خلاصہ
Al-Risala, April 1994, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا کی اقلیتوں کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ ملک میں کمیونل ہارمنی پیدا کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ یہاں ملٹی کلچر ماڈل کو اختیار کر لیا جائے ۔ اس ماڈل کو عملی طور پر قائم کرنے کے لیے ہر فریق کو ایک قیمت ادا کرنا ہے۔
رولنگ گروپ کو یہ قیمت ادا کرنا ہے کہ وہ الیکشن پر اکس کو فری اور غیر صورت میں جاری ہارنے والی پارٹی اپنی ہار کو مان کر جیتنے والے گروپ کو گورنمنٹ چلانے کا موقع دے، تاکہ ملک میں تخریبی سیاست کی پرورش نہ ہو سکے ۔
مہا رٹی کمیونٹی کو یہ قیمت ادا کرنا ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کہ یونی کلچر کا ماڈل قابل عمل نہیں۔ قابل عمل ماڈل وہی ہے جو ملٹی کلچر کے اصول پر مبنی ہے۔ یہی ممکن بھی ہے اور یہی مفید بھی۔
مائنارٹی کمیونٹی ، خاص طور پر سکھ اور مسلمان کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے اور ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے ہم آہنگی کے طریقہ کو اختیار کریں گے اور شعوری طور پر فیصلہ کریں گے کہ اس ملک میں انہیں نو پرابلم کمیونٹی بن کر رہنا ہے ۔
اگر ملٹی کلچر ماڈل کو سنجیدہ طور پر قبول کر لیا جائے، اور ہر متعلقہ فریق اس کے لیے ضروری قیمت بھی ادا کرے تو اس کے بعد بلا تاخیر ملک میں امن اور ہم آہنگی کا ماحول قائم ہو جائے گا اور ملک تیزی کے ساتھ ترقی کی طرف اپنا سفر شروع کر دے گا ۔ اور جب ایک بار صحیح سمت میں سفر شروع ہو جائے تو وہ ضرور اپنی مطلوب منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔