Al-Risala · April 1994

Far-reaching steps to end communalism.

Al-Risala, April 1994, pp. 31–34

By Maulana Wahiduddin Khan

سرینگر کے اجلاس میں نیشنل انٹیگریشن کونسل نے کچھ سفارشات اتفاق رائے سے منظور ان سفارشات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہر سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ حکومت اس مقصد کے لئے سراغ رسانی کے خصوصی یونٹ قائم کرے۔ اس معاملہ میں جو سرکاری افسران اپنے فرائض سے کوتاہی کرتے ہوئے پائے جائیں ان کو سزا دی جائے۔ فرقہ وارانہ جھگڑوں کی سماعت کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔ قانون تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳ میں ترمیم کرکے فرقہ وارانہ سرگرمیوں کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ سرکاری ملازمین کی بھرتی میں کسی قسم کا امتیاز نہ برتا

تہواروں کو مشترک طور پر منانے کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ اس طرح قومی یک جہتی یا نیشنل انٹیگریشن کی کوششوں پر اب ۳۰ سال گزر چکے ہیں۔ تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس مدت میں قومی کشیدگی اور قومی اختلافات اس سے بھی زیادہ ہو گئے جو ۳۰ سال پہلے ہمارے ملک میں پائے جاتے تھے۔

میں نے اس موضوع پر کافی غور کیا ہے اور اس معاملہ میں دوسرے ملکوں کے حالات کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ آخر کار میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں قومی یک جہتی نہ ہونے کا جو اصل سبب ہے اس کو دور کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ملک کے اندر قومی جہتی کی فضا پیدا نہیں ہو سکتی۔ وہ سبب ہے شعور کی کمی۔

اس صورت حال کی اصلاح کے لئے عام طور پر جو تجویزیں پیش کی جاتی ہیں وہ تقریبا سب کی سب سسٹم یا نظام سے تعلق رکھتی ہیں۔ مگر اس طرح کی سماجی خرابیاں سسٹم کے بدلنے سے درست نہیں ان خرابیوں کا تعلق تمام تر افراد سے ہے۔ یہ دراصل افراد ہیں جو سسٹم کو چلاتے ہیں۔ لئے سسٹم کو درست کرنے کے لئے افراد کو درست کرنا ہوگا۔

کسی سماج کا درست ہونا تمام تر اس پر منحصر ہے کہ اس کے افراد کا مزاج درست ہو۔ کے طور پر جاپان کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ ان کے اوپر کوئی سردار مقرر کیا جائے تو وہ فوراً اس کی ماتحتی کو قبول کر لیتے ہیں۔ اس لئے جاپان کے سماج میں اتحاد ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ملک کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ وہ کسی کی ماتحتی کو قبول نہیں کرتے ، اس لئے ہمارے ملک کے سماج میں اتحاد نہیں۔

میں نے اس سلسلہ میں جاپان کی تاریخ کا کافی مطالعہ کیا۔ میں نے پایا کہ جاپان میں یہ مزاج تعلیم کے ذریعہ آیا۔ جاپان میں ہر شخص تعلیم یافتہ ہے۔ مزید یہ کہ اسکول کی سطح پر ان کے یہاں تعلیم کا نہایت اعلیٰ انتظام ہے۔ اس طرح جاپان کا ہر شخص نہ صرف تعلیم یافتہ ہے بلکہ وہ شعوری حیثیت سے بیدار ہے اور اپنے اندر تعمیری ذہن رکھتا ہے۔

اس مطالعہ کے بعد، نیز دوسرے تاریخی پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کے بعد میری قطعی رائے ہے کہ ہندوستان کے سماجی جھگڑوں کا واحد حل یہ ہے کہ قوم کو صد فی صد تعلیم یافتہ بنایا جائے۔

کے ہر فرد کے اندر تعمیری شعور پیدا ک جائے ۔ جس دن ایسا ہو گا اسی دن ملک کے اندر وہ چیز بھی پیدا ہو جائے گی جس کو قومی یک جہتی کہا جاتا ہے ۔

اس نظریہ کی صحت کی ایک مثال خود ہمارے ملک میں موجود ہے ۔ ہندوستان میں عمومی سطح پر لٹریسی ، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴ء) کے بیان کے مطابق ۳۶ فیصد ہے۔ مگر جنوبی ہندوستان کی ایک ریاست کیرلا میں لٹریسی تقریبآ صدی تک پہنچ چکی ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ بقیہ ہندوستان میں طرح طرح کے جھگڑے جاری رہتے ہیں۔ مگر کیرلا کی ریاست سماجی جھگڑوں سے تقریبا پاک ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ تعلیم کی کمی سے شعوری ناپختگی پیدا ہوتی ہے ۔ اور تعلیم کا اضافہ لوگوں کے اندر شعوری بالیدگی پیدا کر دیتا ہے ۔ اور جہاں شعوری بالیدگی آجائے وہاں غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔

تمام ترقی یافتہ ملکوں میں لازمی تعلیم کا اصول رائج ہے ۔ ہر ترقی یافتہ سماج میں گورنمنٹ اس بات کی ذمہ دار ہے کہ وہ ہر شخص کو تعلیم یافتہ بنائے ۔ چنانچہ ان قوموں اور سماجوں میں ہر آدمی تعلیم یافتہ ہے ۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے ترقی یافتہ سماج اور پس ماندہ سماج میں وہ فرق پیدا کر رکھا ہے جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

انڈیا میں ابھی لازمی تعلیم کے اصول کو رائج نہ کیا جا سکا۔ آزادی کے بعد دستور ہند میں اس سے کمتر درجہ میں ایک معیار طے کیا گیا تھا ۔ مگر اس کو بھی ابھی تک زیر عمل نہ لایا جا سکا ۔ پیڈیا برٹانیکا نے اس کو ان الفاظ میں ریکارڈ کیا ہے ــــ انڈیا یا اس دستوری ہدایت کو زیر عمل لانے میں ناکام رہا ہے کہ وہ چھ سال سے چودہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے عمومی تعلیم کا انتظام کرے :

India has failed to carry out the constitutional directive of providing uni- versal education for children in the age group of six to 14. (6/394)

میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی سماج میں قومی یک جہتی پیدا نہ ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے ۔ تعلیم میں پچھڑا ہوا ہے ۔ اس لئے وہ شعور میں پچھڑا ہوا ہے ۔ اور جو قوم شعور میں پیچھے ہو جائے وہ سماجی

تعمیر میں بھی اسی نسبت سے پیچھے ہو جائے گی ۔

تاہم اس کام کو صرف حکومت پر چھوڑنا درست نہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ہندوستانی کو اس میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہئے ۔ ایک آدمی اگر صرف ایک آدمی کو پڑھا سکتا ہے تو وہ ایک آدمی کو پڑھائے ۔ ایک آدمی ابتدائی سطح پر بچوں کی تعلیم کا انتظام کر سکتا ہے تو وہ ابتدائی سطح پر بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے ۔ کچھ لوگ اسکول اور کالج کھولنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اسکول اور کالج کھول کر نوجوانوں کی تعلیم کا بندوبست کریں ۔ غرض ہر آدمی اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے اس مہم میں شریک ہو جائے ۔ جب یہ تعلیمی مہم کامیاب ہوگی اور قوم صد فی صد تعلیم یافتہ ہو جائے گی تو اس وقت نہ صرف ملک میں قومی یک جہتی آچکی ہوگی بلکہ مزید تمام اوصاف کو حاصل کر کے ہمارا سماج ایک ترقی یافتہ سماج بن جائے گا جس کا ہم پچھلے پچاس سال سے انتظار کر رہے ہیں ۔

Printed page