مسلم مسئلہ
Al-Risala, April 1994, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی وہ تحریکیں ہیں جو ایجی ٹیشن کے اصول پر چلائی یہاں کے مسلمان اپنے لیڈروں کی رہ نمائی میں پچھلے پچاس سال سے احتجاجی سیاست چلا کبھی مسلم یونیورسٹی کے نام پر، کبھی مسلم پرسنل لاو کے نام پر، کبھی بابری مسجد کے نام پر۔ قسم کی احتجاجی تحریکوں نے اس ملک میں ہند ومسلم تعلقات کو بگاڑ دیا ہے۔ دونوں کے درمیان مستقل طور پر تناؤ اور اشتعال کی حالت پیدا کر دی ہے۔ اور جہاں اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان اس قسم کی صورت حال پیدا ہو جائے وہاں اقلیتی فرقہ کبھی امن اور حفاظت کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ کسی شخص نے مشرقی ملکوں کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے یہاں جلوس
کی سیاسی سرگرمیوں اور عوامی جلسوں نے گرمی زیادہ پیدا کی ہے اور روشنی کم : Political activities of procession and public meeting have generated more heat than light. یہ الفاظ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست پر مکمل طور پر صادق آتے ہیں۔ یہاں کے مسلم لیڈروں نے ۱۹۴۷ سے لے کر اب تک یہی کیا کہ وہ احتجاج اور ایجی ٹیشن کے اصول پر اپنی تحریکیں اس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ ان کی تحریکوں نے صرف باہمی ناخوش گواری میں اضافہ کیا۔ ان تحریکوں سے باہمی ہمدردی کا ماحول پیدا نہ ہوسکا۔
ان نام نہاد مسلم لیڈروں نے صرف یہ جانا کہ احتجاجی تحریک چلانا ان کا قانونی حق ہے۔ مگر وہ یہ جان نہ سکے کہ عملی صورت حال ان کے موافق نہیں ہے۔ چنانچہ اس منفی سیاست نے ان کو صرف نقصان اس کے ذریعہ وہ کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ کرسکے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں اس قانونی حق کا استعمال مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی اور نتیجہ پیدا نہ کر سکا کہ جو کچھ حاصل نہیں تھا، اس کو پانے کی کوشش میں جو حاصل تھا وہ بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔
ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل کا سادہ اور آسان حل یہ ہے کہ وہ جس طرح باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں اور وہاں کے حالات سے موافقت کر کے رہتے ہیں، اسی طرح وہ ہندوستان کے حالات سے موافقت کر کے رہنے لگیں۔ اس کے بعد انھیں اس ملک میں امن، عزت، حفاظت، سب کچھ اسی طرح مل جائے گا جس طرح وہ ان چیزوں کو باہر کے مسلم یا غیر مسلم ملکوں میں کامل طور پر پائے ہوئے ہیں۔