A New Theory of Human Evolution
Al-Risala, March 1994, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
آرتھر کیتھ نے اپنی اس کتاب میں مصر کی قدیم تاریخ کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے لکھا ہے کہ اسلامی دور میں مصریوں کو مسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ اس کو مسلمانوں کے قرآن نے فتح کیا : The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. (p.303, ed.1950)
مصری کی تاریخ دنیا کی قدیم ترین تاریخوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں لمبی لمبی مدت تک یونانیوں، ایرانیوں اور رومیوں کا غلبہ رہا ہے۔ اسلام سے پہلے یہاں مسلسل چار سو سال تک مسیحی شہنشاہ کی حکومت مگر ان حکومتوں کے لمبے غلبہ کے باوجود مصر کے مذہب اور تہذیب میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ ان میں سے ہر ایک کا غلبہ زیادہ تر سیاسی غلبہ تھا جو سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ لیکن ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کا مصر میں داخلہ سراسر دوسری نوعیت کا تھا، اس نے مصریوں کی ہر چیز کو بدل دیا۔ اس سے پہلے مصریوں کی زبان قبطی تھی، اب ان کی زبان عربی ہوگئی۔ سے پہلے ان میں مشرکانہ تہذیب کا رواج تھا، اب ان میں موحدانہ تہذیب کا رواج ہوگیا۔ پہلے بت پرستی ان کا مذہب بنا ہوا تھا۔ اب دین اسلام ان کا مذہب بن گیا۔ اسلام نے مصریوں کے پورے فکری، اعتقادی، دینی اور تہذیبی ڈھانچہ کو بدل کر کچھ سے کچھ کر دیا۔ اتنی گہری اور اتنی دور رس تبدیلی کبھی تلوار کے ذریعہ نہیں ہوسکتی، اور نہ کبھی ایسی تبدیلی تلوار کے ذریعہ ہوئی۔ یہ تبدیلی دراصل قرآن کے نتیجہ میں تھی۔ مصریوں نے جب عربی سیکھنے کے بعد قرآن کو پڑھا تو اس نے ان کو شدت کیساتھ متاثر کیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے تمام رواجوں کو چھوڑ کر قرآنی مذہب کے پیرو بن گئے۔
قرآن سے پہلے مصر کے لوگ انسانوں کو غریب اور امیر، چھوٹے اور بڑے، رعایا اور بادشاہ کے خانوں میں بانٹے ہوئے تھے ۔ عام آدمی خاص لوگوں کے مقابلے میں اپنے کو حقیر سمجھتا تھا۔ خاص لوگ عام لوگوں کے مقابلے میں اپنے کو اونچا فرض کیے ہوئے تھے۔ اس طرح ایک انسان اور دوسرے انسان میں طرح طرح کے فرق و امتیاز قائم ہو گئے تھے۔
قرآن نے انسانی برابری کا اعلان کیا تو مصریوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ ان کو معلوم ہوا کہ وہ منفرضوں میں اور مصنوعی خیالات میں جی رہے تھے۔ انہیں محسوس ہوا کہ وہ اب تک اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے اور اب خدا کی کتاب انہیں روشنی کا تعارف کرا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر جوق در جوق اسلام میں داخل ہو گئے ۔
قرآن سے پہلے مصر کے لوگ خدا کے بارہ میں توہم پرستانہ عقیدوں میں مبتلا تھے۔ دریائے نیل کو ایک خدائی مظہر سمجھتے تھے اور ہر سال اپنی ایک لڑکی کو عمدہ کپڑے پہنا کر اس کی موجوں میں بھینٹ کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نیل دیوی اس طرح ان سے خوش رہے گی اور ان کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرنے کے لیے اپنا پانی بھیجتی رہے گی۔
قرآن نے خالص توحید کا اعلان کیا۔ قرآن نے بتایا کہ خدا ایک ہے۔ ساری کائنات اور تمام دریا اور پہاڑ اسی کی مخلوق ہیں۔ سارا اختیار صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ آدمی کو اسی سے ڈرنا چاہیے اور اسی سے اپنی حاجتوں کو مانگنا چاہیے ۔
قرآن کی یہ بات مصریوں کے دل کی بات بن گئی۔ ان کی فطرت ایک خالق کا تقاضا کر رہی تھی، مگر توہماتی خداؤں میں ان کی روح کو سچی تسکین نہیں ملتی تھی۔ یہ عقیدے انہیں اپنی فطرت کے مطابق نظر نہیں آتے تھے۔ وہ روایتی طور پر ان کو پو جتے تھے مگر ان کا دل ان کی صداقت پر پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا تھا۔
قرآن نے جب خدا کا بے آمیز تصور پیش کیا تو وہ انہیں اپنے دل کی آواز معلوم ہوا۔ میں اپنی روح کی تسکین پانے لگے۔ انہیں محسوس ہوا کہ یہی وہ حقیقت ہے جس کی تلاش ان کی فطرت میں چھپی ہوئی تھی۔ انھوں نے دوڑ کر قرآن کے دین کو اختیار کر لیا۔ یہی معاملہ ساری دنیا میں پیش آکا یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد ایک بلین تک پہنچ گئی۔