Al-Risala · March 1994

ایک تقابل

Al-Risala, March 1994, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

الگزینڈر تو سپکو (Aleksandr Tosipko) سوویت روس کے ایک مشہور فلسفی ہیں۔ ان کی عمر ۵۰ سال کے قریب ہے۔ وہ ماسکو کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنومک اینڈ پولیٹیکل اسٹڈیز میں پروفیسر ہیں۔ نیویارک کے ہفتہ وار میگزین نیوز ویک کے نمائندہ نے ان سے ماسکو میں ملاقات کی اور ایک خصوصی انٹرویو جو نیوز ویک کے شمارہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۰ میں چھپا ہے۔ ایک سوال و جواب یہ ہے: Q. How did your views of Marxism evolve? What was most important in your personal development? A. When you read ‘Das Kapital’ it’s all crystal clear by the time you reach page three. Only an idiot can really believe in Marxism. نیوز ویک کے نمائندہ نے پوچھا کہ مارکسزم کے بارے میں آپ کے خیالات کا ارتقاءء کس طرح ہوا۔ ذاتی ارتقا میں سب سے زیادہ اہم کیا چیز تھی۔ روسی پروفیسر نے جواب دیا: جب آپ مارکس کی کتاب داس کیپٹل کو پڑھیں تو اس کے تیسرے صفحہ تک پہنچتے ہی بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ کوئی دیوانہ ہی حقیقتہً مارکزم کی صداقت پر یقین کر سکتا ہے۔

سرمایہ دارانہ اقتصادیات کے بارے میں مارکس نے اپنی کتاب داس کیپٹل جرمن زبان میں لکھی تھی۔ پہلی بار ۱۸۶۷ء میں چھپی۔ اشتراکی حضرات کا کہنا تھا کہ یہ دور جدید کا قرآن ہے۔ اب انسان کو بائبل یا قرآن کی ضرورت نہیں، اب داس کیپیٹل انسان کے لیے رہنما کتاب ہے۔ مگر صرف ایک صدی کے اندر اس کا طلسم حتی کہ اب خود اشتراکی دنیا میں اس کتاب کو دیوانگی کی کتاب کہا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس قرآن اپنی اہمیت کو چودہ سو سال سے مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ صاحبِ قرآن کے خلاف اب تک اس قسم کی کوئی بات ثابت نہ کی جاسکی۔ قرآن آج بھی ’’کتاب لا ریب‘‘ بنا ہوا یہ قرآن کی ابدی صداقت کا ایک ناقابل انکار ثبوت ہے۔

انسانی کتابوں کا حال یہ ہے کہ وہ ’’تیسرے صفحہ‘‘ تک پہنچتے ہی اپنی غلطی کو واضح کر دیتی ہیں۔ کے برعکس قرآن اپنے ’’آخری صفحہ‘‘ تک ایک بے خطا کتاب ہے۔ یہ علمی واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے نہ کہ کوئی انسانی کتاب۔

قرآن میں اعلان کیا گیا کہ کائنات کا خالق صرف ایک ہے۔ ایک ہی عظیم ہستی ہے جس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا ہے اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہے۔ مگر مشرکین نے اس کی تردید کی۔ نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں بہت سی مختلف اور متضاد چیزیں ہیں۔ اسی کے ساتھ بظا اس میں جدا جدا نظام بھی نظر آتا ہے ۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات کے خالق بھی متعدد ہیں اور اس کو چلانے والے بھی متعدد۔

جدید سائنس کے ظہور سے پہلے بظاہر یہ استدلال وزنی معلوم ہوتا تھا۔ مگر جدید سائنسی تحقیقات نے بتایا کہ بظاہر ہر تنوع کے باوجود پوری کائنات ایک ہی قسم کے اجزاء سے ترکیب پا کر بنی ہے ، اور وہ ایٹم ہے۔ اسی طرح مزید تحقیق نے بتایا کہ پوری کائنات ایک ہی محکم قانون کے تحت چل رہی ہے۔ اس میں کئی الگ الگ قوانین کی کارفرمائی نہیں۔ اس طرح شرک کا مفروضہ بے بنیاد ثابت ہو گیا اور توحید کا عقیدہ ایک علمی حقیقت کے طور پر ثابت شدہ بن گیا۔ قرآن میں کہا گیا کہ کائنات ابتدائی حالت رتق میں تھی ، پھر اس کا فتق کیا گیا (الانبیاء، ۳۰) نزول قرآن کے وقت یہ انوکھی بات تھی۔ مزید یہ کہ وہ ایک پر خطر پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی۔ اگر وہ علمی مشاہدہ میں صحیح ثابت نہ ہو تو اس کے بعد پورا قرآن مشتبہ ہو جاتا۔ مگر بیسویں صدی کے نصف ثانی میں پہنچ کر خالص سائنسی طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ عین مطابق واقعہ بیان تھا۔ آج قرآن کی یہ پیشین گوئی بگ بینگ نظریہ کی حیثیت سے سائنس کا ایک مسلمہ بن چکی ہے۔

قرآن میں اعلان کیا گیا کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جو فرعون تھا ، سمندر میں غرق ہونے کے بعد اس کا جسم محفوظ کر دیا گیا ہے ، تاکہ بعد والوں کے لیے نشانی کا کام دے (یونس ۹۲) جس وقت یہ اعلان کیا گیا اس وقت فرعون کے جسم کے بارہ میں دنیا کو کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ یہ تاریخ کے بارہ میں ایک نہایت پر خطر بیان تھا۔ مگر انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں حیرت انگیز طور پر فرعون موسیٰ کا مومیائی کیا ہوا جسم مصر کے ایک اہرام سے برآمد ہو گیا اور آج وہ قاہرہ کے قومی میوزیم میں مشاہدہ عام کے لیے موجود ہے۔

اس طرح قرآن ہر دور میں اپنی صداقت کو مزید اضافہ کے ساتھ مسلم کرتا جا رہا ہے ۔ بعد کی علمی اور تاریخی دریافتیں قرآن کی تصدیق کر رہی ہیں ، وہ اس کی تردید کرنے والی نہیں بنیں۔

Printed page