Al-Risala · February 1993

Flying in winter still hazardous

Al-Risala, February 1993, pp. 36–46

By Maulana Wahiduddin Khan

انڈیا میں ۷۵ ہوائی اڈے ایسے ہیں جہاں سردی کے موسم میں گہرے کہرا کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پائلٹ رن وے کو دیکھ نہیں پاتا اور جہاز کو اتارنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا حل مشینی لینڈنگ سسٹم ہے۔ ہوائی اڈہ پر لگی ہوئی مشینیں ہوائی جہاز کو صحیح رخ کی رہنمائی دیتی ہیں اور جہاز نہایت صحت کے ساتھ رن وے پر اتر جاتا ہے۔ جاپان وغیرہ ملکوں میں ایسے آلات بنا لے گئے ہیں جو تقریباً بے خطا انداز میں کام کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی، جو خود بھی ایک پائلٹ تھے اور اس مسئلہ کی نزاکت کو سمجھتے تھے، انھوں نے اس اسکیم کو منظوری دے دی تھی کہ مشینی لینڈنگ کا نظام تمام ان ہوائی اڈوں پر لگایا جائے جہاں کہر کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر یہ معاملہ اب بھی وہیں باقی ہے جہاں وہ اس حکومتی منظوری سے پہلے ۱۹۸۵ میں تھا:

Even though former Prime Minsiter Rajiv Gandhi, who himself was a pilot, had sanctiond the scheme for installation of instrument landing system at all the fog- prone airports, the goal remains as elusive today as it was when it first visualised وزیر اعظم کے باقاعدہ حکم کے باوجود کیوں ہندستانی ہوائی اڈوں پر سابقہ صورت حالاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا معیاری مشینی نظام صرف باہر کے ملکوں (مثلاً جاپان) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر انڈیا کے پاس زر مبادلہ کی شدید کمی ہے۔ اس نے ایک ہندستانی کمپنی ڈیگراٹ الیکٹرانکس لمیٹڈ سے یہ مشینی نظام خریدا۔ مگر جب انہیں استعمال کیا گیا تو وہ انتہائی ناقابل اعتماد

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ میں حکومت کا حکم حاصل کرنا، بجائے خود اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ عملی حل کے لئے دوسرے بہت سے عوامل بھی لازمی طور پر ضروری ہیں۔ ان دوسرے عوامل کی مساعدت حاصل نہ ہو تو اعلیٰ سطح کے حکومتی آرڈر کے باوجود مسئلہ غیر حل شدہ حالت میں پڑا رہے گا۔

مشہور انگریزی روزنامہ اسٹیسمن (۱۵ جنوری) دیکھا۔ اس میں سو سال قبل شائع ہونے والا سال فروری ۱۹۹۳

اسی اخبار کا داریہ نقل کیا گیا تھا۔ اس کا عنوان تھا ۔ ڈیوک آف کلارنس کی موت: Death of the Duke of Clarence. ڈیوک آف کلارنس (Albert Victor) ایک برطانوی شہزادہ تھا۔ وہ ۱۸۶۴ میں پیدا وہ مستقبل کا بادشاہ (future king) کہا جاتا تھا۔ اس کی شادی شاہی خاندان کی ایک لڑکی سے طے ہو چکی تھی۔ ۱ جنوری ۱۸۹۲ کو یہ خبر آئی کہ شہزادہ کو انفلوئنزا ہو گیا ہے۔ چند دن تک شاہی مریض (royal patient) کا چرچا رہا۔ اور ۱۵ جنوری ۱۸۹۲ کو موصوف کا انتقال ہو گیا۔ ڈیوک آف کلارنس ، شاہانہ شادی اور برطانی تخت کے عین کنارے کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر لوگوں کو خوش شن کن فخر (pleasurable pride) کا ایک احساس جھلکتا ہوا نظر مگر مسرت واقتدار کے دروازہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی موت نے ان کو اس دنیا سے

انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ دروازہ عظمت میں داخل ہو رہا ہے۔ مگر موت اس کو یاد دلاتی ہے کہ وہ دروازہ عمر کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔

آٹھ بجے ہندی اور انگریزی میں اعلان ہو کہ اب سے کچھ ہی سنے بعد ہمارا درمیان حیدر آباد ایئر پورٹ پر اترے گا:

In a few minute, we shall be landing at Hyderabad. Please fasten your seat belt. یہ الفاظ سن کر ایسا محسوس ہو گیا کہ موت کا فرشتہ اعلان کر رہا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد تم آخرت کی دنیا میں اتارے جانے والے ہو۔ ایک لمحہ تاخیر کے بغیر اس کی تیاری شروع کر دو، حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی ہر آواز آخرت کی آواز ہے۔ مگر غافل انسان ہر آواز کو بس دنیا کی آواز سمجھتا ہے ، وہ اس سے اپنی آخرت کے لئے سبق نہیں لیتا۔

ایئر پورٹ سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حبیب بھائی کے مکان پر پہنچا۔ حیدر آباد میں میرا قیام انھیں کے مکان پر تھا۔ یہاں لوگ آتے رہے اور ان سے الرسالتشن کے بارہ میں اور ملی تعمیر کے موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

حیدر آباد کو قطب شاہی نے ۱۵۹۱ میں آباد کیا تھا۔ اپنے وقت کا وہ نہایت خوبصورت شہر شمار کیا جاتا تھا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ وہ منصوبہ بندی اور تعمیر کا ایک حیرت ناک نمونہ تھا: It was a marvel of planning and an architentural wonder. (9/75)

۱۶۸۵ میں مغل حکمران اورنگ زیب نے حیدر آباد کو سلطنت دہلی میں شامل کر لیا۔ مگر اس کوشش میں شہر برباد ہو گیا۔ دو سو سال تک شہر ایسا ہی پڑا رہا۔ جب مغل سلطنت کو زوال ہوا اس وقت آصف جاہ نظام الملک مغلوں کی طرف سے یہاں کا گورنر تھا۔ اس نے آزادی کا اعلان کر کے حیدر آباد پر قبضہ کر لیا۔ اس عمل میں اولاً فرخ اور اس کے بعد برٹش نے اس کی مدد کی۔ نے حیدر آباد میں ترقی کے بہت سے کام کئے۔

آزادی کے ۱۹۴۸ کے بعد رضا کا ر تحریک نے دوبارہ حیدر آباد کو تباہ کیا۔ نے حیدر آباد کو صرف بربادی کا تحفہ دیا تھا۔ تاہم حالات کے دباؤ کے تحت کچھ افراد کے اندر حرکت پیدا ملی سطح پر اگرچہ یہاں کی قوم لیڈروں کے نا عاقبت اندیشانہ انجام کی شکار ہے۔ کی سطح پر آپ کو یہاں ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے ذاتی دائرہ میں مختلف میدانوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ ریاست کے دور میں حیدر آباد میں صدر الصدور کا عہدہ ہوا کرتا تھا جو تمام امور مذہبی کا نگراں آصف جاہ سابع نے جب جامعہ عثمانیہ کے قیام کا ارادہ کیا تو اس وقت مولانا انوار اللہ خاں صدر الصدور تھے۔ انھوں نے یونیورسٹی کو دینی لحاظ سے مفربت کہا اور اس کی مخالفت کی اور عالی دکن کو اس سے باز رکھا۔ مولانا موصوف کے انتقال کے بعد مولانا حبیب الرحمن شروانی صدر الصدور مقرر ہوئے تو انھوں نے جامعہ عثمانیہ کی پر زور حمایت کی۔ انھیں کے زمانہ میں اس کا قیام ہوا۔ اختلافات کی بنا پر ۱۳ اپریل ۱۹۳۰ کو انھوں نے اس عہدہ سے استعفا دے دیا۔

مولانا حبیب الرحمن نے مولانا عبد الباری ندوی کو جامعہ عثمانیہ میں فلسفہ کے شعبہ کا استاد مقرر کر دیا۔ اس پر دربار کے لوگوں نے والی دکن کو یہ شکایت پہنچائی کہ شروانی صاحب نے ایک ایسے شخص کو فلسفہ کا پروفیسر مقرر کیا ہے جس کے پاس اس مضمون کی کوئی ڈگری نہیں۔ والی دکن میر عثمان علی خاں نے بازپرس کی تو مولانا شروانی نے مولانا عبد الباری ندوی کے رسالہ ” مذہب

وعقليات" کے ساتھ ایک خط والی ڈکن کو بھیجا۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ میں نے فلسفہ کے شعبہ کے لئے ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جس کے ہاتھ پر فلسفہ مشرف بہ اسلام ہوا ہے (قومی آواز، ۸ مارچ ۱۹۹۲) یہاں حبیب بھائی کے ذاتی کتب خانہ میں ایک کتاب دیکھی۔ وہ بزنس مینجمنٹ کے موضوع پر تھی۔ اس نام یہ ہے :۔

The Art of Japanese Management, by Anthony G. Athos, and Richard Tanner Pascale. اس کتاب میں بہت سی کام کی باتیں تھیں۔ اس کتاب کا خلاصہ اس کے اس جملہ میں تھا کہ کوالٹی کبھی اتفاقی طور پر حاصل نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ ہوش مندانہ محنت کا نتیجہ ہوتی ہے : Quality is never an incident. It is always the result of intelligent effort. حبیب بھائی کو آگئے ۔ وہاں ان کی ملاقات ایک مسیحی پادری سے ہوئی۔ اس نے کہا کہ عیسیٰ خدا کے بیٹے ہیں۔ اس کی دلیل یہ تھی کہ ہر آدمی ایک باپ سے پیدا ہوتا ہے۔ آپ بھی ایک باپ سے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر عیسیٰ مسیح کا کوئی باپ نہیں وہ براہِ راست خدا سے پیدا ہوئے ۔ ہم اور آپ انسان کے بیٹے ہیں۔ مگر عیسیٰ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔

حبیب بھائی نے کہا کہ مسیح کی تو پھر بھی ایک ماں تھی۔ مگر آدم کی تو نہ ماں تھی اور نہ باپ۔ آپ کے اصول کے مطابق آدم زیادہ حقیقی طور پر خدا کے بیٹے تھے۔ اس لئے آپ کو ماننا چاہئے کہ آدم خدا کے بیٹے تھے اور بقیہ انسان آدم کے بیٹے، اس لئے آپ کے اصول کے مطابق میں خدا کا پوتا ہوا :

So Adam was the son of God, and I am a grandson of God. یہ سن کر پادری چپ ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کا کیا جواب دے۔ حق تمام حقیقتوں کے مطابق ہے اور باطل تمام حقیقتوں کے غیر مطابق۔ یہی حق کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہی باطل کی سب سے بڑی کمزوری۔

ایک گجراتی بچہ بڑا ذہین تھا۔ کچھ بڑے لوگ بیٹھے ہوئے بات کر رہے تھے۔ ہر ایک اپنی

کامیابیوں کو بیان کر رہا تھا۔ بچہ خاموش سنتا رہا۔ اس کے بعد بولا ؛ اصل مشکل تو زیرو سے ایک تک پہنچنا ہے ۔ اس کے بعد گیارہ تو اپنے آپ آتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہی اصول الرسالہ مشن پر صادق آتا ہے۔ اس مشن کے سلسلہ میں اصل مشکل اس کو زیرو سے ایک تک لانا تھا۔ اب خدا کے فضل سے وہ ایک تک پہنچ چکا۔ اس کے بعد ایک کا گیارہ بننا خود اپنے زور پر ہوتا ہے اور وہ انشاء اللہ ہو کر رہے گا۔

کرنل جے بی سیٹھی بزنس ایگزیکٹیو ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے سماج میں ہزاروں لوگ دکاندا مار واری وغیرہ ، جن کے پاس کوئی بزنس ایجوکیشن نہیں ، اس کے باوجود وہ بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے غور کیا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ حبیب بھائی نے جواب دیا کہ اس کا خاص سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے کھونے کا اندیشہ (fear of loosing) سہارے والے آدمی کو کھونے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ جب کہ بے سہارا آدمی ہر لمحہ کھونے کے اندیشہ میں مبتلا رہتا ہے۔ وجہ ہے کہ دوسری قسم کے لوگ ہمیشہ زیادہ ترقی کرتے ہیں۔

ایک جلسہ میں حبیب بھائی نے کہا کہ تمام کامیابیوں کی کنجی سنجیدگی (sincerity) ہے ۔ صدیقی صاحب نے اس کی تکمیل کرتے ہوئے کہا کہ دو چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتی ہے ۔ یہ بات لفظ بلفظ صحیح ہے۔ اسی شخص سے گہرے عمل کا صدور ہوتا ہے جس کے اندر یا تو شوق کی آگ لگی ہوئی ہو یا ڈر کی۔ نفسیات نے اس کو اندر سے ہلا رکھا ہو۔

۱۵ جنوری کو میں حیدر آباد پہنچا تھا۔ یہاں پہلا اجتماع ظہر کی نماز کے بعد عزیز باغ میں ہوا۔ یہ شہر کے قارئین الرسالہ کا اجتماع تھا۔ اس میں خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تحریکیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو عوامی احساسات کی بنیاد پر یا کوئی ہر رنگ اشتولے کر اٹھے۔ ایسی تحریک کی آواز کو لوگ فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ بہت جلد اس کے گرد بھیڑ لگ جاتی ہے۔ مگر الرسالہ ایک نامانوس پیغام کو لے کر اٹھا ہے۔ اس لئے اس کو قابل فہم بنانے کے لئے پہلے ہمیں لوگوں کا ذہن بنانا ہوگا۔ موجودہ حالات میں اگر الرسالہ کے پیغام پر عوامی بھیڑ جمع نہیں ہو رہی ہے تو اس پر کسی کو تعجب کی ضرورت نہیں۔ دوسرے پیغامات کے لیے سماج میں تیاری (prepared mind) موجود جب کہ الرسالہ کے لئے خود ہم کو ذہن تیار کرنا ہے۔ جس دن یہ کمی پوری ہوگی اسی دن

انشاءاللہ رسالہ کی آواز ہی لوگوں کے لئے واحد قابل توجہ آواز بن جائے گی، اور حالات بتاتے ہیں کہ اس دور کا اب آغاز ہو چکا ہے۔

۱۵ جنوری کو تقریبا نصف دن حیدر آباد میں گزارنے کے بعد محبوب نگر کے لئے روانگی میں نے اپنی گاڑی کے ڈرائیور سے پوچھا کہ روڈ ایکسیڈنٹ سے بچنے کا راز کیا ہے۔ کہا کہ دوسرا ہٹنے کے لئے تیار نہ ہو تو اپنے آپ کو سامنے سے ہٹا دینا۔ میں نے سوچا کہ کار کا یہ گمنام ڈرائیور زندگی کے مسائل کو جس طرح جانتا ہے، ملت کے مشہور ڈرائیور اس راز کو کیوں نہیں دل نے جواب دیا کہ گم نام ڈرائیور اپنی فطرت پر ہے، جب کہ مشہور ڈرائیور اپنی استعمال پسند ذہنیت کی بنا پر فطرت سے بہت دور چلے گئے ہیں۔

۱۵ جنوری کی شام کو ہمارا قافلہ محبوب نگر پہنچا۔ یہاں تین دن قیام رہا۔ ملاقاتوں کے علاوہ مسلسل خطابات کا سلسلہ جاری رہا۔ بیشتر خطابات کریسنٹ پبلک اسکول میں ایک عمومی خطاب مدرسہ سراج العلوم میں ہوا۔ یہ تمام خطابات دعوتی اور تربیتی موضوعات پر تھے ۔ حیدر آباد اور محبوب نگر کے علاوہ قریبی مقامات کے لوگ بھی اس تربیتی کیمپ میں شریک خطابات کا خلاصہ اگلے صفحات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

محبوب نگر کے سفر کا خاص مقصد یہاں کے تربیتی کیمپ میں شریک ہونا تھا۔ یہ تربیتی کیمپ مولانا امیر اللہ خاں صاحب، مولانا سید اکبر الدین قاسمی اور جناب احمد بختیار الدین ایم ایس سی کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔

یہ تربیتی کیمپ اپنی نوعیت کا منفرد کیمپ تھا۔ موجودہ سفر نامہ میں اس کا تفصیلی نقشہ پیش کرنا مشکل ہے۔ دوسرے پروگراموں کے علاوہ اس موقع پر ایک پر ایک درجن خطابات ہوئے۔ خطابات میں جو باتیں کہی گئیں اور سوالات کے جوابات دیئے گئے ان کا خلاصہ اگلے صفحات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

محبوب نگر کے تربیتی اجتماع کے موقع پر الرسالة اکیڈمی، آندھرا پردیش کی طرف سے ۳۲ صفحات کا ایک پمفلٹ چھاپا گیا تھا جو لوگوں کے درمیان مفت تقسیم کیا گیا۔ اس کا نام تھا۔ حق : اہمیت، ضرورت اور تقاضے۔ اس پمفلٹ میں الرسالہ کی کچھ تحریریں جمع کی گئی تھیں۔

جناب احمد بختیار الدین صاحب کی طرف سے ایک '' ابتدائیہ '' شامل تھا۔ لوگوں نے اس کو کافی پسند

مولا نا عبدالقدیر قاسمی خطیب مسجد عابدین ، ناندیڑ) نے بتایا کہ ناندیڑ میں ہر سال شیوجینتی کا جلوس نکلتا ہے جو ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جلوس گزرنے کے وقت مسلم نوجوان مسجد کے سامنے جمع ہو جاتے۔ جلوس والے ان کو دیکھ کر نعرے لگاتے۔ سے جوان مشتعل ہو جاتے اور ٹنشن کی صورت پیدا ہو جاتی۔

۱۹۹۰ میں مولا نا عبدالقدیر صاحب نے مسلم نوجوانوں کو سمجھایا کہ جس نعرہ پر تم غصہ بہتے ہو، وہ نعرے دراصل اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ تم جلوس کے وقت مسجد کے سامنے سڑک پر جمع ہو جاتے ہو؛ تم کو دیکھ کر جلوس والوں کو جوش آتا ہے اور وہ نعرے کی صورت میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر تم وہاں کھڑے نہ ہو تو ان کے نعرے بھی ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔

مولانا عبدالقدیر صاحب کئی دن تک مسلم نوجوانوں کو سمجھاتے رہے۔ آخر کار وہ راضی ہو گئے ۱۹۹۰ میں حسب معمول شیوجینتی کا جلوس آیا۔ وہ سڑک سے گزرتا ہوا مسجد کے سامنے پہنچا۔ بار وہاں کوئی مسلمان موجود نہ تھا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس والے بھی ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس بار انہوں نے مسجد کے سامنے کوئی نعرہ نہیں لگایا۔ بس سڑک سے گزرتے ہوئے آگے چلے گئے۔ اس نے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ ان واقعات کو ابتدائی مرحلہ ہی میں ختم کر دیا جائے جو بڑھ کر فرقہ وارانہ فساد تک پہنچ جاتے ہیں اور جان و مال کی تباہی کا سبب بنتے ہیں محمد عبد القادر صاحب (پیدائش ۱۹۵۵ ، پولٹری کی تجارت کرتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ تعصب ہمیشہ مصنوعی ہوتا ہے۔ آپ ہوشیاری کے ساتھ تعصب کی ہر دیوار کو گرا سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے کئی تجربات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ۱۹۸۳ میں بینک سے ایک لاکھ روپیہ قرض لے کر پولٹری فارم کھولا۔ ابھی اس کی قسطیں ادا نہیں ہوئی تھیں کہ ۱۹۸۵ میں میں نے دوبارہ بینک کو مزید قرض کی درخواست دی۔ مقامی بینک منجر سخت متعصب تھا۔ اس نے چاہا کہ مجھے قرض نہ ملے اور میرا کاروبار فیل ہو جائے۔

اس درمیان میں زونل منیجر حیدر آباد سے یہاں آنے والا تھا۔ وہ ان فارموں کا معائنہ کرنا چاہتا تھا جفتروں نے ہمارے یہاں بینک سے قرض لیا ہے۔ ایک ہندو جو پولٹری فارم چلا رہا تھا اس نے بھی مزید قرض کی درخواست دی تھی۔ منیجر نے اس ہندو کو دو ہفتہ پہلے بتا دیا تھا کہ زونل منیجر آنے والے ہیں تم فاؤنڈیشن اسٹون کا انتظام کرلو۔ دوسری طرف عبد القادر صاحب سے کچھ نہیں بتایا۔ ان سے زونل منیجر کی آمد کو چھپایا۔

جب آخری وقت آگیا اور معلوم ہوا کہ وہ کل آنے والے ہیں تو آج شام کو عبد القادر صاحب کو بلا کر کہا کہ کل زونل منیجر آرہے ہیں تم اگر قرض لینا چاہتے تو فاؤنڈیشن اسٹون کا انتظام کر لو۔ کے ذہن میں یہ نقشہ تھا کہ اتنے کم وقت میں عبد القادر صاحب انتظام نہ کر سکیں گے اور ان کے قرض کی درخواست بھی رد ہو جائے گی۔ مگر عبد القادر صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔ اس دن انہوں نے ساری رات کام کیا اور فاؤنڈیشن اسٹون کا شاندار طور پر انتظام کر لیا۔ اگلے دن زونل منیجر آیا تو ہندو فارم پر معمولی انتظام تھا۔ چنانچہ وہاں وہ صرف پانچ منٹ رکا۔ مگر عبد القادر صاحب کے فارم پر وہ ایک گھنٹہ تک ٹھہرارہا۔ ان کے کام کی بہت تعریف کی اور فورا ان کے قرض کی رقم جاری کردی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمل کی طاقت سازش کی طاقت سے زیادہ ہے مگر آپ کے پاس عمل کی طاقت ہو تو آپ ہر سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ سازش خود آپ کی ترقی اور کامیابی کا زینہ بن جائے۔

مفتی سید تمیز الدین قاسمی ناندیر، الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کو الرسالہ سے سب سے پہلے ایک ہندو افسر نے متعارف کرایا تھا۔ یہ مسٹر آرونڈ پانڈے (رائنی کرپشن وہ انگریزی الرسالہ پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کئی مسلمانوں کے پاس الرسالہ کا اردو ایڈیشن حاصل کرکے بھجوایا۔ اور کہلایا کہ یہ ایک اچھا رسالہ ہے، اس کو آپ لوگ پڑھیں ۔ انہی میں سے ایک مفتی سید تمیز الدین قاسمی بھی ہیں۔ ان کو بھی مسٹر اروند کے ذریعہ الرسالہ ملا۔ پھر انھوں نے مسلسل اس کو پڑھنا شروع کر دیا۔

۱۹ جنوری کی شام کو محبوب نگر سے دوبارہ حیدر آباد کے لئے واپسی ہوئی۔ یہاں ۱۹ - ۲۰ جنوری کے درمیان کئی پروگرام ہوئے۔ فتح منزل میں ایک تفصیلی خطاب تھا جس میں ایمان و اسلام

کی حقیقت واضح کی گئی۔

جہانگیر پلازا کے ہال میں عمومی اجتماع ہوا۔ یہاں خطاب کا موضوع "اسلام اور امن عالم" تھا۔ مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں دو پروگرام ہوئے ۔ ایک ، پریس کانفرنس ۔ اور دوسرے ، شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا اجتماع جس میں سوال وجواب کی صورت میں گفتگو ہوئی ۔ سوال و جواب مجموعی طور پر اگلے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں ۔

19 جنوری 1992 کو مدرسہ ریاض الاسلام کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی۔ یہاں ایک عمومی جلسہ ہوا جس میں میری بھی ایک مفصل تقریر رہی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدوس زعیمی نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں ایک مدرسے کے ساتھ تعاون کرتا تھا۔ یہ 1950 کی بات ہے۔ ایک تاجر گیارہ روپے سال مجھے مدرسے کا چندہ دیا کرتے تھے۔ اگلے سال میں ان کے یہاں چندہ کے لئے گیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہو اے کہ تم وہابی ہو۔ ہم وہابیوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس لئے میں تم کو چندہ نہیں دوں گا۔ ڈاکٹر عبد القدوس صاحب نے ان سے کہا کہ آپ جیسے بہت سے لوگ مجھے کافر سمجھتے ہیں۔ کسی نے اب تک میرے منہ پر یہ بات نہیں کہی تھی۔ آپ نے میرے منہ پر مجھ سے یہ بات کہ دی۔ یہ آپ کے اخلاص کا ثبوت ہے۔ میں آپ کو مومن و مخلص سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبد القدوس صاحب نے مذکورہ تاجر کا ہاتھ پکڑا، اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اور کلمہ شہادت ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ گواہ ہیں ، آج میں آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہوں۔

اس واقعے نے مذکورہ تاجر کو بہت متاثر کیا۔ اس نے اپنے آدمی کو بلا کر کہا کہ گیارہ روپیہ انہیں ڈاکٹر عبد القدوس صاحب نے کہا کہ میں اس کو کبھی قبول نہیں کروں گا۔ آپ نے " کفر" کی حالت میں مجھ کو گیارہ روپئے سال دیا۔ اب " ایمان " کی حالت میں بھی کیا آپ مجھ کو وہی گیارہ روپے دیں گے ۔ انھوں نے کہا پھر اور کتنا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ایک سو گیارہ روپیہ سال۔ فورا ایک سو گیارہ روپے نکال کر پیش کردئے ۔

جامعہ ریاض الاسلام کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ ادارہ تقریباً دس سال سے حیدر آباد شہر میں دینی تعلیمی اور اسلامی تربیت کی خدمات اپنے محدود وسائل کے مطابق انجام دے رہے رہاہے۔ حفظ، ناظره، قاعدہ تجوید کے علاوہ دینیات، حساب، اردو، انگلش اور تلگو کی تعلیم کا نظم ہے۔ شہر کے علاوہ ارسال فروری ۱۹۹۳

دیہات و قصبات کے طلبا اقامت وطعام کی سہولت کے ساتھ تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں، غریب، یتیم طلباء کی کفالت مدرسہ کی جانب سے کی جاتی ہے۔ اس وقت مدرسہ اوپل کی قدیم بستی کے ایک سفال پوش کرایہ کے مکان میں چل رہا ہے جو مدرسہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے اعتبار سے ناکافی ہے۔ عرصہ سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ایک کشادہ آراضی پر مدرسہ کی تعمیر کی جائے جس پر، درس گاہیں، ہاسٹل، دفاتر، مطبخ کے علاوہ کھیل کود کے لئے میدان ہو، چنانچہ اس منصوبے کے تحت ۲ ہزار گز آر اضی اوپل بس ڈپو سے کچھ فاصلے پرمیں۔ ڈپلی حدود میں خرید کر مدرسہ کے نام رجسٹری کرا لی گئی ہے اور ایک مخیر خاتون نے اپنے مرحوم شوہر کے ایصالِ ثواب کی خاطر زمین پر بورویل کا نظم کر دیا ہے، جس پرجٹ پمپ اور کمرے کی تعمیر بھی ہو چکی اور ایک تجربہ کار آرکٹیکٹ کے ذریعہ نقشہ تیار کرایا گیا اور تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے تقریباً ۲۰ لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی ۔

۱۹۴۸ء کے انقلاب کے بعد سابق ریاست حیدرآباد میں جو تباہی آئی تھی وہ ایک عرصہ تک لوگوں کے لئے فریاد و ماتم کا موضوع بنی رہی۔ اس کے بعد یہاں کے مسلمانوں میں بیداری آئی۔ مختلف اقتصادی شعبوں میں اپنی محنت سے داخل ہو نا شروع کیا۔ دینی تعلیم اور سیکولر تعلیم کے ادارے قائم کئے جانے لگے۔ یہاں تک کہ اب حیدر آباد میں اتنی کثرت سے تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں کہ حیدر آباد کو مسلمانوں کا تعلیمی ایمپائر کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ میرا اندازہ ہے کہ حیدر آباد کے مسلمان آج اس سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں جیسا کہ وہ ۱۹۴۷ء سے پہلے تھے۔ ریاست پر بھروسہ سے انھوں نے جتنا پایا تھا۔ اس سے زیادہ انھوں نے اپنے آپ پر بھروسہ سے پایا۔

۱۹ جنوری ۱۹۹۲ کو میں جامعہ ریاض الاسلام کی نئی عمارت کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک تھا۔ تھوڑے فاصلہ پر ایک بلند اور شاندار عمارت نظر آئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک مسیحی ادارہ ہے۔ جو مسیحی تعلیمات کی نشرو اشاعت کے لئے قائم کیا گیا ہے۔

اس کے بعد میں نے جلسہ میں جامعہ ریاض الاسلام کے ذمہ داروں کی تقریریں سنیں۔ ان تقریروں میں سامنے دکھائی دینے والے بلند مسیحی ادارہ کے خلاف کوئی احتجاج نہ تھا۔ تقریروں کا سارا خلاصہ یہ تھا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہاں ایک عظیم اسلامی ادارہ بنا کر کھڑا کر دیں جو دور تک اسلام کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بن جائے۔ نے کہا کہ یہی مطلب ہے اس قدیم مثال کا کہ کسی کی لکیر کو چھوٹا ثابت کرنے کی سب سے زیادہ آسان صورت یہ

ہے کہ تم اپنی لکیر کو بڑا کر دو۔ اس کے بعد دوسرے کی لکیر اپنے آپ چھوٹی ہو جائے گی۔ ڈاکٹر عزیز احمد خاں صاحب ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی۔ ان کے خاندان کے تمام لوگ اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔ اور اس کا کریڈٹ خود عزیز احمد خاں صاحب کو حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں عام طور پر لوگ اپنی ذمہ داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو کسی اچھے اسکول میں داخل کر دو اور مزید ضرورت ہو تو ان کے لیے ٹیُٹر مقرر کر دو۔ مگر بچوں کی صحیح تعلیم کے لیے ماں باپ کو ان کے ساتھ محنت کرنا بہت ضروری ہے۔

اس سلسلہ میں عزیز احمد خاں صاحب نے کامیاب تجربہ کیا ہے۔ وہ پانچ سال کی عمر سے بچوں پر محنت شروع کر دیتے ہیں۔ ان کو گھر میں آسان انداز میں ضروری باتیں بتاتے ہیں۔ کہانیوں کے ذریعہ ان کے اندر اخلاقی احساس ابھارتے ہیں، وہ ماحول کی چیزوں کو بتا کر مختلف فنون سے انہیں آشنا مثلاً سورج، چاند اور ستارے کے ذریعہ فلکیات، موٹر کی پلیٹ نمبروں کے ذریعہ ریاضی، عمارتوں کے ذریعہ انجینئرنگ، اشتہاری بورڈوں کے ذریعہ تجارت، ندی پہاڑ، جنگل کے ذریعہ جغرافیہ، کہانیوں کے ذریعہ تاریخ، وغیرہ۔ اس طرح وہ بچوں کو ہر روز کئی کئی گھنٹے پڑھاتے ہیں۔ اور تیار کر کے ان کو میٹرک کے امتحان میں بیٹھا دیتے ہیں۔ اس کے بعد حسب استعداد آگے کی تعلیم میں بڑھاتے ہیں۔ ان کے گھر کے اکثر بچوں نے امتیاز کے ساتھ امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ یہی لڑکیاں آگے چل کر بچوں کی پہلی معلم بنتی ہیں، اُن پڑھ ماں کے بچہ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو اندھیری کوٹھری میں بند کر دیا جائے۔ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں ماں کے قریب پرورش پاتا ہے۔ اور ماں جب علم کے چراغ سے محروم ہو تو اس کے بچوں کو کس طرح علم کی روشنی ملے گی۔

وہ اکثر اپنے بچوں کو باہر لے جاتے ہیں۔ کہیں نظر آیا کہ مزدور لوگ دھوپ اور رٹی میں مشقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو بچوں سے کہا کہ دیکھو، انہوں نے پڑھا نہیں، اس لیے اب وہ مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال رہے ہیں۔ کسی کو لڑتے ہوئے دیکھا تو بتایا کہ دیکھو، اس نے ظلم حاصل نہیں کیا۔ اس کو زندگی کا طریقہ نہیں معلوم۔ اب وہ غیر ضروری طور پر لوگوں سے لڑ رہا ہے۔ بچہ کا گھر اس کی پہلی تعلیم گاہ ہے۔ گھر اگر تعلیم گاہ نہ بنے تو صرف باہر کا ادارہ اس کی تعلیم کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔

Printed page