Al-Risala · March 1994

سچائی کو پانے والا

Al-Risala, March 1994, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

معانی کی دنیا خدا کے جلووں کی دنیا ہے۔ کون ہے جو خدا کے جلووں کو انسانی زبان میں بیان کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم جب کسی معنی کو بیان کرتے ہیں تو ہم اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اس کو کچھ گھٹا دیتے ہیں۔ اس کے اوپر ایک لفظی پردہ ڈال دیتے ہیں۔ کسی با معنی حقیقت کو کوئی شخص محض اس کے الفاظ سے سمجھ نہیں سکتا۔ ایک اندھا شخص کسی کے بتانے سے یہ نہیں جان سکتا کہ پھول کیا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جس نے معنوی حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر نہ جگائی ہو وہ معنوی حقائق سے باخبر نہیں ہو سکتا۔ خواہ ڈکشنری کے تمام الفاظ اس کے سامنے دہرا دیئے جائیں ، خواہ قاموس المعانی کی تمام جلدوں کو اسے پڑھا دیا جائے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ مگر اس کتاب سے ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اپنے اندر تقویٰ کی صفت رکھتا ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی اس کو ملتی ہے جس کے دل میں سچائی کی کھٹک موجود ہو۔ جو شخص سچائی کی تلاش میں ہو، سچائی جس کی ضرورت بن گئی ہو، جو سچائی کو پانے کے لئے اتنا بے قرار ہو کہ وہ اسی کی یاد لے کر سوتا ہو اور اسی کی یاد لیکر جاگتا ہو، جو آدمی اس طرح سچائی کا طالب ہو، قرآن اسی کے لئے ہدایت بنتا ہے۔ ایسا شخص گویا ہدایت کا نصف راستہ طے کر چکا ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے عہد الست کی خدائی آوازوں کو سن رہا ہے۔ وہ اپنے اندر اس صلاحیت کو بیدار کر چکا ہے جو معانی کی زبان کو سمجھتی ہے۔ ایسا شخص مادی دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے عالم حقائق سے اتنا قریب آ جاتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سرگوشیوں کو سننے لگتا ہے۔

نبوت کا علم ملنے سے پہلے یہ تمام تجربات آدمی کے اندر مبہم اور مجہول انداز میں ہوتے ہیں۔ کے بعد جب قرآن کی آواز اس کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ اس کی کتاب فطرت کی تفسیر بن جاتی ہے وہ اپنے اندر چھپے ہوئے غیر ملفوظ اشارات کو ملفوظ زبان میں پا لیتا ہے۔ اب قرآن اور قرآن کو پڑھنے والا دونوں ایک دوسرے کا مثنی بن جاتے ہیں۔ قرآن وہ بن جاتا ہے اور وہ قرآن۔

قرآن کی اہم ترین صفت یہ ہے کہ وہ ہدایت کی کتاب ہے۔ قرآن سچائی کا دروازہ ہے۔ کے ذریعہ آدمی سچائی کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ ہمارے پاسی آنکھ ہے۔ مگر جب تک کوئی روشنی اندھیرے کو نہ ہٹائے ہم باہر کی چیزوں کو دیکھ نہیں سکتے۔ قرآن یہی روشنی ہے۔ بصارت کو بصیرت کی نعمت عطا کرتا ہے۔

قدیم عرب میں بہت سے لوگ تھے جن کو حفا کہا جاتا تھا۔ آج کل کی زبان میں وہ سچائی کے ان کی اندرونی طلب ایک چیز کو چاہتی تھی۔ مگر ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ جب قرآن اترا اور انھوں نے اس کو پڑھا تو قرآن کی باتیں ان کو اپنے دل کی آواز معلوم ہوئیں۔ انھوں نے بڑھ کر اس کو قبول کر لیا۔ قرآن ان کے ذہن کے لیے اطمینان اور ان کے دل کے لیے تسکین کا ذریعہ بن گیا۔

ٹھیک اسی طرح آج بھی بے شمار لوگ ہیں جو حق کے متلاشی ہیں۔ مگر ان کو نہیں معلوم کہ وہ حق کیا ہے اور کہاں ہیں۔ ان میں سے کسی شخص کو جب قرآن پڑھنے کو ملتا ہے تو وہ پکار اٹھتا ہے کہ قرآن ہی وہ ہدایت نامہ ہے جس کی تلاش اس کی روح کر رہی تھی۔ وہ آگے بڑھ کر قرآن کے دین کو اختیار کر لیتا ہے۔ وہ قرآن کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔

آدمی ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سورج روشنی بکھیر رہا ہے مگر وہ نہیں بتاتا کہ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ ہوا میں اس کو آکسیجن سپلائی کرتی ہیں مگر وہ نہیں بتائیں کہ وہ کس منصوبے کے تحت ایسا کر رہی ہیں۔ یہاں ہر طرف صحت بخش پانی موجود ہے مگر وہ بھی اس کی خبر نہیں دیتا کہ وہ کس سرچشمہ رحمت کے فیض سے ایسا کر رہا ہے۔ زمین کی سطح پر جگہ جگہ اونچے پہاڑ کھڑے ہوئے ہیں مگر کسی پہاڑ پر ایسا کوئی بورڈ نہیں لگا ہوا ہے جس پر ان کا ئناتی سوالات کا جواب لکھا

قرآن اس کمی کو پورا کرتا ہے۔ قرآن حقائق فطرت کا اعلان ہے۔ قرآن ہم کو زندگی اور کائنات کے رازوں سے آگاہ کرتا ہے۔ وہ انسان کے آغاز اور اس کے انجام کی اطلاع قرآن ہر آدمی کے لیے گائیڈ تک ہے جس کی رہ نمائی میں وہ اپنے سفر حیات کو طے کر سکے۔

Printed page