قرآنی انقلاب
Al-Risala, March 1994, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
جسٹس امیر علی (۱۹۲۸ - کی کتابوں میں اسپرٹ آف اسلام (The Spirit of Islam) بہت مشہور ہے۔ وہ پہلی بار ۱۸۹۱ء میں لندن سے شائع ہوئی۔ مصنف نے اس کتاب میں صفحہ ۲۹ پر پروفیسر جانسن (Johnson) کا ایک اقتباس نقل کیا ہے، یہ اقتباس قرآن کے بارہ میں ہے۔ پروفیسر جانسن لکھتے ہیں :
“If it is not poetry, - and it is hard to say whether it be or not, - it is more than poetry. It is not history, nor biography. It is not anthology, like the Sermon on the Mount; nor metaphysical dialectics, like the Buddhist Sutras; nor sublime homiletics like Plato’s conferences of the wise and foolish teachers. It is a prophet’s cry, Semitic to the core; yet of a meaning so universal and so timely that all the voices of the age take it up, willing or unwilling, and it echoes over palaces and deserts, over cities and empires, first kindling its chosen hearts to world- conquest, then gathering itself up into a reconstructive force that all the creative light of Greece and Asia might penetrate the heavy gloom of Christian Europe, when Christianity was but the Queen of Night.”
قرآن اگر شاعری نہیں ہے، اور یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ شاعری ہے یا نہیں ہے، تب بھی وہ شاعری سے زیادہ ہے۔ وہ تاریخ نہیں ہے اور نہ وہ سوانح عمری ہے۔ وہ انجیل کے پہاڑی کے وعظ کی طرح مجموعہ امثال نہیں ہے، وہ مابعد الطبیعاتی مکالمہ نہیں ہے جیسا کہ بدھا کے سوتر میں پایا جاتا ہے۔ وہ موعظت بھی نہیں ہے جیسا کہ افلاطون کے یہاں عاقل اور نادان کی مجلسوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک پیغمبر کی پکار ہے۔ وہ آخری حد تک سامی اور عربی ہے، اس کے باوجود اس میں ایسی معنویت ہے جو انتہائی آفاقی ہے اور وہ اتنا مطابق وقت ہے کہ ہر زمانہ کی آوازیں اس کو ماننے پر مجبور ہیں، خواہ وہ اس کو چاہیں یا نہ چاہیں ۔ اس کی آواز کی بازگشت محلوں اور صحراؤں میں ، شہروں اور بادشاہتوں میں سنائی دیتی ہے۔ پہلے وہ اپنے منتخب دلوں میں عالمی فتح کی آگ سلگاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی تعمیری طاقت بن جاتا ہے جیسے کہ یونان اور ایشیا کی تمام تخلیقی روشنی مسیحی یورپ کی گہری تاریکیوں میں داخل ہو جائے، اس وقت جب کہ مسیحیت صرف رات کی ملکہ کی حیثیت رکھتی تھی۔
قرون وسطیٰ میں یورپ کا طریقہ، اساتذہ کی کتابوں کو پڑھنا اور انھیں کی رایوں کو دہرانا تھا۔ اس کے مقابلہ میں عربوں نے تجربہ و مشاہدہ پر مبنی طریق تحقیق کو رواج دیا۔ تحقیقاتِ علمی کے لیے تجرباتی طریقہ کو کچھ لوگ غلط طور پر راجر بیکن کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طریقہ کے موجد عرب تھے۔ گستا ولیبان نے اعتراف کیا ہے کہ یہ دراصل عرب تھے جنھوں نے علمی تحقیقات میں تجربہ کو داخل کیا (تمدن عرب)
ڈریپر نے لکھا ہے کہ عربوں کی عقلِ سلیم نے یہ بات انھیں سمجھادی تھی کہ سائنس کی ترقی محض تخیل سے نہیں ہوسکتی۔ اس کا صحیح اور یقینی ذریعہ صحیفہ فطرت کا عینی مطالعہ ہے۔ نظری پر حکمتِ عملی کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے علم کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر تھی۔ فن ہندسہ اور ریاضیات کو وہ استدلال واستنباط کے آلات تصور کرتے تھے۔ علم ہیئت میں انھوں نے غیر معمولی ترقیاں کیں۔
موسیوتاتاں نے " جنرل ہسٹری آف سائنس" میں لکھا ہے کہ عربوں نے دنیا میں علمی ذوق کو نئے سرے سے بیدار کیا۔ وہ رصد گاہ، جر ثقیل اور علم کیمیا کے حیرت انگیز آلات کے موجد انھوں نے تاریخ میں پہلی بار اسپتال قائم کیا جہاں نہ صرف مریضوں کا علاج ہوتا تھا، بلکہ طبیبوں کی ٹریننگ اور طبی تحقیقات کا کام بھی انجام دیا جاتا تھا۔
عربوں میں یہ علمی ذوق کیسے پیدا ہوا۔ جواب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ۔ قرآن میں باربار نہایت طاقت ور انداز میں کائنات کے مطالعہ پر زور دیا گیا ہے۔ کائناتی مطالعہ پر یہ زور اگرچہ اثباتِ توحید اور اضافہ ایمان کے مقصد کے تحت دیا گیا تھا۔ مگر جب کائنات کے مطالعہ کا ذہن پیدا ہو گیا تو قانون فطرت کے مطابق وہ ایک حد پر نہیں رکا۔ وہ مزید آگے بڑھا۔ ذہن کے دوسرے فائدے بھی نکلے۔ ان میں سے ایک فائدہ مذکورہ سائنسی ذوق کا پیدا ہونا تھا۔
صحیح ذہن اور صالح مزاج پیدا کرنے کی مہم چلائی جائے تو ابتداً طور پر خواہ اس کا مقصد صرف ایک ہو، مگر جب وہ ظہور میں آتا ہے تو اس سے بے شمار دوسرے فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔