٹ مجھے واپس دے دیے ابرہہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں آپ سے متاثر ہوا تھا۔ مگر آپ کی اس بات نے آپ کو میری نظر سے گرا دیا۔ آپ پر تعجب ہے کہ آپ مجھ سے اپنے اونٹ کی بات کرنے رہے ہیں، اور اس مقدس گھر کی بات نہیں کرتے جس کو ڈھانے کے لیے میں یہاں آیا ہوں۔ اس کے جواب میں عبد المطلب نے کہا: انا رب الإبل وللبيت رب يمنعه میں اونٹ کا مالک ہوں۔ اور مقدس گھر کا مالک خدا ہے ، وہ اس کی حفاظت کرے گا۔
( الكامل في التاريخ لابن اثیر ، ۴۴۴/۱ )
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۵ نازل ہوئی جو خاص اسی واقعہ کے بارہ میں ہے ، اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ قریش کے سردار عبد المطلب بہت بزدل تھے کہ انھوں نے کہ کی مقدس مسجد پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس سورہ میں صرف اللہ کی اس کارروائی کا ذکر ہے کہ اس نے حملہ آوروں کو پس پا کر کے مکہ کی مسجد کو بچا لیا۔ اس طرح قرآن کی یہ سورہ گویا عبد المطلب کے عمل کی تصدیق ہے۔ وہ بالواسطہ انداز میں اس اصول کو بتا رہی ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد کے خلاف اقدام کرے تو اس وقت اہل مسجد کو کیا کرنا چاہیے۔ اہل مسجد کو چاہیے کہ اس وقت اپنے آپ کو سنبھال لیں، اور مسجد کے معاملہ کو خدا کے حوالے کر دیں۔ مسجد یا عبادت گاہ کو ہمیشہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اگر ضد کا ماحول نہ ہو تو خود انسان کا ضمیر مسجد کا چوکیدار بنارہے گا۔