قرآن کا کرشمہ
Al-Risala, March 1994, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام سے پہلے عرب میں تعلیم بہت کم تھی۔ بسٹھار میں جو انا ( بحرین ، الحسار ) جیسے بڑے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تبلیغی خط بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ سارے علاقے اور قبیلہ میں ایک شخص بھی نہ تھا جو خط کو پڑھ سکے۔ لوگ تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ ایک نوجوان ملا جس نے خط کو پڑھ کر سنایا ۔ اسی زمانہ کا واقعہ ہے ، النمر بن تو لب مسلمان ہوئے۔ وہ ایک بڑے قبیلہ کے سردار رکھتے اور اتنے بڑے شاعر تھے کہ ان کے اشعار کا ایک دیوان تیار ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے قبیلہ عکل دین ) کا سردار مقرر کر کے ایک تحریری پروانہ عطا کیا۔ مگر وہ اس کو پڑھ نہیں سکتے تھے۔ بازار میں آکر پوچھنے لگے کہ آپ لوگوں میں کسی کو پڑھنا آتا ہے جو یہ خط پڑھ مجھ کو سنا دے ؟
کہا جاتا ہے کہ بعثت نبوی کے وقت شہر مکہ میں مشکل سے چند درج نہ آدمی ایسے مل سکتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے ہوں۔ مدینہ میں اس سے بھی کم عرب یہ فن جانتے تھے۔ لیکن دوسری صدی ہجری ہی میں عربی زبان علمی نقطہ نظر سے دنیا کی معقول ترین زبان بن گئی۔ عربوں میں لسانی ترقی کا زمانہ اتنا مختصر ہے کہ دنیا کی پرانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔
عربوں کی تیز رفتار علمی اور لسانی ترقی کا یہ واقعہ کیوں کر پیش آیا ۔ یہ حیرت انگیز واقعہ براہ راست قرآن کا کرشمہ تھا۔ قرآن ایک کتاب دعوت ہے۔ جو شخص قرآن سے متاثر ہوتا ہے اور اس پر ایمان لاتا سے پڑھتا ہے ، اس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ قرآن نے اس کو دائمی بنا دیا ہے۔ اس کا دل و دماغ دائمی کا دل و دماغ بن جاتا ہے۔ اس کے اندر یہ سیلاب امڈ پڑتا ہے کہ اس نے جس ابدی صداقت کو خدا کی کتاب کے ذریعہ پایا ہے ، اس کو وہ تمام انسانوں تک پہنچا دے۔
یہ دعوتی جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ زبانوں کو سیکھے ۔ وہ ہر طرح کی واقفیت حاصل کرے ۔ اپنے آپ کو علمی اعتبار سے مسلح کرے ۔ پہلے اگر وہ بے زبان تھا تو اب وہ با زبان بن جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ بے علم تھا تو اب وہ عالم ہو جاتا ہے : دعوت اپنی عین فطرت کے اعتبار سے آدمی کو صاحب علم اور صاحب شعور بنا دیتی ہے۔ دعوت کے ساتھ بے علمی اور بے شعوری کا جمع ہونا ممکن
قرآن آدمی کو صرف داعی بننے کی نصیحت نہیں کرتا۔ وہ قرآن کی صورت میں آدمی کو ایسا دعوتی ہتھیار دیتا ہے جس کی تیزیی طاقت کا کوئی ٹھکانا نہیں۔
مسٹر سنیل گوپال چندرا سامنتا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو ہیں۔ وہ ایک تجارتی سفر کے تحت احمد آباد سے دہلی آئے اور ۱۲ جون ۱۹۹۱ کو راقم الحروف سے ملے :
Sunil Gopal Samanta, M.B.A., LL.M. 64, Arihant Society, Ahmedabad 300007, Tel. 414281 انھوں نے کہا کہ میں نے قرآن کو ہندی ترجمہ کی مدد سے پڑھا ہے۔ اس کتاب نے میرے اوپر بہت اثر ڈالا۔ اس کو پڑھتے ہوئے دل ہل جاتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان سے قرآن اور اسلام کے بعض پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ آخر میں انھیں ہندی الرسالہ اور ” انسان اپنے آپ کو پہچان “ کا ہندی ترجمہ دیا گیا۔
ایک عام مسلمان جو قرآن کو صرف ” تلاوت “ کی کتاب سمجھتا ہے ، اس کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ قرآن کتنی زلزلہ خیز کتاب ہے ، اور جو شخص اس کو سمجھ کر پڑھتا ہے ، اس کو یہ کتاب کس طرح ہلا دیتی ہے۔ مشرق اور مغرب میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں ان کے حالات خاص طور پر پڑھتا ہوں۔ میں نے پایا ہے کہ ان میں سے اکثر کے لیے قرآن کا مطالعہ اسلام کی طرف لانے کا سبب بنا۔
شاہ عبدالقادر صاحب (۱۳۱۴-۱۸۱۴ء) نے اپنے ترجمہ ” موضح القرآن “ کے مقدمہ میں اس بارہ میں اپنے مخصوص سادہ انداز میں جو کچھ لکھا ہے وہ یہاں نقل کرنے کے قابل ہے۔ وہ لکھتے ہیں: بتلنے والے بہتر بتائیں ، جیسا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آپ بتایا ہے ، ویسا کوئی نہیں بتا سکتا۔ جیسا اثر اور راہ پانا خدا کے کلام میں ہے ، کسی کلام میں نہیں۔
مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ قرآن کے پیغام کو تمام دنیا کی قوموں تک پہنچائیں۔ پیغام رسانی کی مؤثر ترین عملی صورت یہ ہے کہ قرآن کا صحیح اور مستند ترجمہ تمام زبانوں میں کیا جائے اور اس کو چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلایا جائے۔ خدا منتظر ہے کہ اس کا پیغام اس کے تمام بندوں تک پہنچایا جائے ۔ جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں وہ بلاشبہ اپنے رب کے یہاں سب سے بڑے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔