بادشاہ جھک گیا
Al-Risala, March 1994, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن الاثیر نے اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں ۳۶۶ ھ کے حالات کے تحت لکھا ہے کہ اس سال ذوالقعدہ کے مہینہ میں قاضی منذر بن سعید البلوطی کی وفات ہوئی۔ وہ اندلس کے قاضیوں کے قاضی (چیف جسٹس) تھے۔ وہ فقیہہ، خطیب، شاعر، فصیح اور نہایت دین دار تھے۔ ایک دن وہ اندلس کے سلطان عبدالرحمن الناصر کے یہاں آئے۔ اس وقت سلطان زہرا محل کی تعمیر سے فارغ ہوا تھا۔ اس وقت وہ ایک گنبد کے اندر بیٹھا تھا جس کو سونے سے سجایا گیا تھا۔ اس کی تعمیر ایسی نادر تھی کہ سابق میں اس کی کوئی مثال موجود نہ تھی۔ سلطان کے پاس بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ عبدالرحمن الناصر نے کہا۔ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ کبھی کسی نے اس طرح کی عمارت بنائی ہے۔ تمام لوگوں نے کہا کہ ہم نے نہ کبھی ایسا دیکھا اور نہ ایسا سنا۔ انھوں نے تعریف کی اور تعریف میں مبالغہ کیا۔ قاضی منذر سر جھکائے ہوئے تھے۔ عبدالرحمن ان کی طرف مخاطب ہوا اور ان سے پوچھا کہ آپ اپنی رائے بتائیں۔ قاضی منذر رونے لگے۔ ان کے آنسو ان کی داڑھی تک پہنچ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم، مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان ، خدا اس کو رسوا کرے، تم کو اس حد تک پہنچا دے گا۔ اور تمہارے سے اوپر اتنا زیادہ قابو پالے گا حالانکہ اللہ نے تم کو بہت کچھ دیا ہے اور تمہارے اوپر فضل کیا ہے۔ اس نے با وجود شیطان تم کو کافروں کے درجہ میں پہنچا دے گا۔
عبدالرحمن الناصر نے کہا کہ دیکھیے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ کیسے شیطان نے مجھ کو کافروں کے درجہ میں پہنچا دیا۔ قاضی منذر نے اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیتیں پڑھیں : ولولا ان يكون الناس امة اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی واحدة لجعلنا لمن يكفر بالرحمن طریقہ کے ہو جائیں گے تو جو لوگ رحمن کا انکار لبيوتهم سقفا من فضة ومعارج کرتے ہیں ان کے لیے ہم ان کے گھروں کی ولبيوتهم ابوابا چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور زینے بھی جن
وسراً عليها يتكون ۔ وزخرفا پر وہ چڑھتے ہیں۔ اور ان کے گھروں کے وان كل ذلك لما متاع الحياۃ کواڑ بھی اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے الدنيا والآخرة عند ربک ہیں اور سونے کے بھی۔ اور یہ چیزیں تو صرف للمتقين (الزخرف ۳۲ - ۴۵) دنیا کی زندگی کا سامان ہیں اور آخرت تیرے رب کے پاس متقیوں کے لیے ہے۔
قاضی منذر بن سعید البلوطی کی حیثیت حکومت کے ایک ملازم کی تھی۔ اور عبدالرحمن الناصر کی حیثیت اندلس کے سلطان کی۔ مگر جب قاضی منذر نے قرآن کی مذکورہ آیتیں پڑھیں تو اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ یہ تھا :
فوجم عبدالرحمن وبكى وقال : اس کے بعد عبدالرحمن غم میں پڑگیا اور اپنا سر جزاك الله خيراً واكثر فی جھکا کر رونے لگا۔ اس نے کہا کہ اللہ آپ کو المسلمين مثلك (۶۷۳/۸) اس کا اجر دے اور آپ جیسے بہت سے لوگ مسلمانوں میں پیدا کرے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی صورت میں کیسی عظیم چیز اپنے بندوں کو عطا فرمائی ہے۔ یہ تو آسمان براہ راست اللہ کا کلام ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی آمیزش کے بغیر مکمل طور پر اصل حالت میں موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔ کی پشت پر تاریخ کی وہ تمام عظمتیں جمع ہو چکی ہیں جو کتاب خداوندی کے شایانِ شان ہیں۔ ان چیزوں نے قرآن کو عظمت و جبروت والی ایک کتاب بنا دیا ہے جس طرح قرآن کو اتارنے والا خدا عظمت و جبروت والا خدا ہے۔
قرآن کی اسی عظمت کا یہ نتیجہ ہے کہ جب اس کا حوالہ دیا جائے تو بادشاہ بھی اس کا انکار کرنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ قرآن کی بنیاد پر ایک کمزور آدمی ایک طاقت ور کو ایسی اعلیٰ سطح سے مخاطب کر سکتا ہے کہ بڑا آدمی اپنی بڑائی کو بھول جائے اور اس کے آگے ایک عاجز کی طرح ڈھ پڑے۔
قرآن بذات خود ایک طاقت ہے، خواہ اس کے ساتھ کوئی اور طاقت موجود نہ ہو۔