حقائق کا فیصلہ
Al-Risala, April 1994, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی مسلم دانشور یہاں کہہ سکتا ہے کہ انڈیا میں تو ڈیموکریسی ہے۔ پھر ہم کیوں اپنے لیے مسٹر ٹنکٹ کی پوزیشن قبول کریں۔ میں کہوں گا کہ ڈیموکریسی کسی یوٹوپیا کا نام نہیں۔ ڈیموکریسی میں بھی کسی کو مسٹر ٹنکٹ بننا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی عملی طور پر ڈیموکریسی کا نظام کسی ملک میں قائم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں اس وقت ڈیموکریسی ہے۔ مگر ۱۹۹۳ کے الیکشن کے بعد نواز شریف کو مسٹر ٹنکٹ بننا پڑا، اس کے بعد ہی بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمی کے تحت پاکستان میں ڈیموکریسی کا نظام قائم ہوا۔ دوسری بات یہ کہ زندگی کے معاملات الفاظ کے تابع نہیں ہیں ۔ زندگی کے معاملات حقائق کے خالص اصولی اعتبار سے آئیڈیلزم بہت اچھی چیز ہے۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ زندگی کا عملی نظام ہمیشہ پریگمیٹزم (pragmatism) کی بنیاد پر چلتا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے جس میں کسی بھی نظام کا کوئی استثناء نہیں۔
اس کی ایک متعلق مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مارچ ۶۳۲ میں مدینہ سے ک گئے اور وہاں حج کا فریضہ ادا کیا۔ اسلام کی تاریخ میں اس کو حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر آپ نے اپنے مشہور خطبہ میں (نیز اس سے پہلے بھی) اعلان فرمایا کہ ایک انسان کو دوسرے انسان پر کوئی عربی اور عجمی، اسود اور احمر سب برابر ہیں۔ کوئی حبشی تمہارے اوپر حکمراں بنا دیا جائے تب بھی تم اس کی اطاعت کرو۔
اس اعلان کے تقریباً ڈھائی مہینہ بعد ۸ جون ۶۳۲ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو بزرگ صحابی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ خلیفہ صرف قبیلہ قریش میں سے بنایا جائے گا۔
کیوں کہ اہل عرب قریش کے سوا کسی اور کی سرداری قبول نہیں کرسکتے۔ ایسی حالت میں اگر کسی دوسرے قبیلہ کا آدمی خلیفہ بنایا گیا تو عرب کے لوگ بغاوت کردیں گے۔ گویا اسلام کے عین دورِ اول میں خلیفہ کا انتخاب پریگیٹرم کی بنیاد پر کیا گیا نہ کہ آئیڈیلیزم کی بنیاد پر۔