35 burnt to death in bus mishap.
Al-Risala, February 1993, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کا سفر کتنا غیر یقینی ہے، مگر آدمی جب تک اپنے آخری انجام سے دوچار نہ ہو جائے وہ حقیقت کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
اسٹیٹس مین ( ۱۵ جنوری) میں صفحہ 4 پر ایک رپورٹ تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم مسٹر چندر شیکھر نے الیکشن مہم کے لئے انڈین ایئر فورس کے جہاز استعمال کئے۔ اس کا قرض ابھی تک ان کے اوپر باقی ہے جس کی مقدار چار کروڑ روپیہ ہے۔ یہ لیڈروں کے اس کرپشن کی صرف ایک بوند ہے جس نے آزادی کے بعد ملک کو اقتصادی دیوالیہ پن کے کنارے پہنچا دیا۔
روسی دانشور مسٹر الگزینڈر (Alexander Esaulov) دہلی یونیورسٹی میں ریڈر رہ چکے ہیں۔ ان کی ایک اپنیںڈ انڈین ایکسپریس (۲۵ جنوری) میں دیکھی۔ اس میں انھوں نے انسانی مدد (humanitarian aid) کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے ہندوستانیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے روسی بھائیوں کی مدد کریں جو بہت ہی زیادہ مشکل میں مبتلا ہیں:
He called on Indians to help their Russian brothers in their hour of great, very انھوں نے کہا تھا کہ روسیوں کو گفٹ پارسل، فوڈ اسٹف، گرم کپڑے اور دوائیں بھیجی جائیں۔ شکایت کی تھی کہ انڈین نے روس کو بھیجے جانے والے گفٹ آئٹم پر پوسٹل ریٹ میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ جب کہ امریکہ نے گفٹ پارسل کے لئے ایر میل ریٹ بہت کم کر دئے ہیں اور فرانس سے لاریوں میں بھر کر مفت سامان بھیجا جاتا ہے۔ حالاں کہ فرانس اور امریکہ روسیوں کے لئے دشمن ملک تھے اور ہندوستان اس کا دوست ملک۔
ہندوستان ٹائمز (۸ جنوری ۱۹۹۲) میں انڈین ایئر لائنز کے بارہ میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ کا عنوان تھا ـــــ جاڑے کے موسم میں پرواز اب بھی خطرناک :