Al-Risala · March 1994

اندھیرے میں اجالا

Al-Risala, March 1994, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

سید امیر علی (۱۹۲۸-۱۸۴۹) کی مشہور انگریزی کتاب ہے جس کا نام روحِ اسلام (The Spirit of Islam) ہے ۔ اس کتاب کے نویں باب میں انھوں نے ایک جرمن مستشرق کا اقتباس ان الفاظ میں نقل کیا ہے :

It was the Koran—"a book by the aid of which the Arabs conquered a world greater than that of Alexander the Great, greater than that of Rome, and in as many tens of years as the latter had wanted hundreds to accomplish her conquests; by the aid of which they alone of all the Shemites came to Europe as kings, whither the Phoenicians had come as tradesmen, and the Jews as fugitives or captives; came to Europe to hold up, together with these fugitives, the light to humanity;—they alone, while darkness lay around, to raise up the wisdom and knowledge of Hellas from the dead, to teach philosophy, medicine, astronomy, and the golden art of song to the West as to the East, to stand at the cradle of modern science, and to cause us late epigoni for ever to weep over the day when Granada fell" (p.394). قرآن ہی وہ کتاب ہے جس کی مدد سے عربوں نے ایک ایسی دنیا کو فتح کیا جو سکندر اعظم سے بھی زیادہ بڑی تھی ، جو روم کی سلطنت سے بھی زیادہ وسیع تھی۔ اور وہ بھی چند دہے میں جس کو پورا کرنے میں موخر الذکر کو کئی سو سال لگ گیے۔ قرآن ہی کی مدد سے ایسا ہو اک تمام سامی اقوام میں وہ تنہا لوگ تھے جو یورپ میں حکمراں کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ جہاں فینیقی تاجر کی حیثیت سے آئے تھے ، اور یہودی پناہ گیر یا قیدی کی حیثیت سے ۔ وہ یورپ آئے تاکہ ان پناہ گیروں کے ساتھ انسانیت جب کہ چاروں طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ انھوں نے یونان کے علم و حکمت کو دوبارہ زندہ کیا۔ انھوں نے مغرب کو فلسفہ ، طب ، فلکیات ، اور موسیقی کا زریں فن سکھایا جیسا کہ انھوں نے مشرق کو سکھایا تھا۔ وہ جدید سائنس کا گہوارہ بن کر کھڑے ہوئے۔ اور انھوں نے ہم بعد میں آنے والوں کو اس کا ماتم کرایا جب کہ غرناطہ ان کے قبضہ سے نکل گیا۔ پچھلے زمانہ کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک تسخیری طاقت ثابت ہوا تھا۔ آج کے مسلمانوں کے لیے قرآن کوئی تسخیری طاقت نہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ آج کے مسلمانوں نے قرآن کی طاقت کو استعمال ہی نہیں کیا۔

دورِ اول میں قرآن نے اس طرح لوگوں کو متحرک کیا کہ وہ دنیا سے اندھیروں کو ختم کرنے والے اور ہر طرف اجالا پھیلانے والے بن گئے ۔ ان سے لوگوں کو رہنمائی ملی، جب کہ اس سے پہلے لوگ گمراہی میں بھٹک رہے تھے ۔

ایسا کیوں کر ہوا ۔ وہ اس طرح ہوا کہ انھوں نے قرآن کو پڑھ کر اس میں عظیم ترین سچائی کو پایا۔ ان کے لیے حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کا ذریعہ بن گیا۔ قرآن نے ان کے ذہن کے بند دروازوں کو کھول قرآن نے ان کے سینے میں حوصلے کے چشمے جاری کر دیے۔ قرآن نے ان کی سوچ کی سطح کو بلند کیا اور اسی کے ساتھ ان کے کردار و عمل کے معیار کو بھی اونچا کر دیا۔ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز متحرک کرتی ہے وہ یہ کہ وہ اپنی زندگی کے لیے کوئی اعلیٰ قرآن نے دورِ اول کے اہلِ ایمان کو یہی اعلیٰ مقصدِ حیات دیا۔ یہ مقصد اتنا بلند تھا کہ اس کی حد کہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس لیے ان کی ذات سے ایسے اعمال ظاہر ہوئے جو کسی حد پر رکنا نہیں جانتے تھے۔

قرآن نے ان کے شک کو یقین میں بدلا۔ قرآن نے ان کو ذاتی مفاد کے دائرہ سے اٹھا کر آفاقی مفاد کے دائرہ میں پہنچا دیا۔ قرآن نے ان کے ذہن کو جگا کر اس کے اندر سوچ کی بے پناہ طاقت بھر دی۔ قرآن نے انھیں ہر عشر میں بیس کو دیکھنے والی نگاہ عطا کر دی۔ جو لوگ اس طرح کی خصوصیات کے حامل بن جائیں وہ پہاڑ سے زیادہ طاقت ور اور سمندر سے زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ، ایک مستشرق کے الفاظ میں ، ان میں سے ایک ایک شخص ہیرو بن گیا۔ حتیٰ کہ نزولِ قرآن کی سرزمین کا یہ حال ہو گیا کہ وہ ہیرؤوں کی زرخیز زمین بن گئی ہو ۔

انسان کے اندر فطری طور پر غیر معمولی صلاحیتیں رکھی گئی ہیں۔ یہ صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کو جگانے کے لیے کسی طاقت ور فکری بھونچال کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن آدمی کے اندر یہی فکری بھونچال پیدا کرتا ہے۔ قرآن آدمی کی فطری طاقتوں کو جگا کر اسے بے پناہ بنا دیتا ہے ۔ قرآن آدمی کے اندر انقلاب پیدا کر کے اس کو ایک نیا انسان بنا دیتا ہے۔ وہ انسان سے اوپر اٹھ کر سپرانسان بن جاتا ہے ۔

Printed page