صبر : نفسیاتی قربانی
Al-Risala, February 1993, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت نے آپ کا تاہم ان کے کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ ان مومنین کے بارہ میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے : جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جب وہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ بے شک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے ہیں۔ یہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کا اجر دوہرا دیا جائے گا اس پر کہ انہوں نے صبر کیا ( القصص ۵۲-۵۴)
یہاں صبر سے مراد نفسیاتی صبر یا نفسیاتی قربانی ہے۔ مذکورہ اہل کتاب (عبد اللہ بن سلام وغیرہ) نے جس ایمان کا ثبوت دیا وہ نفسیات کی سطح پر صبر کی قربانی کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک اس بات پر کہ انہوں نے اپنی کتاب پر اور دوسرا اس بات پر کہ وہ قرآن پر ایمان لائے (مرۃ علی ایمانھم بکتابھم ومرۃ علی ایمانھم بالقرآن) صفوۃ التفاسیر ۴۳۹/۲ پہلا ایمان ان کو اس "صبر" کی قیمت دینے پر ملا کہ انہوں نے اپنے آپ کو قومی دین سے اوپر اٹھایا اور پیغمبرانہ دین کا حامل بننے کا ثبوت دیا جو قومی روایات میں گم ہو چکا تھا۔ ایمان کے لیے ان کو اس "صبر" کی قیمت دینی پڑی کہ انہوں نے ایک "اجنبی دین" کو پہچانا اور تمام مصلحتوں کو نظر انداز کر کے اس کا ساتھ دیا۔ اس دوگوز صبر پر وہ دہرا اجر کے مستحق قرار پائے۔ حقیقی ایمان کسی آدمی کو اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے لیے آدمی کو اپنی قوم سے کٹنا پڑتا ہے۔ اکابر کی حمایت سے محرومی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ ظواہر سے بلند ہو کر حقائق کو دیکھنا پڑتا ہے۔ نظر انداز کر کے اصول کو اپنانا پڑتا ہے۔
یہ ایک بے حد سخت امتحان ہے۔ غیر معمولی نفسیاتی قربانی کے بغیر اس درجۂ پر پہنچنا ممکن نہیں۔ اس نفسیاتی صبر کے بغیر کوئی شخص حق کو نہیں پا سکتا اور نہ اعلیٰ ایمانی ترقی حاصل کر سکتا۔