قرآنی افکار
Al-Risala, March 1994, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں وہ عام طور پر دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم کی چیزیں وہ ہیں جن کی ایک مثال گھر ہے ۔ دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں جن کی ایک مثال درخت ہے۔ گھر کیا ہے ۔ گھر متفرق اجزاء کا ایک مجموعہ ہے ۔ اینٹ ، سیمنٹ ، لوہا ، لکڑی ، اس قسم کی مختلف چیزوں کو مخصوص ترتیب سے اکٹھا کیا جاتا ہے تو ایک گھر بن کر تیار ہو جاتا ہے۔ گھر کا ہر جزو دوسرے جزو سے الگ ہے ۔ ان الگ الگ اجزاء میں جو چیز وحدت پیدا کرتی ہے وہ صرف ان کی
درخت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ درخت ایک وحدت کے متفرق ظہور کا نام ہے۔ درخت کی اصل ایک زندہ حقیقت ہے جس کو بیج کہا جاتا ہے ۔ یہ زندہ حقیقت جب اپنی تو سیعی صورت میں ظاہر ہو کہ تنہ ، شاخ ، پتی ، پھول ، پھل کی صورت میں کھڑی ہو جائے تو اس کو درخت کہا جاتا ہے ۔
قرآن میں کہا گیا ہے : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے ، اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر موقع پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے ۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (ابراہیم ۲۴-۲۵)
قرآن کی ان آیتوں میں ایک مثال کے ذریعہ ایمان و اسلام کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ کے مطابق ، اللہ پر ایمان ایک توسیع پذیر حقیقت ہے جس طرح بیج ایک توسیع پذیر حقیقت ہوتا درخت جب اپنی مطلوبہ زمین میں متمکن ہو جائے تو وہ بڑھنا شروع ہوتا ہے ۔ اطراف کی پوری دنیا سے اپنی خوراک لیتے ہوئے بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ مکمل درخت بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایمان جب ایک انسان کے سینہ میں جگہ پاتا ہے تو اس کے بعد وہ فوراً بڑھنے لگتا خدا کی پوری کائنات اس کے لیے رزق خیر" کا دستر خوان بن جاتی ہے۔ حیات انسانی کے تمام پہلوؤں میں اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ سر سبز و شاداب ربانی درخت
بن کر کھڑا ہو جاتا ہے جس کا دوسرا نام مومن ہے۔
جس طرح درخت تنه اور شاخ اور پھول اور پھل وغیرہ کی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس طرح ایمان بھی ایک فرد کی زندگی میں مختلف اور متنوع صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ با ایمان فرد ایک ایسی شخصیت بن جاتا ہے جو اپنے تتوسیعی پہلو سے زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلا ہوا ہو، ایمان کا یہ وسیعی اضافہ جن مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس کو الگ الگ ممیز کرنے کے لیے ان کو شکر، خشوع، تواضع، توکل، عبادت، صبر، اخلاق، حسن معاملہ، ایفاء عہد، عدل، ایمانداری، ادائگی حقوق، امر بالمعروف، دعوت الی اللہ وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایمان سب سے پہلے یہ کرتا ہے کہ وہ آدمی کی مردہ شخصیت کو ایک زندہ شخصیت بنا دیتا وہ اللہ کی معرفت میں غرق ہو جاتا ہے۔ اس کو ہر وقت اللہ کی یادوں کا رزق ملتا رہتا ہے۔ دنیا کی محدودیت سے نکل کر وہ آخرت کی لامحدود وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ حیات عارضی سے گزر کر حیات ابدی کے جلوؤں کو پا لیتا ہے۔ اس کو وہ بھر پور زندگی حاصل ہو جاتی ہے جس کو قرآن میں حیات طیبہ کہا گیا ہے۔
ایمان جب اس طرح کسی آدمی کی اندرونی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے تو وہ زندگی کے خارجی پہلوؤں میں بھی حسب حالات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ دوسروں سے بات چیت میں، دوسروں سے لین دین میں، دوسروں سے معاملہ کرنے میں اس کا حال وہ ہو جاتا ہے جس کا نقشہ قرآن کے ان لفظوں میں کھینچا گیا ہے : وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دے دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (الانعام ۱۲۲) اسی کے ساتھ اس فرد مومن میں اصلاح کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس جذبہ اصلاح کا ایک ظہور وہ ہے جو مومنوں کی جماعت کے درمیان ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ ہے جس کا ظہور غیر مسلموں کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ پہلے گروہ کے درمیان مومن کے اس اصلاحی کام کا عنوان، قرآن کے الفاظ میں، امر بالمعروف و النہی عن المنکر ہے، اور غیر مسلموں کے درمیان اس اصلاحی کام کا عنوان دعوت الی اللہ۔ اس قسم کے افراد جب قابل لحاظ تعداد میں اکٹھا ہو جائیں تو ان کے لیے اس اجتماعی نصرت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے جس کو تمکین فی الارض کہا گیا ہے۔