Al-Risala · January 1994

انتقام نہیں

Al-Risala, January 1994, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا ــــ یہ زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے، اور جو شخص موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہو، اس کئے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اس حقیقت کا پورا لحاظ کرے۔

ایک شخص سے آپ کو تکلیف پہنچی۔ آپ کے دل میں اس کے خلاف انتقام کا جذ بھڑک اٹھا۔ آپ چاہنے لگے کہ اس سے بدلہ لے کر اپنے سینے کی آگ ٹھنڈی کریں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص کے تکلیف دینے سے آپ کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ پھر وہی تکلیف جب آپ دوسرے آدمی کو دیں گے تو کیا اس کے اندر دوبارہ وہی انتقامی جذبہ نہیں پیدا ہو جائے گا۔

یقیناً ایسا ہی ہو گا۔ آپ کے انتقام کے بعد وہ بھی انتقام لے گا۔ اس طرح برائی کا ایک چکر چل پڑے گا۔ آپ کو ایک تکلیف کے بعد دوسری تکلیف سہنی پڑے گی۔ اس لئے عقلمندی یہ ہے کہ نظر انداز کرنے کا طریقہ اپنا کر بات کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیا جائے۔ جب آپ کسی سے انتقام لیں تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ انتقام لینے کے لئے آپ کو اپنی طاقت خرچ کرنی پڑتی ہے۔ وقت اور پیسہ کی کافی مقدار خرچ کے بغیر کوئی شخص کسی دوسرے آدمی سے انتقام نہیں لے سکتا۔

اب اگر انتقام لینے والا اپنے انتقام کے منصوبہ بہ میں کامیاب ہو جائے تب بھی یہ اپنا کچھ اور اثاثہ کھونے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ انتقام لے کر آدمی آخر میں جو چیز پاتا ہے، وہ صرف ایک نفسیاتی تسکین ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

لیکن اسی وقت اور اسی رقم کو اگر کسی مثبت کام (مثلاً کاروبار میں لگایا جائے تو وہ شکل بدل کر محفوظ رہتا ہے، یہاں تک کہ مزید نفع کے ساتھ آدمی کی طرف لوٹتا ہے۔ انتقام لینے میں طاقت لگانا طاقت کو کھونا ہے۔ مثبت کام میں طاقت لگانا طاقت کو اضافہ کے ساتھ دوبارہ پالینا ہے۔ حالت میں آدمی کو اپنا اثاثہ پانے کی مد میں خرچ کرنا چاہئے نہ کہ کھونے کی مد میں۔

Printed page