عظمت قرآن
Al-Risala, March 1994, pp. 1–5
By Maulana Wahiduddin Khan
مارچ ۱۹۹۴ء ، شماره ۲۰۸ زیر سر پرستی مولا نا وحید الدین خان صدر اسلامی مرکز MASJID HASAN AL-THANI, MOROCCO ایمان ایک زندہ یقین کا نام ہے نہ کہ محض جامد اور بے روح عقیدہ کا ۔
تدوین و حفاظت قرآن خدا کی کتاب سچائی کو پانے والا قرآن ایک استثنائی کتاب ۴ اندھیرے میں اجالا ۲۸ ۶ قرآن نے فتح کیا ۳۰ ۸ حق کی یافت ۳۲ ۱۰ معجزاتی کلام ۳۴ ۱۲ قرآن اور عربی زبان ۳۶ ۱۴ بادشاہ جھک گیا ۳۸ خلل سے پاک قرآن کی طاقت ہران کا کرشمہ ۱۶ ناقابلِ اعتبار ۱۸ قرآن محافظ ہے ۲۰ خدا سے ڈرو ۲۲ سائنس داں کی گواہی ۲۴ قرآن کی تاثیر ۲۶ 1. Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Printed by Nice Printing Press, Delhi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ انصاف کے دن کا مالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے فضل کیا۔ ان کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو راستہ سے بھٹک گئے (الفاتحہ)
لوگو، عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تم کو اور تم سے قبل والوں کو پیدا کیا تا کہ تم بچ جاؤ۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنا دیا۔ اور اوپر سے پانی برسایا۔ تمہاری غذا کے لیے ہر طرح کی پیداوار نکالی۔ پس تم کسی کو اللہ کا برابر نہ ٹھہراؤ حالانکہ تم جانتے ہو (البقرہ ۲۱-۲۲) اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کو تھامے ہوئے ہے۔ اس کو نہ اونگھ لگتی اور نہ نیند آتی۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے سامنے بغیر اس کی اجازت کے سفارش کر سکے۔ جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے سب کا اسے علم ہے۔ اس کے علم کے کسی گوشہ پر بھی کوئی شخص حاوی نہیں ہو سکتا مگر وہ جو چاہے۔ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین پر چھایا ہوا ہے۔ ان کی نگہبانی اس کے لیے تھکا دینے والا کام وہی سب سے اوپر ہے، وہی سب سے بڑا (البقرہ ۲۵۵)
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے۔ اور تم کو ہماری طرف پلٹنا نہیں ہوگا۔ پس برتر ہے اللہ، بادشاہ حقیقی، کوئی اس کے سوا معبود نہیں۔ وہ مالک ہے عرش عظیم کا۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے تو اس کے پاس اس کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے۔ ایسے منکر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اور کہو کہ اے ہمارے رب! ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (المومنون ۱۱۵۔ اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے الجھیں تو وہ کہہ دیتے ہیں تم کو سلام۔ اور جو اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام میں رات گزارتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو جہنم کے عذاب سے بچالے، اس کا عذاب تو لپٹ جانے والا ہے۔ وہ براہی برا ٹھکانا ہے اور برا مقام۔ اور جو خرچ کرتے ہیں تو وہ نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔ اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اور وہ اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔ کوئی یہ کام کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا۔ قیامت کے دن اس کو دہرا عذاب دیا جائے گا اور اس میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا، الّا یہ کہ کوئی توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل صالح کرے، تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو وہ اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنا چاہیے۔ اور وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب وہ کسی لغو چیز پر گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے اور جنہیں اگر ان کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اس پر اندھے بہرے کی طرح اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پر ہیزگاروں کا امام بنا۔ یہی لوگ بالا خانوں میں جگہ پائیں گے کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور اس میں ان کا استقبال تحیت اور سلام کے ساتھ ہوگا۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہے وہ ٹھکانا اور کیا ہی اچھا ہے وہ مقام (الفرقان۔ ۶۳ - ۷۲)
اپنے رب کے راستہ کی طرف پکارو، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔ اور لوگوں سے بحث کرو ایسے طریقہ سے جو بہتر ہو۔ تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون سیدھے راستہ پر ہے۔ اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اتنا ہی لو جتنا کہ تم پر زیادتی کی گئی ہے ۔ اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ اور صبر سے کام لو، تمہارا صبر اللہ ہی کے لیے ہے۔ اور ان پر غم نہ کرو اور ان کی کارروائیوں پر دل تنگ نہ ہو۔ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈریں اور جو نیک عمل کرتے ہیں (النحل ۱۲۵ - ۱۲۸)
کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے کو پاک کیا۔ اور اپنے رب کا نام لیا۔ پھر نماز ادا کی۔ بلکہ تم دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔ اور آخرت بہتر ہے اور پائیدار ہے۔ یہی اگلے صحیفوں میں بھی ہے، اور ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں بھی (الاعلیٰ ۱۴-۱۹)