تدوین و حفاظت
Al-Risala, March 1994, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے لغوی معنی ہیں ــــ وہ چیز جو پڑھی جائے۔ قرآن یا القرآن اب اس مقدس کتاب کا نام ہے جو خدا کی آخری اور محفوظ کتاب ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کتاب کا پہلا حصہ ۶۱۰ میں مکہ میں فرشتہ جبریل کی معرفت اتارا گیا۔ اور اس کا آخری حصہ ۶۳۲ میں مدینہ میں ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے ۲۳ سال میں اس کے نزول کی تکمیل ہوئی۔ تمام الہامی کتابوں میں قرآن کی یہ استثنائی صفت ہے کہ اس کا متن تاریخی اعتبار سے ایک مکمل طور پر محفوظ متن ہے۔ مثال کے طور پر تورات اور انجیل اسرائیلی پیغمبروں کے ظہور کے کئی نسلوں کے بعد محض یادداشت سے لکھی گئیں اور پھر سیکڑوں سال تک ان کے علماء ان کتابوں کی غلطیوں کی بطور خود تصحیح کرتے رہے۔ مگر قرآن کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ مکمل طور پر خود پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں لکھا گیا۔ پورے علمی استناد کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبر نے جو الفاظ لکھوائے عین وہی الفاظ آج بھی قرآن کی صورت میں لکھے ہوئے ہمارے پاس موجود ہیں۔
قرآن کے متن کی حفاظت کا یہ انتظام کیا گیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر وقت کچھ ایسے اصحاب رہتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ جیسے ہی قرآن کا کوئی حصہ اترتا آپ فوراً ان کاتبوں میں سے کسی کاتب کو بلاتے اور بطریق املاء نازل شدہ آیتوں کو لکھوا دیتے ۔ اسی کے ساتھ آپ کے تمام اصحاب قرآن کو زبانی یاد کر لیا کرتے تھے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت کے لیے وہ دہرا انتظام کیا گیا جس کو ایک مستشرق نے دہر اچیکنگ (double-checking) کا نظام کہا ہے۔ اس دہرا نظام حفاظت کا مقصد یہ تھا کہ لکھے ہوئے کو یاد داشت سے جانچا جائے، اور یادداشت کو لکھے ہوئے سے جانچا جائے ۔ تاکہ کلام کی صحت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ قرآن کی حفاظت کا یہ دہر انتظام پورے اہتمام کے ساتھ برابر قائم رہا۔ ایک دن کے لیے بھی اس میں فرق واقع نہیں ہوا۔ ساری مسلم دنیا میں نسل در نسل لاکھوں لوگ ہر صبح و شام اس دہر انتظام کو قائم رکھنے میں مشغول رہے۔ یہ عمل ہزار سال سے بھی زیادہ مدت تک
مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی عیسوی میں پریس کا دور آگیا۔ پریس کا دور آجانے کے بعد قرآن میں تحریف یا تبدیلی کا امکان ہی سرے سے ختم ہو گیا۔ آج اگر کوئی شخص دنیا میں گھومے اور ہر شہر سے قرآن کا ایک چھپا ہوا نسخہ حاصل کرے۔ پھر وہ ان ہزاروں نسخوں کا تقابل کرے تو وہ ایک نسخہ اور دوسرے نسخہ میں کسی بھی قسم کا کوئی لفظی فرق نہیں پائے گا۔
قرآن کی صرف کتابت محفوظ نہیں ہے، بلکہ اس کا طرز ادا بھی محفوظ ہے۔ آج ایک مسلمان جب قرآن کو کھول کر پڑھتا ہے تو آواز کے اعتبار سے وہ اسی طرز ادا کا اتباع کرتا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا یا جس کی تلقین آپ نے فرمائی تھی۔ آج کے ایک قاری قرآن کے طرز ادا میں اور زمانہ نبوت کے طرز ادا میں حقیقی اعتبار سے کوئی صوتی فرق نہیں۔
مثال کے طور پر سورۃ القیامۃ میں ایک آیت ہے جو اس طرح لکھی جاتی ہے: وقيل عربی گرامر کے لحاظ سے اس آیت کو ایک جملہ کے طور پر مسلسل پڑھنا چاہیے ۔ مگر قرآن کا ہر قاری جب اس کو پڑھتا ہے تو وہ من پر سکتہ کرتا ہے۔ یعنی وقيل من کہہ کر وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھہرتا ہے، اس کے بعد وہ کہتا ہے: راق۔ قواعد زبان کے اعتبار سے اس طرز ادا کا کوئی سبب یہ صرف اس لیے ہے کہ راویوں نے یہ بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت پڑھی تو آپ من کہہ کر ایک لمحہ کے لیے رک گئے اور پھر اگلا لفظ ادا فرمایا۔ یہی معاملہ سارے قرآن کی تلاوت کا ہے۔
الفاظ قرآن کی ادائیگی میں نبوت کا یہ اتباع انتہائی کامل صورت میں آج تک قائم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح قرآن کو پڑھتے تھے، اس کو آپ کے اصحاب نے آپ سے سنا اور ٹھیک اسی طرح اس کو دہرایا۔ پھر تابعین نے صحابہ سے سنا اور عین اسی طرح اس اس کے بعد تبع تابعین نے تابعین سے سنا اور اس کو ویسا ہی دہرایا۔ اس طرح نسل در نسل نبوت کی تلاوت ٹھیک اسی طرح دہرائی جاتی رہی۔ پچھلے لوگ اپنے اگلے لوگوں کو اسے سناتے یہ سلسلہ زمانہ نبوت سے لے کر اب تک مسلسل بلا انقطاع جاری ہے۔ یہاں تک کہ آج ایک عرب عالم جب قرآن پڑھتا ہے تو گویا کہ وہ ایک زندہ ٹیپ کی مانند عین اسی تلاوت کو دہرارہا ہوتا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے فرمائی تھی۔