چند مثالیں
Al-Risala, April 1994, pp. 37–40
By Maulana Wahiduddin Khan
۶۳۲ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مدینہ میں ہوئی۔ اس وقت مسلمانوں کی جماعت میں دو بڑے گروہ تھے۔ ایک مہاجر، نئے انصار۔ اب سوال یہ تھا کہ خلیفہ (پیغمبر کا سیاسی جانشین) اس وقت انصار نے کہا کہ: منا امیر ومنکم امیر (ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے) یہ گویا دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی مساوات کا فارمولا تھا جو مدینہ کے انصار کی طرف سے پیش کیا گیا۔
مگر اصحاب رسول کی اکثریت نے سیاسی مساوات کے اس اصول کی مخالفت کی، کیوں کہ بظاہر خوش نما ہونے کے باوجود وہ قابل عمل نہیں تھا۔ مہاجر بزرگ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے بجائے دوسرا فارمولا ان لفظوں میں پیش کیا کہ: نحن الامراء وانتم الوزراء (ہم امیر ہوں اور تم وزیر) دوسرے لفظوں میں یہ کہ، انصار اپنے آپ کو سٹرنکسٹ کے مقام پر رکھ کر مہاجرین کو مسٹر فرسٹ کا درجہ دینے پر راضی ہو جائیں۔
مہاجر گروہ کے بزرگ ترین فرد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فارمولا کے حق میں مفصل تقریر کی اور اس کی تائید میں یہ حدیث رسول پیش کی کہ: الائمۃ من قریش (امام قریش میں سے ہوں گے) آخر کار انصار کا گروہ دوسرے سیاسی نظام میں مسٹرنکسٹ بننے پر راضی ہوگیا۔ ان کی اس رضامندی نے اسلام کی تاریخ کو آگے بڑھادیا۔ اگر خدانخواستہ مدینہ کے انصار مسٹرنکسٹ بننے پر راضی نہ ہوتے تو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ہی دونوں مسلم گروہوں کے درمیان عہدوں کی لڑائی اور پھر شاید اسلام کی تاریخ ہمیشہ کے لیے مدینہ میں دفن ہوجاتی۔ اب انڈیا کی مثال لیجیے۔ ۱۹۴۷ء میں جب انڈیا ایک آزاد ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا تو اس وقت انڈین نیشنل کانگریس میں دو سب سے زیادہ ابھرے ہوئے لیڈر تھے جن میں سے کسی ایک کو نئے ہندوستان کا وزیر اعظم بننا تھا۔ ایک پنڈت جواہر لال نہرو، دوسرے سردار ولبھ بھائی پٹیل۔ کانگریس پارٹی میں دونوں کے حامي موجود تھے۔
اس وقت مہاتما گاندھی نے دانش مندی سے کام لیا اور پنڈت نہرو کے حق میں اپنی رائے سردار پٹیل کے لیے بلاشبہ یہ ایک سخت فیصلہ تھا۔ تاہم انھوں نے اپنی حیثیت کا
اعتراف کرتے ہوئے ہندوستان کے نئے سیاسی نظام میں اپنے لیے مسٹر نیکسٹ کا رول منظور کر لیا۔ سردار پٹیل کی اسی حقیقت پسندی کا یہ نتیجہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں سیاسی عہدوں کی جنگ برپا نہیں ہوئی اور کسی رکاوٹ کے بغیر ملکی ترقی کا سفر شروع ہو گیا۔ سردار پٹیل اگر مسٹر نیکسٹ بننے پر راضی نہ ہوتے تو کبھی ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔
پاکستان میں بدقسمتی سے برعکس صورت پیش آئی۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان وجود میں آیا تو اس کے دو بڑے جغرافی حصے بنے۔ ایک موجودہ بنگلہ دیش اور دوسرا سابق مغربی پاکستان۔ سیاسی اسباب نے مغربی پاکستان کے لیے مسٹر نیکسٹ کا رول لکھ دیا تھا اور بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) کے لیے مقدر تھا کہ وہ نومولو د ریاست میں مسٹر نیکسٹ کا رول ادا کرے۔ لیکن بنگلہ دیش کو یہ پسند نہیں آیا کہ وہ مسٹر فرسٹ کی سیٹ پر بیٹھے۔ اس کا یہ اندوہناک نتیجہ نکلا کہ وجود میں آنے کے صرف ۲۴ سال بعد پاکستان کا "خداداد ملک" دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک طاقت ور ملک دو کمزور خطوں میں بٹ کر
تاہم پاکستان میں اعتراف واقعہ کی بھی ایک جزئی مثال موجود ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں تقریباً دو ملین ہندو باقی رہ گئے تھے۔ یہ ہندو وہاں کی مسلم اکثریت کے مقابلہ میں مسٹر فرسٹ کی حیثیت رکھتے تھے۔ پاکستان کے ہندو نے ایک دن کی تاخیر کے بغیر اپنی وہ حیثیت تسلیم کر لی جو تاریخی حالات نے اس کے لیے مقدر کی تھی۔ اس کا نتیجہ اس کے حق میں شاندار نکلا۔ آج پاکستان میں یہ مسٹر فرسٹ وہاں کے مسٹر فرسٹ سے زیادہ محفوظ، زیادہ خوش حال اور زیادہ ترقی یافتہ زندگی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات خود پاکستان کے ایک سروے کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے۔ ہندو مسلم مسئلہ انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا معاملہ بھی اسی قانون فطرت کے تحت آتا ہے۔ خداوندی کو ہمیں دل کی آمادگی کے ساتھ مان لینا ہے۔ اگر ہم اس کو نہ مانیں تو فطرت کا قانون تو نہ بدلے گا۔ البتہ ہم ابدی طور پر ایک تباہ شدہ گروہ بن کر رہ جائیں گے۔
انڈیا کے تاریخی، سماجی اور سیاسی حالات نے اس ملک میں ہندو کو مسٹر فرسٹ کی حیثیت دے دی ہے۔ اور مسلم فرقہ کے لیے یہ مقدر کر دیا ہے کہ کم از کم فی الحال وہ اس عظیم ہندوستانی
سماج کے اندر مسٹرنگسٹ کا رول ادا کرے۔ یہ فطرت کا فیصلہ ہے۔ اور فطرت کا فیصلہ خود خدا کا فیصلہ مسلمانوں کو یہاں مسٹر نگسٹ کی پوزیشن کو اسی طرح تسلیم کرنا ہے جس طرح وہ دوسرے قوانین الہی کو اٹل سمجھ کر اسے تسلیم کرتے ہیں۔
حقیقت اپنی ذات میں حقیقت ہوتی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو حقیقت کو عزت کے ساتھ کیوں کہ حقیقت کو اگر عزت کے ساتھ نہ مانا جائے تو آخر کار اسے ذلت کے ساتھ ماننا پڑے گا۔
ہندوستان کی آزادی پر نصف صدی پوری ہو رہی ہے۔ مگر اب تک ہندوستان وہ ترقی نہ کر سکا جو اپنے امکانات کے اعتبار سے اسے کرنا چاہیے تھا۔ اس المیہ کا واحد بڑا سبب اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کی نزاع ہے۔ دونوں کے درمیان یہ مسلسل نزاع اسی لیے قائم ہے کہ جو فرقہ مسٹر نگسٹ ہے وہ مسٹر نگسٹ بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔
انڈیا میں اور بھی کئی اقلیتیں ہیں۔ مگر مسلم گروہ یہاں مسٹر نگسٹ ہے ، کیوں کہ وہی نیکسٹ ٹو مجاریٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فرق کسی سازش کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اسی خالق کے منصوبے کے تحت ہے جو کسی کو پہلے بھائی کی حیثیت سے پیدا کرتا ہے اور کسی کو دوسرے بھائی کی
مسلمان ابھی تک فطرت کے اس فیصلے کو قبول نہ کر سکے۔ پچھلے پچاس سال سے مسلمان یہاں کے ہندو کو رقیب کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان سے حریفانہ تعلق قائم کیے ہوئے ہیں۔ تلخ صورت حال کا سبب ان کا یہی عدم اعتراف ہے۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان خود بھی تباہ ہیں اور اسی کے ساتھ وہ ملک کی تباہی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ مگر مسلمانوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ اس معاملہ میں ان کے لیے صرف ایک ہی انتخاب (choice) ہے۔ دوسرا کوئی انتخاب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔ وہ واحد انتخاب یہ ہے کہ مسلمان حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے مسٹر نگسٹ کی پوزیشن قبول کرنے پر راضی ہو جائیں۔ یہی مسلمانوں کے اپنے مسئلہ کا حل بھی ہے اور یہی پورے ملک کے مسئلہ کا حل بھی۔
(Politics is the art of posible) سیاست ممکن کا فن ہے
مکہا ایک معروف اصول ہے اور وہ سب سے زیادہ مذکورہ معاملہ پر چسپاں ہوتا ہے۔ مسٹر ٹنکٹ کے لیے مسٹر ٹنکٹ کی پوزیشن قبول کرنا در حقیقت ناممکن کے مقابلہ میں ممکن کو اختیار کرنا ہے۔ اس معاملہ میں اگر فطرت کے فیصلہ کو قبول نہ کرے تو وہ خود اپنے آپ کو ہر قسم کے نقصان میں مبتلا کرلے گا۔ مسٹر ٹنکٹ کے لیے مسٹر ٹنکٹ کا رول قبول کرنا خود اپنی ترقی اور کامیابی کا دروازہ کھولنا ہے۔ جو مسٹر ٹنکٹ ایسا کرے، عملی طور پر وہ سماج کے اندر مسٹر ایجی ٹیٹر بن کر رہ جائے گا۔ اس سے زیادہ اور کچھ وہ حاصل نہیں کر سکتا۔