Al-Risala · March 1994

قرآن محافظ ہے

Al-Risala, March 1994, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ تعالیٰ نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے :

یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک اے رسول ، جو کچھ تمھارے اوپر اتارا گیا ہے اس من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته کو لوگوں تک پہنچادو ۔ اور اگر تم نے اس کو نہیں واللہ يعصمك من الناس پہنچایا تو تم نے اپنی رسالت نہیں پہنچائی ۔ (مائدہ ۶۷) تم کو لوگوں سے بچائے گا۔

اس آیت کے مطابق قرآن (اللہ کی اتاری ہوئی کتاب حاملین قرآن کے بچاؤ کی ضمانت ہے۔ قرآن کے حامل کو صرف قرآن کا حامل بننا ہے۔ اس کے بعد اس کے تمام مسائل میں خدا اس کی طرف سے کافی ہو جائے گا۔

قرآن بلاشبہ اس دنیا میں ہمارا محافظ ہے۔ وہ جن و انس کے تمام فتنوں کے مقابلہ میں ہماری حفاظت کرتا ہے۔ مگر قرآن کو اپنا محافظ بنانے کی ایک لازمی شرط یہ ہے۔ وہ یہ کہ ہم قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو جمع نہ کریں۔ پانی کے ساتھ اگر آپ راکھ کو جمع کر لیں تو ایسا پانی آپ کی پیاس نہیں بجھا تا ۔ کے ساتھ اگر آپ پتھر کو جمع کر لیں تو ایسا کھانا آپ کو سیر نہیں کرتا ۔ پھر جس قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو جمع کر لیا گیا ہو وہ حقیقی قرآن کے نتائج کس طرح دکھائے گا۔

قرآن چاہتا ہے کہ ہم اس کو تبلیغ کی کتاب بنائیں ۔ اس کے برعکس ہم اس کو برکت کی کتاب بنا کر قرآن چاہتا ہے کہ ہم دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھیں، اس کے برعکس ہم ان کو اپنا حریف اور رقیب بنا ڈالیں ۔ قرآن چاہتا ہے کہ ہم اس کو اپنی زندگی کے لئے رہنما کتاب بنائیں۔ اس کے برعکس ہم اس کو قومی فخر کی کتاب بنا ڈالیں۔ قرآن چاہتا ہے کہ ہم لوگوں کے درمیان خدائی اخلاقیات کے ساتھ رہیں ۔ اس کے برعکس ہم ان کے درمیان شیطانی اخلاقیات کے ساتھ رہنے لگیں۔

اس قسم کا ہر عمل قرآن کے ساتھ گویا غیر قرآن کو جمع کرنا ہے۔ اور جو لوگ قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو جمع کریں ۔ قرآن کبھی ان کا محافظ نہیں بن سکتا۔ یہ اعمال تو قرآن کو چھوڑنے کے ہم معنی ہیں۔ پھر جو لوگ قرآن کو چھوڑ چکے ہوں ان کی زندگی میں قرآن کے وہ نتائج کیسے نکل سکتے ہیں جو قرآن کو اپنے ساتھ لینے کی صورت میں نکلتے ہیں۔

قرآن خاص طور پر دو طرح سے اہل ایمان کا محافظ بنتا ہے ۔ ایک یہ کہ وہ اہل ایمان کے دلوں میں آخرت کا خوف پیدا کرتا ہے۔ ان کو ذمہ دار اور با اخلاق زندگی گزارنے کے قابل وہ ہر انسان کے خیر خواہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہر انسان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرتے ضد اور تعصب اور نفرت اور سرکشی جیسے جذبات سے ان کا سینہ پاک ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو دینے والے بن جاتے ہیں تاکہ خدا انہیں دے۔ وہ لوگوں سے درگزر کرنے لگتے ہیں تاکہ آخرت میں ان کا خدا ان سے درگزر کا معاملہ فرمائے۔

یہ اوصاف جن افراد کے اندر پیدا ہو جائیں وہ اپنے سماج کے اندر محبوب بن جاتے ہر ایک کے دل میں ایسے لوگوں کی عزت بیٹھ جاتی ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے آپ سے بلند دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اور جو لوگ اخلاقی اعتبار سے دوسروں سے بلند ہو جائیں، وہ کبھی دوسروں کے ظلم کا شکار نہیں ہو سکتے۔

قرآن کی حفاظت کا دوسرا ذریعہ وہ ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ اہل ایمان جب قرآن کو دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو دوسروں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ قرآن تو ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ یہ تو ان کی اپنی چیز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں قرآن پر ایمان لانے لگتے ہیں۔ لوگ جوق در جوق قرآن کے دین کو اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے تو سماجی طاقت کا وزن اپنے آپ اہل ایمان کے حق میں چلا جاتا ہے۔ دین حق کا پھیلاؤ اہل ایمان کے لیے حفاظت کی مضبوط ڈھال بن جاتا ہے۔

اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ اس نے تاریخ انسانی میں ایک عظیم انقلاب پیدا فرما دیا۔ یہ انقلاب دور اول کے مسلمانوں کے ہاتھوں ظہور میں آیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ تمام اسباب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے جو قدیم زمانہ میں کسی آسمانی کتاب کو غیر محفوظ بنا دیتے تھے۔ اب خود عالمی حالات قرآن کی حفاظت کے ضامن بن گئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کا مسلم ہو جانا۔ علمی اور تاریخی ذوق کا رواج ۔ جدید پریس کا ظہور ۔ سائنسی اور صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں توہماتی ذہن کا خاتمہ۔ اس قسم کے مختلف اسباب ہیں جنھوں نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے کہ قرآن کو کوئی غیر محفوظ کتاب بنا سکے ۔

Printed page