Al-Risala · March 1994

علمی تصدیق

Al-Risala, March 1994, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

ستمبر ۱۹۹۲ میں ایک عالمی سفر کے تحت میں انگلینڈ میں تھا۔ برطانیہ کے وقت اور انڈیا کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے۔ یعنی ہر روز برطانیہ کی گھڑی چار گھنٹہ آگے ہوتی ہے اور اس کے مقابلہ میں انڈیا کی گھڑی ساڑھے چار گھنٹہ پیچھے ۔

ایک روز میں نے برمنگھم میں عشاء کی نماز پڑھی۔ اچانک خیال آیا کہ میں اس وقت اگر میں انڈیا پہنچ جاؤں تو وہاں منظر بالکل دوسرا ہوگا۔ جس وقت میں نے برمنگھم میں عشاء کی نماز پڑھی ہے، اُس وقت انڈیا کی مسجدوں میں عصر کی نماز کی تیاری ہورہی ہوگی۔ یعنی جس وقت برمنگھم میں رات ہے، اس وقت دہلی میں دن ہے۔ اور جس وقت دہلی میں دن نظر آرہا ہے اس وقت برمنگھم میں رات ہو چکی ہے۔

اس فرق پر میں غور کر رہا تھا تو مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے فلا اقسم برب المشارق والمغارب انا لقادرون) المعارج ۴۰ قرآن کے نزول کے وقت انسان کی زبان میں مشرق اور مغرب کے الفاظ صرف واحد کے صیغہ کے ساتھ استعمال ہوتے تھے، وہ جمع کے صیغہ کے طور پر استعمال نہیں کیے جاتے تھے۔ اس وقت کا انسان ایک مشرق یا ایک مغرب کو جانتا تھا، وہ کئی مشرق اور کئی مغرب کے تصور سے ناواقف مگر قرآن نے عمومی رواج کے خلاف ان الفاظ کو جمع کے طور پر استعمال کیا۔ اس طرح گویا اعلان کیا کہ یہاں مشرق بھی کئی ہیں اور مغرب بھی کئی ہیں۔ آج قرآن میں بتائی ہوئی یہ بات ایک آفاقی واقعہ بن کر ساری دنیا میں ثابت شدہ بن چکی ہے۔

قدیم زمانہ کا انسان صرف مقامی دائرہ میں سوچتا تھا۔ اس کو اس بات کی خبر نہ تھی کہ جس وقت وہ اپنے مقامی افق پر سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اس وقت دوسرے مقامات پر دوسری آفتابی حالت ہوگی۔ یا یہ کہ جس وقت وہ اپنے افق پر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے اس وقت دوسرے مقامات پر اس کے علاوہ دوسرا آفتابی منظر ہوگا۔ مگر آج یہ بات عمومی طور پر معلوم بات بن چکی ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن کی یہ آیت قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کا ایک علمی کیوں کہ چودہ سو سال پہلے جب کہ انسان تعدد مشارق اور تعدد مغارب کی حقیقت سے بے خبر تھا، یہ صرف ایک برتر ہستی ہی کے لیے ممکن تھا کہ وہ اس کائناتی حقیقت کو جانے اور اس کے بارے میں نہایت صحیح بیان دے۔

قرآن کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جس میں کائناتی مظاہر کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ستاروں کی گردش، از بین پر صبح و شام کا ہونا، ماں کے پیٹ میں بچہ کی پرورش، نباتات اور حیوانات کے معاملات، ہواؤں کے تصرفات، وغیرہ۔

قرآن میں یہ حوالے چودہ سو سال پہلے دیے گئے تھے۔ اس وقت انسانی تاریخ ابھی روایتی دور میں تھی۔ کائناتی مظاہر کے بارہ میں اس وقت جو خیالات دنیا میں پھیلے ہوئے تھے وہ سب تو ہمات اور مفروضات پر مبنی تھے۔ مگر قرآن کے ان حصوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قرآنی بیانات پر مروجہ اوہام کا کوئی عکس نہیں۔ زمانی خیالات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے قرآن میں ایسے اشارے کیے گئے جو بعد کی علمی دریافتوں کے عین مطابق تھے۔ مثلاً قرآن میں اعلان کیا گیا کہ تمام زندہ چیزیں پانی سے بنائی گئی ہیں (الانبیاء، ۳۰) اس آیت کے نزول کے وقت کوئی بھی متعین طور پر نہیں جانتا تھا کہ پانی اور زندہ چیزوں کے درمیان کس قسم کا ربط ہے۔ یہ بہت بعد کی تحقیقات ہیں جن کے بعد سائنس کی کتابوں میں لکھا گیا کہ نباتات، حیوانات اور انسان سب کے لیے پانی بالکل لازمی ضرورت ہے۔ نباتات اور حیوانات کے جسم میں جتنے بھی عمل ہوتے ہیں ان سب میں پانی کا حصہ ہوتا ہے :

Water is essential to terrestrial life, participating in virtually every process that occurs in plant and animal organism. (X/565)

پانی کی یہ اہمیت قدیم زمانہ میں متعین طور پر معلوم نہ تھی۔ اس وقت قرآن میں مذکورہ واقعہ کا اعلان کیا گیا، اور وہ اعلان بعد کی علمی دریافتوں کے عین مطابق ثابت ہوا۔ قرآن کا یہ پہلو اس بات کا یقین ثبوت ہے کہ قرآن ایک لامحدود ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ کوئی محدود ذہن ایسا ابدی کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔

Printed page