Al-Risala · January 1994

مساوی انصاف کا نظریہ

Al-Risala, January 1994, pp. 16–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم ترین زمانے سے اونچ نیچ کے نظریات ہر جگہ پائے جاتے رہے ہیں۔ اور اس بنا پر ہر دور میں سماجی نا انصافی کا عمل بھی جاری رہا ہے۔ قدیم زمانہ کا کوئی بھی دور اس سے خالی نظر نہیں آتا۔ کلیہ ہے جس میں معلوم تاریخ کے مطابق، کوئی استثنا نہیں۔

قدیم یونان مفکرین اور مصلحین کی پیدائش کے لیے مشہور ہے۔ مگر قدیم یونان کے مشہور فلسفی ارسطو کا خیال تھا کہ کچھ لوگ پیدائشی طور پر غلام (natural slaves) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر چہ بعض مفکرین نے اس سے اختلاف کیا۔ تاہم ان کا اختلاف بے اثر ثابت ہوا۔ اور غلامی عملی طور پر یونان اور روم میں وسیع پیمانہ پر مسلسل جاری رہی:

یہی حال قدیم زمانہ میں ساری دنیا کا رہا ہے۔ انڈیا میں ہزاروں برس سے یہ نظام قائم تھا کہ کچھ لوگ اونچی ذات والے ہیں اور کچھ لوگ نیچی ذات والے۔ اونچی ذات والوں کو حق تھا کہ وہ نیچی ذات والوں کے ساتھ ہر قسم کا غیر مساوی سلوک کریں۔ بھارتی فکر میں یہ غیر مساوی تصور اتنا راسخ ہے کہ موجودہ زمانہ میں نئے قوانین بنائے جانے کے باوجود یہ تفریق نہ عملی طور پر ختم ہوسکی اور نہ فکری طور پر۔ یورپ کے لوگوں نے دیکھا کہ وہ سفید فام ہیں اور افریقہ کے لوگ سیاہ فام۔ انھوں نے یہ فرض کر لیا کہ سفید لوگ پیدائشی طور پر اونچے لوگ ہیں اور سیاہ فام لوگ پیدائشی طور پر نیچے لوگ۔ سفید فام کو جائز طور پر یہ حق ہے کہ وہ سیاہ فام کو غلام بنائے اور ان سے اپنی خدمت لے۔

افریقہ کو سیاہ بر اعظم (dark continent) قرار دیا گیا۔ جغرافی ذرائع اور انسانی صلاحیت کے اعتبار سے افریقہ کہاں طور پر ایک قیمتی زمینی خطہ تھا۔ مگر یہاں کے لوگوں کی جلد کا رنگ چونکہ سیاہ تھا، وہ پیدائشی طور پر کمتر مان لیے گئے۔ پندرہویں صدی عیسوی میں یورپ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ

نیگر و پیدائشی غلام ہیں۔ یہ ابتدائی دور کے لوگ ہیں اور تہذیب کو اختیار کرنے کے لیے نااہل ہیں : The negro is a natural slave. The Europeans regarded the African as primitive without culture and incapable of civilisation. Slave Trade in Africa, 1985, p.7 نسلی بادشاہت کے نظام میں شاہی خاندان والوں نے اپنے آپ کو آقا (816/V) اور دوسروں کو رعایا۔ ان کا خیال یہ ہوگیا کہ انھیں دوسروں کے اوپر پیدائشی فضیلت حاصل ہے۔ اور ان کو مطلق طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں کے اوپر حکومت کریں اور دوسروں پر لازم ہے کہ وہ ان کے آگے جھک جائیں۔ (God's representative) قدیم زمانوں میں بادشاہ یا تو خدا سمجھے جاتے تھے یا خدا کے نمائندہ عوام کی یہ لازمی ذمہ داری تھی کہ وہ ہر حال میں بادشاہ کے مطیع اور فرماں بردار بنے رہیں سمجھ لیا (privileged class) اسی طرح دولت مند لوگوں نے اپنے آپ کو حقوق یافتہ طبقہ (deprived class) اور غریب لوگوں کو محروم طبقہ قرار دیا۔ جس آدمی کے پاس دولت آجائے وہ گویا ایک علامت تھی کہ وہ خدا کی عنایت و رحمت سے فیض یاب ہوا ہے۔ اور جس آدمی کو دولت نہ ملے وہ گویا ایک ایسا شخص ہے جس کو خدا نے اپنی عنایتوں سے دور کر دیا۔

سماجی ناانصافی کے یہ تمام نظریات اس لیے پیدا ہوئے کہ لوگوں نے انسان اور انسان کے درمیان فرق دیکھا۔ یہ بجائے خود ایک حقیقت ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان، ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان ظاہری اعتبار سے مختلف قسم کے فرق پائے جاتے ہیں۔ مثلاً رنگ کا فرق، جسمانی بناوٹ کا فرق، دولت اور طاقت کا فرق، وغیرہ۔ اسی فرق کی غلط توجیہہ نے مذکورہ تمام امتیازات اور بے انصافیوں کو پیدا کیا ہے۔

سماجی نابرابری کا تصور تاریخ میں مسلسل پایا گیا ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ انسانوں کے سمجھ لیا گیا۔ مختلف قسم کے نظریے اور فلسفے (inborn) کو پیدائشی (differences) درمیان فرق وجود میں آئے جو انسانوں کے درمیان فرق کا کوئی نہ کوئی ایسا سبب بتاتے تھے جس کا تعلق پیدائش سے (birth-based explanations) ہوتا تھا۔ فرق کی یہی مبنی بر پیدائش توجیہات ہیں جنھوں نے "پائے ہوئے " لوگوں کو یہ جواز دیا کہ وہ "کھوئے ہوئے" لوگوں کو برابری کا درجہ اور

برابری کا انصاف دینے سے انکار کر سکیں۔

مثلاً ہندوستان میں اس فرق کو دیکھ کر ورن کا عقیدہ پیدا ہوا۔ ورن کے لفظی معنی رنگ کے ہوتے ہیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے رنگ میں فرق ہے، اس سے انھوں نے یہ اخذ کیا کہ ایک قسم کے رنگ والے خدا کے سر سے پیدا ہوئے ہیں اور دوسرے قسم کے رنگ والے خدا کے پاؤں سے : Indian society is made up of four different varnas. The Rigveda (10.90) has declared that the Brahmin, the Ksatriya, the Vaisya, and the Sudra issued forth at creation from the mouth, arms, thighs and feet of Purusa. (X/361) یورپ میں نسلی امتیاز کا نظریہ (racism) پچھلی صدیوں میں شدت کے ساتھ پھیلا۔ تک وہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ ابتدائیہ ذہن اس لیے پیدا ہوا کہ اہل یورپ نے اپنے اور دوسروں کے درمیان رنگ اور کلچر میں فرق پایا۔ اس سے انھوں نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ وہ دوسروں سے برتر (superior) ہیں اور دوسرے لوگ ان سے کمتر (inferior)

موجودہ زمانہ میں نظریہ ارتقاءءءء کے ظہور نے اس کو مزید پختہ کر دیا۔ کیوں کہ سماجی ڈارونیت (Social Darwinism) کے تحت یہ سمجھ لیا گیا کہ انسانیت مختلف ارتقائی مرحلوں سے گزری ہے اور مغربی تہذیب اس کا درجہ کمال ہے :

Mankind was regarded as having achieved various levels of evolution, culminating in the white-European civilization. (15/363)

اس کے مطابق، یورپ کے سفید فام لوگ ارتقا یافتہ نسل قرار پائے اور دوسرے غیر سفید فام طبقے عمل ارتقا میں پیچھے رہ جانے والے لوگ۔

قدیم زمانہ میں نسلی فرق کے بارہ میں تو ہما تی نظریات کی بنا پر امتیاز کا ماحول پیدا ہوا تھا۔ زمانہ میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے بظاہر اس امتیاز کے حق میں ایک علمی بنیاد فراہم کر دی۔ کیوں کہ اس نے بتایا کہ بہت سے انسانی گروہ ارتقائی عمل میں دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ کچھ گروہ عمل ارتقا میں اعلیٰ (superior) ہو گئے اور کچھ دوسرے گروہ پیچھے رہ کر ارتقا کے ابتدائی مرحلہ

(primitive stage) میں پڑے رہے۔

اس ارتقائی نظریہ کی بنا پر یورپی قوموں نے دوسری قوموں کو اپنے سے کمتر سمجھ لیا۔ اس کے نتیجہ میں سفید فام کی ذمہ داری (whiteman's burden) کا نظریہ پیدا ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سفید فام اقوام کو یہ حق ہے کہ وہ دنیا پر قبضہ کریں اور ان کے اوپر تہذیب کی معلم بنیں۔ موجودہ دور کے نو آبادیاتی نظام (colonialism) کے پیچھے یہی ارتقائی منطق کام کرتی رہی ہے۔

یہ تصورات کسی نہ کسی طور پر آج تک قائم ہیں۔ آج کی دنیا کو وسیع تقسیم میں دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ روایتی دنیا اور سائنٹفک دنیا۔ بظاہر ایک غیر ترقی یافتہ ہے اور دوسری ترقی یافتہ۔ سماجی بے انصافی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ دونوں ہی ایسے عقائد پر مبنی ہیں جو سماجی انصاف کے راستہ میں مستقل رکاوٹ ہیں۔

روایتی دنیا بڑی حد تک "کرم" کا عقیدہ ماننے والوں کی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر آدمی جو پیدا ہوا ہے وہ پچھلے کرموں کا بوجھ لیے ہوئے ہے۔ یہ نیچر کا قانون ہے اور آدمی کو بہر حال اسے بھگتنا ہے۔ اس عقیدہ کی روشنی میں سماجی انصاف کا محرک بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس عقیدہ کے مطابق، جس چیز کو ہم "ناانصافی" کہتے ہیں وہ ناانصافی نہیں رہتی بلکہ وہ آدمی کے اوپر نیچر کا نافذ کردہ لازمی فیصلہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم اس کو اس کی ناپسندیدہ حالت سے نکال سکیں ۔ پھر انصاف کے قیام کا جذبہ آخر کیوں کر پیدا ہوگا۔

سائنٹفک دنیا اسی عقیدہ میں ایک اور سبب سے مبتلا ہے۔ یہ ارتقاء (evolution) کا نظریہ ہے۔ حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ زندگی کی مختلف انواع (species) کی توجیہ کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اس کو "فرق" کی توجیہ بھی کرنی پڑی۔ چنانچہ علماء ارتقاء نے یہ نظریہ بنایا کہ ارتقاء کے عمل میں کچھ انسانی گروہ آگے بڑھ گئے اور کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ مثال کے طور پر عورت کے بارہ میں ڈارون کا کہنا ہے کہ وہ ارتقاء کے عمل کے دوران ابتدائی درجہ پر باقی رہ گئی۔ مرد آخر کار عورت کے اوپر فائق ہو گیا : Man has ultimately become superior to woman. افریقہ کے سیاہ فام یا بعض علاقوں کے پستہ قد لوگ وہ انسانی نسلیں ہیں جو ارتقائی عمل میں دوسروں سے پیچھے رہ گئیں۔ اس طرح سائنٹفک دنیا بھی، اپنے اس عقیدہ کے مطابق، مفروضہ پچھڑی

ہوئی نسلوں کے بارے میں ہمدرد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس کا عقیدہ اس کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے وہ یہی ہے۔ اس قسم کے مفروضات کی بنیاد پر وہ نظریہ نکلا جس کو ان کی اپنی غلطی (Their own fault) کہا جاتا ہے۔ یعنی جو لوگ کسی دوسرے کی طرف سے نابرابری کے سلوک کا تجربہ کر رہے ہیں وہ خود ان کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ گویا کہ ظلم مظلوم کی اپنی تقدیر ہے۔ اس کے لیے ظالم قصوروار نہیں (15/363) اسلام آیا تو اس نے مکمل طور پر اس قسم کے تمام نظریات کو منہدم کر دیا۔ اسلام نے مسلسل مختلف طریقوں سے یہ تصور پیش کیا کہ ظاہری فروق کے باوجود تمام انسان برابر ہیں۔ سب کو یکساں عزت اور انصاف کا حق حاصل ہے۔ کوئی انسان نہ کسی سے برتر ہے اور نہ کوئی انسان کسی سے کمتر ۔ یہاں اس سلسلہ میں دو حوالے نقل کیے جاتے ہیں۔ قرآن میں اعلان کیا گیا ہے :

یا ایھا الناس انا خلقناكم من ذكر وانثی اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا ان اکرمكم عند الله اتقاكم۔ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے ان الله علیم خبير (الحجرات ۱۳) نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں میں رنگ اور نسل کا جو فرق ہے وہ تعارف کے لیے ہے نہ کہ امتیاز کے لیے ۔ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں ۔ ان میں امتیاز کی بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف کیر کٹر ہے۔ قابلِ عزت وہ ہے جو خدا پرست ہے ۔ جو خدا اور بندوں کے حقوق کو پہچانتا ہے اور ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیا۔ آپ ایام تشریق میں اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک بات یہ تھی : یا ایھا الناس ألا إن ربكم واحد اے لوگو سن لو، بے شک تمہارا رب ایک ہے اور وإن اباكم واحد ۔ ألا لافضل بے شک تمہارا باپ ایک ہے۔ سن لو کہ کسی عربی کو کسی لعربی على عجمي، ولا لعجمي على عربي عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی

ولا لا سود علی احمر ولا لِاَحْمَرَ فضیلت نہیں ۔ اور کسی کالے کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت علی اسود الا بالتقوی ۔ الا ھل نہیں اور کسی سرخ کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔ قال فلیبلغ جو کچھ فضیلت ہے تقوی کی بنیاد پر ہے ۔ الشَّاهِدُ الغائب (الجامع لاحکام نے تم کو پہنچادیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا القرآن ۳۴۲/۱۶) کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچادے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان اپنی عمر کے آخری سال کیا تھا۔ اس وقت پورا عرب فتح ہو چکا اس لیے آپ کا یہ اعلان محض ایک مصلح کا اعلان نہ تھا، بلکہ حاکم وقت کا اعلان تھا۔ یہ اعلان نہ صرف ایک اصول مساوات کے طور پر سنا گیا بلکہ عین اسی وقت وہ بالفعل قائم اور نافذ بھی ہو گیا۔ اس اعلان کے مطابق، آپ نے تمام لوگوں کو بتایا کہ اس دنیا کا جس طرح خالق ایک ہے۔ طرح تمام انسان ایک ہی باپ اور ماں سے پیدا ہوتے ہیں۔ تمام انسان ایک ہیں۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں۔ ان میں ظاہری اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے مگر عزت اور احترام اور قانونی انصاف کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔

جہاں تک انسانوں میں ظاہری درجات کا تعلق ہے ، اسلام نے بتایا کہ یہ درجات آزمائش کے لیے ہیں نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اللہ تعالی نے اس دنیا میں تمام انسانوں کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ کسی انسان کو جو سامان یا جو حیثیت ملتی ہے وہ اس کے لیے سامانِ آزمائش ہے ، وہ گویا اس کے لیے امتحان کا پرچہ ہے۔ اس دنیا میں کمی بھی ایک امتحانی حالت ہے اور زیادتی بھی ایک امتحانی حالت۔ ایک حیثیت بھی امتحان کے لیے ہے اور دوسری حیثیت بھی امتحان کے لیے۔ اس لیے آدمی کو ساری نظر اس پر رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے امتحان میں پورا اتر رہا ہے یا نہیں۔ نہ کہ اپنی حالت کو دیکھ کر وہ احساسِ کمتری یا احساسِ برتری میں مبتلا ہو جائے (الفجر)

Printed page