ایک واقعہ
Al-Risala, February 1993, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ایک واقعہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آیا ہے۔ ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ مدینہ میں ابوموسیٰ اشعری ایک بار عمر فاروق سے ملنے کے لیے ان کے گھر آئے۔ دروازہ پر کھڑے ہو کر انھوں نے کہا کہ آپ پر سلامتی ہو، یہ ابو موسیٰ الاشعری ہے (السلام عليكم هذا ابوموسي الاشعري) اس طرح انھوں نے تین مگر انہیں اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد وہ واپس چلے گئے ۔ حضرت عمر فالبا کسی کام میں مشغول تھے۔ فوری طور پر جواب نہ دے سکے۔ بعد کو جب انہیں معلوم ہوا کہ ابوموسیٰ الاشعری واپس چلے گئے تو اگلے دن حضرت عمر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تم واپس کیوں چلے گئے۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت مانگے، اور پھر بھی اس کو صاحب مکان کی طرف سے اجازت نہ ملے تو اس کے بعد وہ واپس چلا جائے ۔
حضرت عمر نے ابوموسیٰ الاشعری سے کہا کہ اس قول رسول پر تم گواہ پیش کرو، ورنہ میں تم کو سزا دوں گا (والا او جعثك) راوی کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجلسوں میں سے ایک مجلس میں تھا کہ وہاں ابو موسیٰ الاشعری آئے۔ وہ گھبرائے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ کہا کہ میں عمر کے یہاں گیا اور تین بار سلام کیا۔ مگر اجازت نہ ملی ، اس لیے واپس ہو گیا۔ کے بعد عمر نے مجھ سے واپسی کا سبب پوچھا۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی کے یہاں ملنے کے لیے جاؤ تو تین مرتبہ سلام کرو۔ اگر تین بار کے بعد اجازت نہ ملے تو واپس چلے جاؤ ۔
عمر نے کہا ہے کہ تم اس حدیث رسول پر گواہ لے آؤ، ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کہتے ہوئے سنا ہے۔ بتایا کہ یہ تو ایک معلوم بات ہے، اور اس کو بہت سے لوگوں نے سنا ہے۔ پھر ابو سعید خدری
اٹھ کر ان کے ساتھ روانہ ہوئے اور حضرت عمر کے پاس پہنچ کر اس قولِ رسول کی تصدیق کی ۔ کے بعد حضرت عمر نے اپنا حکم واپس لے لیا اور کہا کہ بازار کی مشغولیت نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا ( شغلنی الصفق بالاسواق) فتح الباری ۴۲/۱۱ حضرت ابی بن کعب کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو انھوں نے حضرت عمر سے کہا کہ اے عمر! رسول اللہؐ کے اصحاب پر عذاب نہ بنو۔ انھوں نے جواب دیا کہ سبحان اللہ، میں نے تو ایک پھر میں نے چاہا کہ اس کی حقیقت معلوم کروں ( لا تكن عذاباً علی اصحاب رسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ، سُبحانَ اللهِ ، إِنَّمَا سَمِعتُ شَيْئاً فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَبَتّب) فتح الباری ۴۲/۱۱ اس روایت سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کوئی شخص کسی سے ملنے کے لیے جائے اور صاحب مکان اس وقت اس کو ملاقات کا وقت نہ دے تو اس پر جانے والے کے دل میں ملال نہیں آنا چاہیے ۔ اسلامی مزاج کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو کسی معقول عذر پر محمول کرے اور بخوشی وہاں سے واپس چلا جائے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آدمی اگر غلط فہمی کی بنا پر کسی کے بارہ میں ایک غیر واقعی راے قائم کرلے تو اس پر لازم ہے کہ معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ معاملہ کی وضاحت کے بعد اپنی سابقہ رائے پر قائم رہنا مومن کا
تیسری بات جو اس واقعہ سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر کوئی شخص دوسرے شخص کے اوپر تنقید کرے ، تو خواہ یہ تنقید کتنے ہی سخت الفاظ میں ہو، زیر تنقید شخص کو اسے برا نہیں ماننا چاہیے ۔ اس کو چاہیے کہ تنقید کو ٹھنڈے دل سے سنے اور کسی اشتعال کے بغیر اصل بات کا جواب دے کر ناقد کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے ۔