صوتی اعجاز
Al-Risala, March 1994, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
۶ فروری ۱۹۷۶ کو لیبیا کی راجدھانی طرابلس میں عیسائی علماء اور مسلم علماء کی ایک کانفرنس اس کا نام اسلامی مسیحی ڈائیلاگ (Islamic-Christian Dialogue) تھا۔ کو ویٹیکن اور حکومت لیبیا نے اسپانسر کیا تھا۔ اس میں ستر ملکوں کے تقریباً ۵۰۰ علماء اور دانشور شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ مسیحی اہل علم اور مسلم اہل علم براہ راست گفتگو کر کے دونوں کے درمیان نزاعات کو ختم کریں اور باہمی طور پر امن و محبت کی فضا پیدا کریں۔ اس کانفرنس میں تین زبانوں (عربی، فرانسیسی، انگریزی) میں بولنے کا انتظام تھا۔ اس دو طرفہ بات چیت کے لیے جو موضوعات مقرر کیے گئے تھے وہ یہ تھے :
1. Can religion be an ideology for this life? 2. Social justice is the result of believing in God. 3. The common principles of faith in the two religions and points of encounter in the fields of life. 4. How to remove past and wrong judgments and lack of confidence which still separate us. ۶ فروری کی شام کو اس کانفرنس کا آخری اجلاس تھا۔ متفقہ طور پر یہ طے ہوا کہ حسن انجام کی علامت کے طور پر کانفرنس کا خاتمہ قرآن اور انجیل کی تلاوت پر ہو۔ اس کام کے لیے ایک مسیحی عالم کا انتخاب ہوا۔ طے ہوا کہ وہی قرآن کے ایک حصہ کی تلاوت کریں اور وہی انجیل کا ایک حصہ منتخب کر کے پڑھیں ۔ یہ مسیحی عالم لبنان میں پیدا ہوئے۔ وہ عربی زبان بخوبی جانتے تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے قاہرہ میں قیام کر کے باقاعدہ طور پر تجوید سیکھی۔ اس طرح وہ ایک اچھے قاری تھے۔ ان کی انھیں خصوصیات کی بنا پر انھیں مذکورہ خدمت کے لیے سب سے زیادہ موزوں سمجھا گیا۔ پروگرام کے مطابق ، مذکورہ مسیحی عالم ہی نے دونوں تلاوتیں کیں۔ انھوں نے عربی انجیل سے متی باب ۲۵ کا انتخاب کیا۔ وہ خوش الحان بھی تھے اور فن تجوید سے بھی واقف تھے۔ چنانچہ انھوں نے بالکل مصری قاری کی طرح اس کو پڑھا۔ اس کو بہتر بنانے کے لیے انھوں نے اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالی۔ اس کے بعد اسی مسیحی عالم نے خود اپنے انتخاب کے مطابق ، قرآن سے سورہ البقرہ کا آخری رکوع اور سورہ العلق کی کچھ آیات پڑھیں۔ دونوں تلاوت میں انھوں نے تجوید اور قرأت کے اصولوں کا
پورا اہتمام کیا۔ قرآن کو انھوں نے حسب قاعدہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا، اور تلاوت کے خاتمہ پر آخر میں صدق اللہ العظیم کہا۔
یہ میری زندگی کا ایک انوکھا تجربہ تھا اور غالباً ان ایک ہزار سامعین کے لیے بھی نیا اور انوکھا تھا جو اس وقت طرابلس کے مسرح التحریر میں موجود تھے۔ اصل انجیل ایک خدائی کتاب تھی۔ ہے کہ اس کا موجودہ عربی ترجمہ عملاً ایک انسانی کلام ہے۔ اس کے برعکس قرآن کی زبان مکمل طور پر الہامی زبان ہے۔ جب دونوں کتابوں کے حصے بیک وقت لوگوں کے سامنے آئے تو دونوں کا فرق ایک کھلی ہوئی حقیقت بن کر لوگوں کے سامنے آگیا۔ یہ دوطرفہ تلاوت گویا ایک خاموش اعلان تھی کہ یہ انسانی کلام ہے اور وہ خدائی کلام۔
انجیل کی قرأت میں ساری کوشش کے باوجود کوئی شکوہ پیدا نہ ہوسکا۔ مگر انجیل کی تلاوت کے بعد جب لاؤڈ اسپیکر پر قرآن کی تلاوت کی گئی تو قرآن حیرت انگیز طور پر ایک برتر کلام کی مانند ہال کے اندر گونجنے لگا۔ اس کی مجرد سماعت ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے اور وہ کوئی عام انسانی کلام مسیحی عالم نے انجیل کے بعد جب قرآن کی تلاوت کی تو ایسا محسوس ہوا جیسے قرآن کی آواز نے انجیل کی آواز کو نگل لیا ہو۔ اس وقت بالکل وہی منظر دکھائی دینے لگا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : فإذا هی تلقف ما يأفكون ( الاعراف (۱۱۷ کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد تمام لوگ ایک بڑے ہال میں چائے پینے کے لیے جمع ہوئے، میں جس میز پر بیٹھا اس کے دوسرے جانب ایک نوجوان پادری تھے جو ویٹیکن سے آئے تھے۔ ان کا نام اینٹونی شولیکل (Dr Antony Shollikal) تھا۔ کانفرنس کے آخری پروگرام کا اثر ابھی سب کے ذہنوں پر باقی تھا جبکہ انجیل کی آواز پر قرآن کی آواز اس طرح چھاگئی جیسے کہ قرآن نے اس کو نگل لیا ہو۔ اس پس منظر میں چائے کی میز پر ہم دونوں کی بات شروع ہوئی۔ میں نے ڈاکٹر شولیکل سے کہا : آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا قرآن خدا کی کتاب ہے۔ ڈاکٹر شولیکل سمیت تمام پادری اگرچہ کانفرنس ہال میں قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کی تردید کر چکے تھے۔ مگر مذکورہ تقابلی قرأت کے زیرِ اثر ان کی زبان سے نکلا لیکن جلد ہی بعد انھیں محسوس ہوا کہ انھوں نے اپنے عقیدہ کے خلاف ایک بات کہہ دی۔ چنانچہ اگلے لمحہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا : مگر وہ صرف قدیم عربوں کے لیے تھا نہ کہ تمام انسانوں کے لیے۔