Al-Risala · March 1994

قرآن ایک استثنائی کتاب

Al-Risala, March 1994, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

عبد اللہ بن المقفع عباسی دور کا ایک ادیب ہے۔ ۱۴۲ھ (۷۵۶ء) میں اس کا انتقال ہوا۔ اس نے ایک فارسی کتاب (پنچ تنتر) کا ترجمہ عربی میں کیا تھا جس کا نام کلیلہ و دمنہ ہے۔ یہ کتاب اولاً سنسکرت میں قدیم بھارت میں لکھی گئی تھی۔ مگر اب اس کا سنسکرت نسخہ معدوم ہو چکا ہے۔ کے ترجمے دنیا کی اکثر زبانوں میں ہوئے، مگر وہ سب اس کے فارسی ترجمہ یا عربی ترجمہ سے کیے گئے ہیں۔ محمد بن موسیٰ الخوارزمی (م ۷۸۰ء) بھی دور عباسی کا ایک مشہور عالم ہے۔ اس نے علم حساب میں ایک کتاب لکھی جس کا نام الجامع والتفریق بحساب الہند ہے۔ علم ہندسہ پر یہ کتاب بیحد اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس کا اصل عربی نسخہ معدوم ہو چکا ہے۔ اس کا قدیم ترین نسخہ صرف لاطینی ترجمہ کی صورت میں محفوظ ہے : His work on Hindu-Arabic numerals is preserved only in a Latin trnaslation. (V/797) دور پریس کے پہلے لکھی جانے والی اکثر کتابوں کا یہی حال ہے۔ وہ یا تو سرے سے معدوم ہو چکی مثلاً ابو مسلم خراسانی کی تفسیر قرآن ۔ یا اصل کتاب معدوم ہو گئی اور اب صرف اس کا ترجمہ دنیا میں پایا جاتا ہے ، جیسے کہ مذکورہ دونوں کتابیں ۔ اس میں مقدس کتابوں کا بھی استثناء نہیں۔ مثلاً انجیل کا قدیم ترین نسخہ یونانی میں ہے ۔ یہ ابتدائی انجیل کا ترجمہ ہے۔ وہ حضرت مسیح کے زمانہ کی انجیل نہیں۔ یونانی زبان حضرت مسیح کی زبان ہی نہ تھی۔ حتی کہ دور پریس سے پہلے کی جن کتابوں کا قدیم نسخہ موجود ہے، ان میں بھی دستی کتابت کی وجہ سے اتنا فرق ہے کہ ان کا کوئی بھی دو نسخہ بالکل یکساں نہیں۔ اس عموم میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ قرآن کا ہے۔ قرآن کا زمانہ نزول وہ مکمل طور پر دور پریس سے پہلے کے زمانے میں آیا۔ مگر حفاظت کے کامل اہتمام کے ساتھ وہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دور پریس میں پہنچ گیا، جس کے بعد کسی قسم کی تحریف یا تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔

یہ اس بات کا ایک تاریخی ثبوت ہے کہ قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ پھر یہ استثناء کوئی سادہ استثناء نہیں۔ وہ اتنا نادر ہے کہ انسانی اصطلاحوں میں اس کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی ۔ اس غیر معمولی

استثنا کی قابل فہم توجیہ صرف ایک ہوسکتی ہے، اور وہ یہ کہ اس کو خدائی ماملہ سمجھا جائے۔ یہ خدا تھا جس نے تاریخ میں مداخلت کرکے اس استثنا کو ممکن بنایا۔

قدیم یونان میں جو کتابیں یونانی زبان میں لکھی گئیں، ان میں دو کتابیں بہت مشہور ہیں۔ (Iliad) اور دوسرے اوڈیسی (Odyssey) ایلیڈ ایک مفروضہ جنگ کی کہانی بیان کرتی ہے اور اوڈیسی ایک مفروضہ سفر کی داستان ہے۔ لٹریری اہمیت کی بنا پر ان کتابوں کے ان گنت ترجمے کیے گیے ہیں۔ دونوں کتابوں کے بارے میں جیب بات یہ ہے کہ ان کے مصنف کا نام قطعیت کے ساتھ معلوم نہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کتابوں کا مصنف ہومر (Homer) ہے جس کا زمانہ غالباً نویں صدی یا آٹھویں صدی قبل مسیح تھا۔ تاہم ہومر کے بارہ میں تاریخی معلومات تقریبا نہیں کے برابر ہیں : Virtually nothing is known about the life of Homer (Vol. V, p. 103). محققین نے اس مفروضہ پر بھی زبردست اعتراضات کیے ہیں کہ یہ کتابیں فی الواقع ہومر کی تصنیف ہیں۔ مثلاً سموئیل بٹلر (۱۹۰۲ - ۱۸۳۵) کا خیال ہے کہ اوڈیسی ایک عورت کی لکھی ہوئی ہے۔ اسی طرح الیڈ کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ کئی مرحلوں میں مختلف افراد کی کوششوں سے مرتب ہوئی قدیم زمانہ کی کتابوں کا عام طور پر یہی حال ہے۔ ان کے بارے میں معلومات اتنی کم ہیں کہ ان کے ذریعہ ان کی کوئی واضح تاریخی تصویر نہیں بنتی۔

دور قدیم کی کتابوں میں قرآن واحد کتاب ہے جس کی ہر بات معلوم اور مسلم ہے۔ جس کی واقعیت تاریخ کے ہر معیار پر پوری اترتی ہے۔ جو مکمل طور پر ایک تاریخی کتاب ہے ــــ قرآن کب اترنا شروع ہوا، ۶۱۰ ع میں۔ کس کے اوپر اترا، محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کے اوپر۔ پیدا ہوئے اور کہاں وفات پائی، ۵۷۰ ع میں مکہ میں پیدا ہوئے اور ۶۳۲ ع میں مدینہ میں وفات قرآن کی زبان کیا تھی، عربی زبان۔ شروع میں قرآن کے کاتب کون لوگ تھے، ابو بکر بن ابی قحافہ، عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر بن العوام، زید بن ثابت، عامر بن فہیرہ، ابو ایوب انصاری، ابی بن کعب، معاویہ بن ابی سفیان، عبداللہ بن مسعود، وغیرہ۔

اسی طرح قرآن اور صاحب قرآن کے بارہ میں جو بھی تاریخی سوال کیا جائے، اس کا واضح جواب یقینی طور پر موجود ہوگا۔ جب کہ دور قدیم کی کسی بھی دوسری کتاب کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔

Printed page