ہندوتو کے بارے میں
Al-Risala, April 1994, pp. 18–23
By Maulana Wahiduddin Khan
خطرے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک حقیقی خطرہ، اور دوسرا فرضی خطرہ۔ اگر حقیقی خطرہ درپیش ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ آدمی اس کی نوعیت کو سمجھے اور اس کے مطابق بچاؤ کی ضروری تدبیر کرے۔ اگر خطرہ محض فرضی ہو، تو مسئلہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اب اس سے بچاؤ کی تدبیر صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کو سادہ طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ فرضی خطرہ کو نظر انداز کر دینا ہی اس سے بچاؤ کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔
ہندوتو کا خطرہ راقم الحروف کے نزدیک محض فرضی خطرہ ہے، وہ کبھی واقع بننے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اس کے لیے پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔
یہ صحیح ہے کہ آج کل ہندوتو کا کافی چرچا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ مستقبل کا انڈیا ہندوتو کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے گا۔ مگر جہاں تک میرا مطالعہ ہے، خود ہندوتو کے علم برداروں کے ذہن میں اس کا کوئی واضح نقشہ موجود نہیں ہے۔ اور جس چیز کا نقشہ ہی اب تک واضح طور پر متعین نہ ہوا ہو، وہ انڈیا کے مستقبل کی تشکیل کرنے والا کس طرح بنے گا۔
مسٹر لال کرشن اڈوانی کے الفاظ میں، ہندوتو سے مراد کلچرل نیشنلزم (cultural nationalism) یعنی کلچر پر مبنی قومیت۔ وہ کون سا کلچر ہو گا جس پر یہ قومیت تشکیل دی جائے گی۔ جواب مسٹر جے دوباشی کے الفاظ میں یہ ہے کہ انڈیا میں قومی تشخص صرف ہندو ہی ہو سکتا ہے : In India, the national identity can only be Hindu. (The Illustrated Weekly of India, March 12, 1993)
اس کے ساتھ مسٹر گری لال جین کے الفاظ ملا لیجیے تو بات مکمل ہو جائے گی۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۱ مارچ ۱۹۹۳) میں خاص اسی موضوع پر مسٹر جین کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : Apartheid in reverse — Dangers of minorityism مضمون نگار کے نزدیک انڈیا کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ کے کلچر کو اختیار کر لیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انڈیا کوئی انسانی چڑیا خانہ نہیں ہے جس میں مختلف انسانی انواع
ایک مقام پر الگ الگ خانوں میں رکھ دی گئی ہوں اور ان کو ایک نہ کیا جاسکتا ہو۔ انڈیا ممتاز طور پر اور ہزاروں سال سے ایک یکساں کلچر کا ملک ہے اگر چہ وہ یک سنگی نہیں : India is not a human zoo with different species of humanity put together in one physical location in separate enclosures and it cannot be turned into one. It embodies a remarkably homogenous, though not monolithic, culture going back thousands of years. غیر ہندو فرقے اگر ہندو کے علم برداروں کے اس مطالبہ کو بلا بحث مان لیں تب بھی اصل مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ یکساں کلچر کو اختیار کرنے کے لیے اس کا ایک ماڈل ہونا ضروری ہے۔ ایسا کوئی ماڈل سرے سے ملک کے اندر موجود ہی نہیں۔ اور جب ماڈل موجود نہ ہو تو اس کی پیروی کس طرح کی جائے گی۔
وہ چیز جس کو یہ حضرات ہندو کلچر یا بھارتی کلچر کہتے ہیں ، وہ ہر وقت کسی ایک چیز کا نام نہیں اس میں بیک وقت بے شمار خدا ہے۔ بابری مسجد کو ڈھانے والے بھارتی کلچر کے نمائندوں نے پر فخر طور پر اجودھیا میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ : ایک طرف ۳۳ کروڑ، ایک طرف ایک اللہ ۔ ہندوؤں میں زبان ، کھانا ، کپڑا ، رہن سہن، ہر چیز میں اختلاف ہے۔ حتی کہ ایک ہندو مصر کے الفاظ میں ، اس ملک میں جتنے ہندو ہیں، اتنی ہی ان کی قسمیں ہیں۔
جب ہندو کی اتنی زیادہ قسمیں ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ کون ہندو ہے جس کو پیروی کے لیے ماڈل سمجھا جائے۔ کیا وہ ہندو جو کوٹ اور پتلون پہنتا ہے یا وہ ہندو جو دھوتی اور کرتا پہنتا ہے۔ وہ ہندو جو مورتی پوجا کرتا ہے یا وہ ہندو جو مورتی پوجا کا کھنڈن کرتا ہے۔ وہ ہندو جو آستک ہے یا وہ ہندو جو ناستک ہے۔ وہ ہندو جو رامائن اور مہا بھارت کو تاریخ کہتا ہے یا وہ ہندو جو رامائن اور مہابھارت کو افسانہ (متھ) سمجھتا ہے۔ وہ ہندو جو شاکاہاری ہے یا وہ ہندو جو منسا ہاری ہے۔ وہ ہندو جو ہند و ازم کو مذہب بتاتا ہے یا وہ ہندو جو ہندو ازم کو فلاسفی قرار دیتا ہے وہ ہندو جو رام کو ہیرو مانتا ہے یا وہ ہندو جو راون کو ہیرو سمجھتا ہے۔ وہ ہندو جو اونچ ذات اور نیچ ذات میں یقین رکھتا ہے یا وہ ہندو جو ان باتوں کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔
اس قسم کے بے شمار فرق ہیں جو ایک ہندو اور دوسرے ہندو کے درمیان پائے جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سا ہندو ہے جو ہند وازم یا ہندو کلچر کے لیے ماڈل کی حیثیت ایسی حالت میں "ہندو" کے علم برداروں کو پہلے خود ہندوؤں کے اوپر اپنا بلڈوزر چلا کر انہیں ایک کلچر یا یکساں کلچر کا نمونہ بنانا چاہیے۔ اس کے بعد غیر ہندو فرقوں سے یہ مانگ کرنا چاہیے کہ وہ اس "ماڈل ہندو" کی پیروی کریں۔ اور اپنے کلچر کو اس کے مطابق بنائیں ۔
ہندو تو کے علم برداروں کو پہلے یہ کرنا ہے کہ ہندو کلچر کے ناقابل شمار اختلافات کو ختم کر کے اس کو ایک واحد اور یکساں کلچر بنائیں تاکہ دوسرے فرقوں کے لیے مطلوب یکساں کلچر کا ایک واضح اور متعین ماڈل سامنے آجائے اور لوگوں کے لیے اس کی پیروی قابل عمل ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالت میں مسٹر گری لال جین کے الفاظ خود ہندو فرقہ پر زیادہ بڑے پیمانہ پر صادق آتے ہیں۔ ہندو فرقہ خود ایک بہت بڑا ہیومن زو ہے۔ اپنے موجودہ تنوعات کے ساتھ ہندو فرقہ کے لیے یکساں کلچر کا نمونہ بنانا ممکن نہیں۔ وہ تنوع کلچر (composite culture) کا ماڈل یقیناً ہے مگر وہ یکساں کلچر کا ماڈل ہر گز نہیں۔
ہندو تو کی اس کمزوری کا اعتراف خود ہند و تو کے علم برداروں کو بھی کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہندو کی مشترک تعریف کے لیے کوئی واضح بنیاد موجودہ حالت میں موجود کیوں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو ، عمومی اعتبار سے، سب سے پہلے ایک ذات سے تعلق رکھتا ہے، اس کے بعد ہی وہ ہندو برادری کا حصہ بنتا ہے :
A Hindu, generally speaking, belongs to a caste before he belongs to the مسٹر گری لال جین (۱۹۹۳ - ۱۹۲۲) نے اپنے ایک مفصل مضمون میں لکھا تھا کہ ہندو قومیت کی دو قسمیں ہیں ، منفی اور مثبت ۔ منفی ہندو قومیت درجات کے فرق کے ساتھ محض مسلم مخالفت جذبہ پر قائم ہے۔ مثبت ہندو قومیت کا تعلق ایک ہندو تشخص کے لیے اپیل کرنے پر ہے۔ مگر چوں کہ تشخص ہندوؤں کے درمیان داخلی یکسانیت نہ ہونے کی وجہ سے غیر واقعی ہے اس لیے مثبت ہندو قومیت وجود میں آنے کے قابل نہیں۔ اس طرح جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں :
There are two types of Hindu communalism: negative and positive. Negative Hindu communalism consists in being merely anti-Muslim in varying de- grees: positive Hindu communalism consists in appealing in the name of a Hindu identity. But since this identity is very shadowy due to Hindu's lack of internal homogeneity, positive Hindu communalism is not viable. Thus what is possible is not desirable and what is desirable is not possible. (The Times of India, New Delhi, July اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند تو خود اپنے اندرونی مسائل میں اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اس کے لیے بیرونی خطرہ بننا تقریباً ناممکن ہے۔ ہند تو بیرونی خطرہ صرف اس وقت بن سکتا ہے جب کہ مسلمان جوش اور ہنگامہ والی سیاست سے اس کو اینٹی مسلم احساس پر کھڑے ہونے کا موقع دے دیں۔ اگر مسلمان ٹکراؤ سے اعراض کی پالیسی اختیار کر لیں تو ہند تو اپنے قیام کی واحد بنیاد سے محروم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اس کا جو انجام ہو گا اس کو لفظوں میں بتانے کی ضرورت نہیں۔
زندگی کا ایک محکم اصول یہ ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک بے معنی نعرہ لگا رہے ہوں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان نعروں کو نظر انداز کر کے یہ دیکھیں کہ تاریخ کی طاقتیں کس طرف جارہی ہیں۔ کیوں کہ زندگی میں بالآخر جو چیز باقی رہتی ہے وہ تاریخ کی طاقتیں ہیں نہ کہ کچھ غیر سنجیدہ لوگوں کے بولے ہوئے الفاظ۔ اس سلسلہ میں میں امریکہ اور کناڈا کی مثال دوں گا۔ ان ملکوں میں بھی، انڈیا کی طرح، مختلف کلچر پائے جاتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں کچھ انتہا پسند لیڈر اٹھے۔ انھوں نے مختلف کلچر کو ختم کر کے ایک کلچر بنانے کی تحریک چلائی۔ اس تحریک کو عام طور پر یونی کلچر ازم (uniculturalism) کہا مگر یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔ آخر کار انھیں ماننا پڑا کہ ان کے ملک کے لیے قابلِ عمل چیز صرف متنوع کلچریت (multiculturalism) ہے نہ کہ واحد کلچر۔
یہی واقعہ یقینی طور پر انڈیا میں بھی ہونے والا ہے۔ واحد کلچر کا نعرہ لگانے والے یہاں ناکام ہو کر رہ جائیں گے اور آخر کار جو چیز باقی رہے گی وہ مختلف اور متنوع کلچر کا اصول ہے جو ہزاروں سال سے اس ملک میں موجود تھا اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ یہی تاریخ کا فیصلہ ہے۔ نئی دہلی میں ۲۵ جولائی ۱۹۹۲ کو ایک میٹنگ تھی۔ اس کی رپورٹ ٹائمس آف انڈیا ۲۶ جولائی میں چھپ چکی ہے۔ یہاں مختلف ہندو دانش وروں نے تقریریں کیں۔ ٹائمس آف انڈیا کے ایڈیٹر
دلیپ پیڈ گاؤنکر (Dileep Padgaonkar) نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ہر آدمی کی مختلف حیثیت ہوتی ہے۔ آپ اس قانونِ قدرت کو بدل نہیں سکتے۔ اس معاملے میں ہمیں تنگ نظری کے بجائے وسعتِ نظری کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ میں مہاراشٹر میں پیدا ہوا۔ اب میں دہلی میں رہتا ہوں۔ وطن، زبان، مذہب، تہذیب، تعلیم ہر لحاظ سے میری مختلف حیثیتیں ہیں۔ اسی طرح تاریخ کے اعتبار سے میری مختلف حیثیت میری زندگی میں قدیم بھارتی عہد کا حصہ ہے۔ پھر میری زندگی پر مسلمانوں کے ہزار سالہ عہد کی چھاپ ہے۔ اس کے بعد برٹش عہد آیا۔ اس نے بھی میری زندگی پر اثرات ڈالے۔ اب میں آزاد انڈیا کا ایک فرد ہوں۔ یہ ساری چیزیں میری زندگی کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی میں اپنے سے الگ نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے مشہور انگلش رائٹر والٹ وہسٹمین (Walt Whitman) کا قول دہرایا اور کہا کہ ہمیں ان تمام تضادات کے ساتھ جینا ہے۔ میں اس سے زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنی زندگی میں سمو سکوں :
We all have to live with our contradictions. I am large enough to contain all والٹ وہسٹمین (۱۸۹۲ - ۱۸۱۹) کا یہ قول زندگی کی ایک حقیقت کو بتاتا ہے۔ کا مجموعہ ہے اور تضادات سے نباہ کر کے ہی وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
انڈین کلچر اور انڈین ہسٹری کے مشہور عالم پنڈت بی این پانڈے (۸۸ سال) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (۲۲ اگست ۱۹۹۳) میں چھپا ہے۔ ان سے یہ انٹرویو مسٹر ایس کالی داس نے لیا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ آج کا ہندو تو ہمارے دھرم کی مقدس کتابوں سے بہت کم مناسبت رکھتا ہے۔ اتھرو وید میں ہے کہ یہ دیش کئی مذہبوں، کئی نسلوں، کئی ذاتوں، کئی زبانوں کا دیش ہے۔ اس کے اندر مزید یہ کہا گیا ہے کہ اس دیش کو بس کرنے کے لیے ایک اصول کو مان لینا چاہیے۔ وہ یہ کہ یہ سرزمین ہماری مادرِ وطن ہے اور ہم سب اس کی اس طرح پانچ ہزار سال پہلے ہم اس اصول پر متفق ہو چکے ہیں کہ اس دیس میں زبان، عقیدہ اور کلچر کے اختلاف کے باوجود ہم پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے :
انڈین کلچر کے بارہ میں یہی صحیح نقطہ نظر ہے اور آخر کار ہمارے ملک میں یہی باقی رہنے والا ہے۔ انڈیا ماضی میں مٹی کلچر کا ملک تھا، حال میں وہ مٹی کلچر کا ملک ہے، اور مستقبل میں بھی وہ مٹی کلچر کا ملک یہی تاریخ کا فیصلہ ہے۔ یہی عقل کا تقاضا ہے، اور اسی میں ملک کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ صرف نعرہ بازی ہے، نہ کہ کوئی واقعی نظریہ یا کوئی حقیقی سیاست۔ الـرِسَالہ کیسٹ ــ ارکانِ اسلام سیٹ اس وقت ارکانِ اسلام کے نام سے کیسٹوں کا ایک سیٹ زیرتیاری ہے۔ جس کی ترتیب حسب ذیل ہے۔ ایمان کے موضوع پر ابتدا رہی میں ایک کیسٹ تیار کیا جا چکا ہے۔ اب بقیہ چار موضوعات پر علاحدہ علاحدہ کیسٹ بنائے جارہے ہیں جن میں عام فہم انداز میں اسلامی عبادات کی حقیقت اور ان کے تربیتی پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ پورا سیٹ جلد ہی تیار ہو جائے گا۔ ہدیہ فی کیسٹ ۲۵ روپیہ ۔ ہدیہ فی سیٹ ۱۱۰ روپیہ AL-RISALA CASSETTE C-29 Nizamuddin West New Delhi 110 013