قومی دھارا اور اقلیت
Al-Risala, April 1994, pp. 60–17
By Maulana Wahiduddin Khan
اقلیتیں اور قومی دھارا (Minorities in India and the national mainstream) کا سوال لمبی مدت سے انڈیا کے فکری ایجنڈے پر ہے۔ ہمارے تمام سنجیدہ دماغ اس پر لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔ مگر پچاس سالہ ڈیبیٹ کے باوجود اس اہم ترین سوال کے بارہ میں ابھی تک فکری اتفاق رائے بھی نہ ہوسکا۔ کجا کہ عملی اعتبار سے اس کی جانب کوئی حقیقی پیش رفت
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ میں ابھی تک ہم نقطہ آغاز متعین کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے ، جب کہ یہ حقیقت ہے کہ ملک کا مستقبل سب سے زیادہ اسی سوال کے صحیح جواب پر ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ اس مسئلہ پر از سر نو مزید سنجیدگی کے ساتھ غور کیا اور کم از کم نظری سطح پر کسی قابلِ عمل اسکیم تک پہنچنے کی کوشش کی جائے ۔ اگر ہم اس کی نظری بنیاد طے کرنے میں کامیاب ہو سکیں تو یہ ہمارے لیے پچاس فی صد کامیابی کے ہم معنی ہوگا۔ اور اس پر یہ مقولہ صادق آئے گا کہ بہتر آغاز کا مطلب یہ ہے کہ آدھا کام ہو گیا : Well begun is half done. یہ ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں اقلیت اور اکثریت کے اختلافات نہایت شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان اختلافات کے نتیجہ میں جو باہمی ٹکراؤ پیش آیا ہے اس سے ملک کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کا کوئی مناسب حل تلاش نہ کیا جائے ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ممکن نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان پر امن تعلقات قائم کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اور اس کا ماڈل کیا ہو۔ جہاں تک میرا خیال ہے ، اس معاملہ میں غور و فکر کے لیے ہمارے سامنے بنیادی طور پر دو ماڈل ہیں۔ ایک ماڈل وہ جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ دونوں فرقے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے باہم مل جل کر رہنے کا طریقہ اختیار کریں ۔ دوسرا ماڈل وہ جو اس نظریہ پر مبنی ہے کہ تمام اختلافات کو مٹا کر سب کو ایک بھارتی
نمونہ ڈھال دیا جائے ۔ ان میں سے اول الذکر کو میں ملٹی کلچر ماڈل کہوں گا اور ثانی الذکر کو یونی کلچر ماڈل ۔ انڈیا کے ابتدائی معماروں نے اس معاملہ میں جو ماڈل پیش کیا وہ وہی تھا جس کو میں نے ملٹی کلچر ماڈل کا نام دیا ہے۔ یہ ماڈل بقاء باہم (co-existence) کے اصول پر مبنی تھا۔ کے مختلف گروپ اپنے کلچرل تشخص کو باقی رکھتے ہوئے وسیع تر ملکی مفاد کی سطح پر ایک قوم بن جائیں۔ یہاں میں یہ کہنے کی اجازت چاہوں گا کہ اس ماڈل کو واقعہ بنانے کے لیے اس پولیٹیکل گروپ کو ایک قیمت ادا کرنا تھا جس کو آزادی کے بعد ملک میں حکومت کرنے کا موقع ملا۔ بدقسمتی سے رولنگ گروپ یہ قیمت ادا کرنے میں ناکام رہا۔ اس لیے یہ ماڈل، اپنی اصولی صحت کے باوجود، کامیاب نہ ہو سکا۔
وہ قیمت کیا تھی، وہ قیمت ایک لفظ میں تھی، فری اینڈ فیئر الیکشن۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد کسی بھی تعمیری کام کے لیے ملک میں یہ ماحول قائم کرنا ضروری تھا کہ یہاں کا ہر سیاسی گروہ یہ محسوس کرے کہ اقتدار کا دروازہ اس کے لیے کھلا ہوا ہے اور پر امن جمہوری ذرائع کو استعمال کر کے وہ وہاں تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر رولنگ گروپ ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد اس کا حریص ہو گیا کہ اس کا اقتدار ہمیشہ ملک میں باقی رہے۔
کوئی رولنگ گروپ جب ایسا چاہنے لگے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ غیر رولنگ طبقات کو دکھائی دینے لگتا ہے کہ امن اور آئین کے حدود میں رہ کر اقتدار تک پہنچنا ان کے لیے ممکن اب چونکہ جمہوری دور میں کوئی بھی شخص اپنی سیاسی محرومی پر راضی نہیں ہو سکتا، اس لیے اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سماج میں تخریبی سیاست کا ذہن پر پرورش پانے
آزادی کے بعد انڈیا میں یہی ہوا۔ رولنگ گروپ کے باہر جو پولیٹیکل عناصر تھے، انھوں نے محسوس کیا کہ امن اور قانون کے حدود کی پابندی کرتے ہوئے وہ اقتدار تک نہیں پہنچ اس لیے انھوں نے غیر آئینی طریقہ پر اقتدار تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ انڈیا جیسے نیم خوانده ملک میں ان کے لیے اس مقصد کے حصول کا سب سے زیادہ آسان ذریعہ جذباتی سیاست تھا۔ انھوں نے خاص طور پر ۱۹۸۵ کے بعد نہایت شدت کے ساتھ "مندر مسجد" کے اشو کو
اس کے نتیجہ میں جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔ اس دوسری سیاست کے فروغ ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ ملک میں ملٹی کلچر کا ماڈل دب گیا اور اس کے بجائے ایک اور ماڈل ابھر کر سامنے آگیا۔ اس دوسرے ماڈل کو ایک لفظ میں یونی کلچر ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ ملک کے باشعور طبقہ میں یہ دوسرا ماڈل اگر چہ کافی کنٹرول ورشیل رہا ہے۔ عوام کی سطح پر، خاص طور پر شمالی ہند میں، یونی کلچر ماڈل کی مقبولیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری نظام میں، خالص اصول کی بنیاد پر کسی کو اس سے روکا نہیں جا سکتا کہ وہ یونی کلچر ماڈل کی بات کرے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ عملی طور پر یہ ماڈل قابل عمل (feasible) نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیچر کے خلاف ہے۔ وہ نیچرل لاکو بدلنے کے ہم معنی ہے ، اور کوئی بھی طاقت نیچر کو بدلنے پر قادر نہیں ہو سکتی۔
تعدد (diversity) زندگی کا ایک ابدی قانون ہے۔ ایک گھر میں دس آدمی ہوں تو ہر آدمی کا مزاج الگ الگ ہوگا۔ ہر ایک کی پسند اور ناپسند جدا ہو گی۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر قوم کا ہے۔ قوم کے مختلف گروپ عین فطرت کے قانون کی بنا پر الگ الگ ذہن کے پھر کون انھیں بدل سکتا ہے ۔ نیچر کو بلڈوزر کرنا کسی پاور یا سپر پادر کے لیے
جو لوگ یونی کلچر“ کے حامی ہیں، وہ خود بھی اس معاملہ میں تضاد فکری کا شکار ہیں مثلاً ان کا کہنا ہے کہ اورنگ زیب نے اپنے پچاس سالہ دور حکومت میں انڈیا میں یکساں کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ اسی طرح برٹش ایمپائر کو اس ملک میں سو سال سے زیادہ مدت تک حکومت کرنے کا موقع ملا۔ انھوں نے بھی ملک میں یکساں کلچر لانے کے لیے اپنی ساری کوشش صرف کر دی۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا کہ وہ پورے ملک کو ایک کلچرل رنگ میں رنگ دے ۔
باہر کی دنیا میں بھی اس نوعیت کی تجرباتی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ میں امریکنائزیشن کی تحریک چلائی گئی۔ اس کا مقصد امریکہ میں بسنے والے مختلف کلچرل گروپ کو ایک امریکی کلچر میں رنگنا تھا۔ مگر یونی کلچر لزم کی یہ تحریک ساری کوشش کے باوجود امریکہ
میں فیل ہوگئی۔ آخر کار انھوں نے حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی کلچر ازم کے اصول کو اختیار کر لیا۔
ایسی حالت میں انڈیا کے یونی کلچر سٹوں کے پاس وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ یقین رکھتے ہیں کہ نیچر سے لڑائی کے جس میدان میں دوسرے تمام لوگ ناکام ہو چکے ہیں، اس میں وہ استثنائی طور پر کامیابی حاصل کر لیں گے۔
مزید یہ کہ یونی کلچر ازم کا یہ نظریہ اصل مقصد کے لحاظ سے بالکل بے فائدہ ہے۔ مقصد یونی کلچر برائے یونی کلچر نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد سوشل ہارمنی یا نیشنل ہارمنی کا ماحول پیدا کرنا ہے، اور اس مقصد کا کوئی تعلق یونی کلچر سے نہیں۔
اس کی ایک قریبی مثال ہندو اور سکھ کا معاملہ ہے۔ سکھ عملی طور پر ہندو ازم ہی کا ایک چنانچہ پچھلے ساڑھے چار سو سال سے دونوں کا کلچر ہر اعتبار سے تقریباً ایک تھا۔ کے باوجود دونوں میں زبردست اختلاف برپا ہوا جو ابھی تک دونوں کے درمیان خونیں ٹکراؤ کی صورت میں جاری ہے۔ یونی کلچر اگر ہارمنی لانے کے لیے کافی ہوتا تو ہندو۔ سکھ مسئلہ کبھی اس ملک میں پیدا نہ ہوتا۔
ایسی حالت میں ملک کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی (ہارمنی) لانے کا واحد ممکن طریقہ یہ ہے کہ اس متفقہ اخلاقی اصول کو اختیار کر لیا جائے جس کو مغرب میں اختلاف پر اتفاق (let us agree to disagree) اور انڈیا میں بقاء باہم (co-existence) کا اصول کہا جاتا اس کے مطابق، اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود مل کر رہنے کا آرٹ سیکھیں۔ وہ ایک دوسرے کا احترام (respect) کریں ۔ وہ اختلافی پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور صرف اتفاقی پہلوؤں پر زور دیں۔ یہ ایک طریق زندگی (way of life) ہے۔ اور ٹالرنس اسی طریق زندگی کا عنوان ہے۔ ٹالرنس ہی واحد بنیاد ہے جس پر کسی سماج میں ہارمنی لائی جاسکتی ہے۔ اس کے سوا جو نظریے پیش کیے جاتے ہیں وہ صرف خوب صورت الفاظ ہیں جو کبھی عمل میں آنے والے نہیں۔ انڈیا میں ایک بڑا سبق آموز ظاہر موجود ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ
سکھ اقلیت اگر چہ مجارٹی کمیونٹی کے پھول مین اسٹریم میں پوری طرح شامل تھی۔ اس کے باوجود سکھ اور ہندو کے درمیان خونیں ٹکراؤ پیش آیا ۔ دوسری طرف اسی ملک میں کرسچین اور پارسی ہیں ۔ واضح طور پر اپنا علیحدہ کلچر رکھتے ہیں ۔ مگر ان میں اور مجارٹی کمیونٹی میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ انڈیا میں کرسچین کی تعداد تقریباً ۳ فی صد ہے۔ پارسی اگر چہ بہت کم ، یعنی مجموعی طور پر صرف ایک لاکھ ہیں۔ تاہم اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ ملک میں ایک قابلِ لحاظ کمیونٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کرسچین اور پارسی دونوں مذہبی اعتبار سے بند سماج (close society) ہیں۔ ان کا کہیں کلچرل یکسانیت کا کیس نہیں بلکہ کلچرل انفرادیت کا کیس ہے۔ اس کے باوجود وہ نیشنل مین اسٹریم سے الگ نہیں سمجھے جاتے ۔
اس سوال کا جواب معلوم کرنے پر غور کیجئے تو ایک اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے ۔ یہ کہ کوئی گروپ خواہ جو عقیدہ بھی رکھے اور اپنے دائرہ میں جس طرح بھی رہے ، اگر وہ دوسروں کے لیے نو پرابلم گروپ بنا ہوا ہو تو اس کے اور دوسروں کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہو گا۔
کرسچین کمیونٹی کا معاملہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو بہت بڑے پیمانہ پر تعلیم گاہ، اسپتال اور دوسرے رفاہی کاموں میں لگا دیا ہے ۔ وہ دوسروں سے ٹکراؤ کو آخری حد تک اوائڈ کرتے ہوئے اپنے اختیار کردہ دائرہ میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہی حال پارسی کمیونٹی کا انھوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر صنعت اور تجارت کے دائرہ میں سمیٹ لیا ہے۔ ملک کے دوسرے طبقات سے ان کی نہ کوئی مانگ ہے اور نہ کوئی احتجاج ۔
اس بات کو دوسرے لفظوں میں ، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کرسچین اور پارسی دونوں اس ملک میں اپنے آپ کو " نو پرابلم کمیونٹی " بنائے ہوئے ہیں ۔ اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ جو گروپ کسی سماج میں نو پرابلم گروپ بن کر رہے وہ اپنے آپ دوسروں کے لیے قابلِ قبول بن جاتا ہے۔
اب مسلم کمیونٹی کو لیجئے ۔ اس وقت اصلاح سب سے بڑا مسلم مائنڈ بیٹی ہی کا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی مائنڈ بیٹی ہونے کی بنا پر وہ نیکسٹ ٹو مجارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
ایک تاریخی حقیقت ہے کہ خواہ گروپ کا مسئلہ ہو یا فرد کا، مسٹر فرسٹ اور مسٹر نیکسٹ کے درمیان ہمیشہ کچھ نہ کچھ رقابت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا واحد قابل عمل حل صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ مسٹرنگسٹ مسٹر نو پرابلم بن جائے۔
مسلم کمیونٹی اور مجارٹی کمیونٹی کے درمیان پچھلے تقریباً ۵۰ سال سے مسلسل مممکش کش اس کش کش نے مختلف صورتوں میں ملک کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ ساتھ غور کیجئے تو اس کا سبب صرف ایک ٹلے گا ، اور وہ ہے مسلم کمیونٹی کا پرابلم کمیونٹی کی صورت اختیار کر لینا ۔
اس معاملہ کو مزید گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ہندو مسلم مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی ہے جو ہندو سکھ مسئلہ ہے۔ ہندو اور سکھ اس ملک میں پچھلے ساڑھے چارسو سال سے مل جل کر رہ رہے تھے۔ دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ مگر ۲۰ سال پہلے سکھوں نے علیحدہ سکھ اسٹیٹ کی تحریک اٹھائی اور پھر اس کو وہ تشدد کی حد تک لے گئے ۔ کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان جھگڑا پیدا ہوا۔
اس فرق کی وجہ سادہ طور پر صرف یہ تھی کہ خالصتان تحریک سے پہلے سکھ کمیونٹی اس ملک میں گویا نو پرابلم کمیونٹی کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس پر تشدد تحریک کے بعد وہ ایک پر ابلم کمیونٹی بن گئی۔ اور پرابلم گروپ ایک گھر کے اندر بھی برداشت نہیں کیا جاتا، پھر وہ پورے ملک میں کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کے ساتھ بھی پیش آیا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ مسلم لیڈروں کی تقسیم ملک کی تحریک جو اربعینات میں شدت کے ساتھ اٹھی، ، اس سے پہلے اس ملک میں ہندو اور مسلمان پوری طرح مل جل کر رہتے تھے۔ دونوں میں فرقہ وارانہ سطح پر کوئی قابل ذکر کش کش موجود نہ تھی۔ پر شور دو قومی تحریک اور اس کے بعد ۱۹۴۷ میں ملک کے بٹوارہ نے اس ملک کے مسلمانوں کو اہل ملک کی نظر میں ایک پرابلم کمیونٹی بنا دیا ۔ یہی واحد سبب ہے جس کے نتیجہ میں ہندو اور مسلمان کا وہ مسئلہ انڈیا میں پیدا ہوا جس کے کڑوے نتائج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اوپر کے تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ انڈیا کے مختلف فرقوں میں ہم آہنگی لانے کے لیے
ملٹی کلچر ماڈل ہی واحد درست ماڈل ہے۔ کامیابی کے امکانات بھی صرف اسی کے لیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کی موافقت صرف اسی کے ساتھ ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ یہ کہ مائنارٹی کمیونٹی اس کے قیام کے لیے اپنا ضروری تعاون دے۔ اور اس کا تعاون یہ ہے کہ وہ ملک میں نو پرابلم کمیونٹی بن کر رہنے لگے۔ اگر یہ شرط پوری ہو جائے تو اس کے بعد کوئی بھی چیز ملک میں ہارمنی کا ماحول پیدا کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مسلمان اگر اس ملک میں نو پرابلم کمیونٹی بن کر رہنے پر راضی ہو جائیں تو یہ ان کے لیے اپنے مذہب سے انحراف نہیں ہوگا بلکہ عین اپنے مذہب پر عمل کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے پرابلم کمیونٹی بننا اپنے مذہب سے انحراف تھا، اور نو پرابلم کمیونٹی بننا ان کے لیے اپنے مذہب کی طرف واپسی کے ہم معنی ہوگا۔ یہاں اس سلسلہ میں بطور مثال اسلام کے چند متعلق (relevant) حوالے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب مکہ میں آپ کے حامی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد آپ کو نئے حامی کی ضرورت تھی جس کی حمایت کے تحت آپ نبوت و رسالت کا کام جاری رکھیں آپ مختلف عرب قبائل کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ مجھے اپنی حمایت میں لے لو۔ اس سلسلہ میں جو تفصیلات سیرت کی کتابوں میں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ایک قبیلہ سے ملے۔ سے جب آپ نے اپنی ضرورت بیان کی تو اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ میں صرف اعلان رسالت کا کام اور تم میں سے کسی شخص کو کسی ناپسندیدہ چیز پر مجبور نہیں کروں گا (ولا اکرہ احدا منکم علی شیئ)
اس بات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہی ہوگی کہ میں تمہارے لیے کوئی پرابلم نہیں پیدا کروں گا۔ میں تمہارے درمیان ایک نو پرابلم انسان بن کر رہوں گا۔
قدیم مکہ میں کعبہ کے اندر ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر قرآن میں پہلی آیت اتری تو اس میں کعبہ کے بتوں کے مسئلہ کا کوئی حوالہ موجود نہ تھا۔ پہلا حکم جو قرآن میں دیا گیا وہ یہ تھا کہ اقرار پڑھو) اس کا مطلب یہ ہے کہ دور اول میں تطہیر مسجد کو اشو بنانے کے بجائے حصول علم کو اشو بنایا گیا۔ اس کے مطابق، موجودہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مسجد کی بے حرمتی "کو اپنا اشو نہ بنائیں،
بلکہ ایجوکیشن کو اپنا اشو بنائیں۔
پیغمبر اسلام کے زمانہ میں مکہ کے لوگ بت پرست تھے۔ مگر پیغمبر نے ان کو بت پرست یا کافر کے لفظ سے خطاب نہیں کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم۔ اس سنت رسول کے مطابق مسلمانوں کو بھی انڈیا کے ہندوؤں کو اپنی قوم سمجھنا چاہیے اور ان کے ساتھ بھائی جیسا معاملہ کرنا چاہیے۔ پیغمبر اسلام نے راستہ سے رکاوٹ ہٹانے کو ایمان کی علامت بتایا ہے (اما طـۃ الاذی عن الطریق) ایسی حالت میں مسلمانوں کو اس پر احتجاج کرنے کی کیا ضرورت کہ شہر کی مصروف سڑک پر نماز پڑھنے سے انھیں منع کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کی تعلیم اسلام میں بہت پہلے سے موجود ہے۔
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا تو انھوں نے باقاعدہ تحریر کی صورت میں وہاں کے مسیحیوں کو یہ اجازت دی کہ وہ یروشلم کی مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس نکالیں۔ ہندوستان کے ہندو اگر یہاں کسی مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس لے کر گزریں تو اس پر مسلمان کیوں اعتراض کریں اور کیوں ان کا جلوس روکنے کی کوشش کریں۔
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ کہا جاتا ہے۔ وہاں حکومت کی طرف سے فیملی پلاننگ کی اسکیم چلائی جارہی ہے۔ پاکستانی اخباروں میں مسلسل ”خاندانی منصوبہ بندی“ کے اشتہارات حکومت کی طرف سے چھپتے رہتے ہیں۔ وہاں محکمہ ڈاک کی طرف سے ایسے لفافے چھاپے گئے ہیں جن کے اوپر لکھا ہوا ہوتا ہے : ”چھوٹا خاندان زندگی آسان۔ “ پھر انڈیا میں حکومت اگر اس قسم کی تحریک چلائے تو مسلمانوں کو اسے خطرہ سمجھنے اور اس پر ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت۔ سعودی عرب میں اور دوسرے اسلامی ملکوں میں استثنائی حالت میں مسجدیں ریلوکیٹ کی گئی ہیں۔ ایسی حالت میں انڈیا میں اگر استثنائی طور پر یا اضطرار کے حالات میں دفع شر کے لیے ایسا کوئی واقعہ ہو تو یہاں کے مسلمان اس کو اپنے لیے خطرہ کیوں سمجھیں۔ عرب ملکوں میں مسجدوں کے اندر جلسہ اور تقریر کی اجازت نہیں۔ حتیٰ کہ نماز کے مخصوص اوقات کے علاوہ مسجد میں عبادت اور تلاوت کی بھی اجازت نہیں۔ ایسی حالت میں اگر انڈیا میں ہندو محلہ میں واقع مسجدوں میں رات کے وقت لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگائی
جائے تو اس پر انھیں شور و غوغا کرنے کی کیا ضرورت۔
اسلام امن کو پسند کرتا ہے نہ کہ ٹکراؤ کو۔ حدیبیہ کے معاہدہ میں پیغمبر اسلام نے اپنے حریف کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر ان کے ساتھ پیس ایگریمنٹ کر لیا۔ اب مسلمانوں کو بھی اپنے پیغمبر کی پیروی میں یہی کرنا ہے کہ وہ مسائل کو نظر انداز کریں۔ وہ دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ امن کو سپریم بنائیں نہ کہ ملی وقار کو۔ مسلمان اگر ایسا کریں تو انڈیا میں وہ نوبرا لم کمیونٹی بن جائیں گے۔ اور اس کے بعد موجودہ غیر ضروری مسائل بھی اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ اس سلسلہ میں ایک چشم کشا مثال (telling example) ہے جو یہاں قابل ذکر ہے۔ دہلی کے انگریزی روز نامہ ہندوستان ٹائیمس (۴۱ اکتوبر ۱۹۹۳) نے اسے این آئی (ANI) کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک ہے۔ یہ بات ایک حالیہ جائزہ سے معلوم ہوئی ہے۔ یہ جائزہ بڑے بڑے تاجروں کے درمیان کرایا گیا ہے جن کا تعلق تمام براعظموں سے ہے۔ کے بڑے بڑے تاجروں اور صنعت کاروں سے عالمی اقتصادی فورم نے یہ پوچھا تھا کہ وہ اپنے خیال کے مطابق مختلف ملکوں کے بارہ میں بتائیں کہ کس ملک میں جان اور مال کے تحفظ کے اعتبار سے کیا اس جائزہ میں پاکستان کا مقام سب سے نیچے تھا، جب کہ سنگاپور کو سب سے زیادہ محفوظ علاقہ پایا گیا :
Pakistan happens to be the unsafest country in the world, according to a recent survey conducted among the business and economic leaders belonging to all the continents. The leaders of the business and industry of various countries were asked by the World Economic Forum to rate various countries according to their perceptions about the safety of life and property in those countries. Pakistan touched the bottom whereas Singapore was found to be the safest جیسا کہ معلوم ہے، پاکستان ایک قوم کے نعرہ پر بنا، وہاں تمام باشندوں کا ایک مذہب اور ایک زبان ہے۔ سب کی ایک تاریخ ہے اور سب کا ایک پروج ہے۔ گویا سارے ملک کا ایک پاکستانی کلچر ہے۔ اس کے باوجود وہاں اتنے زیادہ دنگے اور فساد ہوتے ہیں کہ ساری دنیا میں وہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک بن گیا ہے۔
دوسری طرف سنگاپور میں چار سرکاری زبانیں ہیں ۔ چینی، مالے، تامل، انگلش ۔
بدھسٹ، مسلم، ہندو، سکھ چین سب اپنے اپنے مذہب اور کلچر کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان سب کے باوجود سنگاپور دنیا کا سب سے زیادہ محفوظ ملک ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ قومی ایکتا کا کچھ بھی تعلق کلچر ایکتا سے نہیں۔