Bombay Cricket match cancelled.
Al-Risala, April 1994, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائمُس آف انڈیا (۲۵ اکتوبر) کے الفاظ میں خبر کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک دن کے لیے ہونے والا انٹرنیشنل کرکٹ میچ جو بمبئی میں ۲۸ اکتوبر کو ہونے والا تھا اس کو کینسل کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میچ ہونے کی صورت میں شیو سینا نے بمبئی بند کی دھمکی دی تھی: The one-day international cricket match between India and Pakistan sched- uled to be played in Bombay on October 28 was cancelled after the Pakistan team declined to play. The Shiv Sena had threatened a Bombay bandh if the match went ahead. یہ خبر اخبارات میں چھپی تو ایک مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے شکایت کی کہ انڈیا میں ہندو فرقہ پرستی بہت طاقت ور ہوتی جارہی ہے۔ چنانچہ اس نے بمبئی میں ہونے والے انڈیا۔ میچ کو کور کوادیا۔ میں نے کہا کہ یہ مذکورہ خبر کا ایک حصہ ہے۔ اسی کے ساتھ اس خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب یہ میچ بنگلور یا گوالیار یا مدراس میں ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں ”بمبئی‘‘ اگر ایک ہے تو ”غیر بمبئی‘‘ تین ہیں۔ ملک کے ایک مقام پر اگر حالات موافق نہیں ہیں تو اسی ملک میں اور بہت سی جگہیں ہیں جہاں آپ کے لیے حالات پوری طرح موافق ہیں۔ پھر کیوں آپ صرف ایک پہلو کو دیکھ رہے ہیں ، دوسرا پہلو آپ کیوں نہیں دیکھتے۔
پھر میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء مکہ میں اپنا کام شروع کیا۔ کو سخت مشکلات پیش آئیں۔ مگر آپ شکایت اور احتجاج میں نہیں پڑے۔ آپ نے کہا کہ اگر میرے مخالفین مکہ میں مجھے کام نہیں کرنے دیتے تو مدینہ میں میرے لیے کام کرنے کے مواقع ہیں۔ جاکر اپنا کام کروں گا۔ چنانچہ آپ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے ۔ وہاں آپ کا کام اتنا بڑھا کہ مکہ سمیت پورے ملک میں انقلاب آگیا۔ گویا اب بھی آپ کو وہ پوزیشن حاصل ہے جو بوقتِ ہجرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی۔ پھر شکایت کس لیے۔
زندگی میں ہمیشہ دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ مائنس پوائنٹ بھی اور پلس پوائنٹ بھی۔ اکثر یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ مائنس پوائنٹ میں اس طرح الجھتا ہے کہ پلس پوائنٹ اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کی کمزوری ہے۔ جو لوگ اس کمزوری میں مبتلا ہوں وہی اس دنیا میں ناکام رہتے اور جو لوگ اس کمزوری سے اوپر اٹھ جائیں وہ ہمیشہ کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اس دنیا کو خدا نے مقابلے (competition) کی بنیاد پر بنایا ہے۔ اسی لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ ہر ایک کے لیے مشکلات رہیں گی۔ مگر اسی کے ساتھ قرآن میں یہ خبر بھی دی گئی ہے کہ دنیا میں مشکلات کے ساتھ آسانیاں بھی لازمی طور پر موجود رہیں گی۔
ایسی حالت میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے راستے میں بعض مشکلات ہیں۔ اس کے بجائے زیادہ اہم اور زیادہ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ مشکلات کے باوجود یہاں آسانیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یعنی ناموافق حالات (disadvantage) کے ساتھ موافق حالات (advantage) بھی یکساں طور پر بلکہ اکثر حالات میں زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔
یہ اصول جس طرح تمام دوسرے ممالک پر منطبق ہوتا ہے اسی طرح وہ انڈیا پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ انڈیا یقینی طور پر اس قانونِ فطرت سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ صرف دیکھنے والوں کے زاویہ نگاہ کا فرق ہے کہ وہ اس کو دیکھ نہیں پاتے۔