Al-Risala · April 1994

مردان کار کی ضرورت

Al-Risala, April 1994, pp. 46–50

By Maulana Wahiduddin Khan

انڈیا برٹش اقتدار سے ۱۹۴۷ میں آزاد ہوا۔ مگر برٹش اقتدار کے خلاف انڈیا کی جنگِ آزادی اس سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی ۔ ۱۷۹۹ء میں سلطان ٹیپو برٹش فوجوں سے لڑتے ہوئے قربان ہو گئے ۔ ۱۸۵۷ - میں برٹش اقتدار کے خلاف مسلح بغاوت ہوئی لیکن انگریزوں نے اس کو نا کام بنا دیا۔ اس طرح کی مسلح لڑائیاں انگریزوں کے خلاف ڈیڑھ سو سال تک کسی نہ کسی صورت میں مگر ہندوستانیوں کی یک طرفہ تباہی کے سوا ان کا کوئی اور نتیجہ بر آمد نہ ہو سکا۔ مہاتما گاندھی ۱۹۱۹ میں ساوتھ افریقہ سے انڈیا واپس آئے۔ اور انڈین نیشنل کانگریس میں شریک ہوگئے جو ۳۵ سال پہلے کچھ آزادی پسند لوگوں نے قائم کی تھی۔ مہاتما گاندھی نے ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں ایک نئے اصول ستیہ گرہ کا اضافہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں کی سیاست میں ایک زلزلہ آگیا :

He announced a Satyagraha struggle. The result was a virtual political earth- quake that shook the subcontinent in the spring of 1919. (7/876)

مہاتما گاندھی سے پہلے انڈیا کی تحریکِ آزادی تشدد (violence) کے اصول پر چل رہی تھی۔ آزادی کی مانگ کرنے والے انگریزوں کے اوپر تشدد کرتے تھے۔ اس کے جواب میں انگریز اور زیادہ تشدد کرکے ان کو کچل دیتے تھے۔ مہاتما گاندھی نے اعلان کیا کہ ہم اپنی آزادی کی تحریک کو عدم تشدد (non-violence) کی بنیاد پر چلائیں گے۔ انھوں نے بم اور گولی کو پھینک دیا اور اس کے بجائے ہندوستانی عوام کو بیدار کرنا شروع کر دیا۔

اس نئی تحریک نے انگریزی حکومت کو بے بس کر دیا۔ اس سے پہلے وہ تشدد کو توڑنے کے تشدد کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ مگر مہاتما گاندھی کی اہنسا نے انگریزوں سے تشدد کا جواز چھین چنانچہ اسی زمانہ کا ایک لطیفہ ہے کہ ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو ٹیلی گرام بھیجا کہ براہِ کرم یہ بتائیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے :

Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently?

مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کے طریقہ کو اختیار کر کے ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو سیاسی آزادی حاصل مگر آج ہم محسوس کرتے ہیں کہ ان کا اصل مشن پورا نہیں ہوا۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پونچھنا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ رونے والوں کے آنسو پونچھے نہ جاسکے۔ کے بعد رونے والی آنکھوں میں کچھ اور آنکھوں کا اضافہ ہوگیا۔

آزادی کے بعد مہاتما گاندھی ایک اور اندولن چلانے والے تھے۔ یہ نئے ہندوستان کی تعمیر کا اندولن تھا۔ مگر وہ اپنے مشن کے دوسرے مرحلہ کو پورا نہ کر سکے۔ ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء کو دہلی میں ایک انتہا پسند نوجوان کی گولی نے قبل از وقت ان کا خاتمہ کر دیا۔

اب ہمیں ایک اور گاندھی کی ضرورت ہے۔ پہلے گاندھی نے ۱۹۴۷ء سے قبل تحریک آزادی کو تشدد کے راستہ سے ہٹا کر عدم تشدد کے راستہ پر ڈال دیا تھا۔ دوسرے گاندھی کو اسی قسم کی تبدیلی کا ایک زیادہ مشکل کام انجام دینا ہے۔ یہ کام ہے ۔ اہل ملک کے لیے ذاتی انٹرسٹ کے بجائے نیشنل انٹرسٹ کو سسپریم بنا دینا۔

آزادی کے بعد نئے ہندوستان کے بارہ میں ہمارا خواب پورا نہ ہو سکا۔ اس کی واحد سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے قومی آزادی لوگوں کا مقصد تھا۔ آزادی کے بعد قومی انٹرسٹ کو لوگوں کا مقصد بن جانا چاہیے تھا۔ مگر عملًا یہ ہوا کہ اس کے بجائے ذاتی انٹرسٹ لوگوں کا نشانہ بن گیا۔ تعمیر خویش کی بڑھی ہوئی حرص میں تعمیر وطن کا کام انجام پانے سے رہ گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے اپنی نئی زندگی شروع کی۔ اور اسی کے بعد انڈیا نے بھی اپنی نئی زندگی شروع کی۔ آج جاپان اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ اس کو اقتصادی سپر پاور کہا جاتا ہے۔ جب کہ انڈیا مالی اقتصادی نقشہ میں سب سے نیچے جگہ پائے ہوئے ہے۔ اس فرق کا سبب دونوں کے مزاج کا فرق ہے۔ جاپانیوں کے نزدیک جاپان کا نیشنل انٹرسٹ پریم حیثیت رکھتا ہے اور ان کا ذاتی انٹرسٹ اس کے مقابلہ میں صرف سیکنڈری ہے۔ انڈیا میں صورت حال اس کے برعکس یہاں کے انسان کے لیے اس کا ذاتی انٹرسٹ اول بن گیا ہے اور نیشنل انٹرسٹ کی حیثیت صرف ثانوی ہو کر رہ گئی ہے۔

۱۹۴۷ء سے پہلے ملک کے سامنے سیاسی ڈھانچہ کی تبدیلی کا نشانہ تھا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ذہنی

ھانچے کی تبدیلی کا نشانہ ہمارے سامنے ہے۔ پہلے مسئلہ کے مقابلہ میں دوسرا مسئلہ یقیناً زیادہ مشکل لیکن اگر جاپان اور دوسری ترقی یافتہ قوموں نے اس دوسری تبدیلی کے میدان میں کامیابی حاصل کر لی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس تبدیلی کو اپنے ملک میں لانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ آج انڈیا کو ایک نئے گاندھیائی آندولن کی ضرورت ہے جو انڈیا میں اس دوسری تبدیلی کو واقعہ بنا سکے۔ جو لوگوں کی سوچ کو بدلے۔ جو ذاتی انٹرسٹ پر چلنے والوں کو قوم کے انٹرسٹ پر چلنے والا بنا دے۔ یہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے بالکل درست کہا ہے کہ کسی تہذیب نے اخلاقی اور روحانی احیاء کے بغیر کبھی ترقی نہیں کی : No civilization has flourished without a moral and spiritual renaissance. نئے انڈیا کی تعمیر بھی دوبارہ طریق عمل کی ایک تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد جن لوگوں کے ہاتھ میں انڈیا کی قسمت آئی، انھوں نے نئے انڈیا کی تعمیر کے لیے جس نسخہ کا تجربہ کیا وہ ڈھانچہ (system) کی تبدیلی تھی۔ اب ہمیں اس کے بجائے فرد (individual) میں تبدیلی کو اپنا نشانہ بنانا ہے۔

پچھلے ۵۰ سال میں سماجی زندگی کے تمام شعبوں کو بار بار بدلا جاتا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں اتنے قوانین بنائے گئے ہیں کہ اب بنانے والوں کو بھی اس کی گنتی کا علم نہیں۔ مگر عملی حالات میں کوئی بھی بہتری نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ڈھانچہ کو آخر کار جو کنٹرول کرتا ہے وہ ایک انسان ہے۔ انسان کو بدلنے کا کام سرے سے ہمارے یہاں نہیں ہوا۔

انسان کو بدلنے سے مراد انسان کی سوچ کو بدلنا ہے۔ انسان کو صحیح رخ پر سوچنے والا بنانا مثلاً بابری مسجد کے معاملہ میں ہندو اور مسلمان دونوں غلط فکری کا شکار ہوئے۔ مسلم لیڈروں نے اس ایشو کو مقامی دائرے سے نکال کر آل انڈیا ایشو بنایا۔ اس طرح انھوں نے ایک سادہ اور چھوٹے ایشو کو بڑھا کر پوری اکثریتی کمیونٹی کے لیے پرستیج ایشو بنا کر اس کی پیچیدگی میں اضافہ کر دیا۔ دوسری طرف انتہا پسند ہندوؤں نے سمجھا کہ وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ تاریخ کی تصحیح انھوں نے تاریخ کی تصحیح کے نام پر بابری مسجد کو ڈھادیا۔ مگر ڈ ڈھانے کے بعد انھیں معلوم

ہوا کہ وہ ماضی کی درستگی کے نام پر صرف حال کی بربادی کا کام انجام دے رہے تھے۔ نیا گاندھیائی رول اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ پہلا گاندھیائی رول ممکن تھا۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ پہلا گاندھی ہیرو ازم کی بنیاد پر اٹھا تھا، دوسرے گاندھی کو زیر و ازم کی بنیاد پر اٹھنے کا حوصلہ کرنا ہوگا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلا گاندھیائی رول بنیادی طور پر ایک سیاسی رول تھا جو غیر قوم کے خلاف ادا کیا گیا ، دوسرا گاندھیائی رول بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی رول ہے جس کو خود اپنی قوم کے اوپر ادا کرنا ہے۔ اور تاریخ کا اور خود گاندھی کا تجربہ بتاتا ہے کہ دوسروں کے خلاف بولنے والے کا استقبال پھولوں سے کیا جاتا ہے اور اپنوں کو مخاطب کرنے والے کا استقبال گولیوں سے۔

جو شخص آج دوسرے گاندھی کا رول ادا کرنے کے لیے اٹھے اس کو پیشہ ور سیاست دانوں (career politicians) کا طریقہ چھوڑ دینا ہوگا۔ وہ عوامی رجحان کے بجائے اصول کو اپنے سامنے رکھے گا۔ وہ اپنے فرقہ کے مفاد کے لیے بولنے کے بجائے قوم کے مفاد کے لیے بولے گا۔ وہ علاقائی خواہشات کے بجائے ملک کی وسیع تر مصلحتوں کو اپنا نشانہ بنائے گا۔ وہ ذاتی خوش نامی کو نظر انداز کر کے سچائی کا اعلان کرے گا۔ وہ وقتی تقاضوں کے بجائے مستقبل کے تقاضوں کو اہمیت دے گا۔

یہ چیزیں اس کو ہیرو شخصیت کے بجائے زیرو شخصیت بنا دیں گی۔ مگر دوسرا گاندھی بننے کی یہی واحد قیمت ہے اور جب تک ایسے حوصلہ مند افراد نہ اٹھیں دوسرے گاندھیائی کردار کی ادائیگی بھی اس دیش میں ممکن نہیں۔

مہاتما گاندھی ۱۹۱۹ میں کانگریس پارٹی میں شریک ہوئے۔ اس وقت انڈیا کی سیاست پر بال گنگا دھر تلک چھائے ہوئے تھے۔ تلک ہائی پروفائل میں بولنا پسند کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں مہاتما گاندھی ہمیشہ لو پروفائل میں بولتے تھے۔

۱۱ اگست ۱۹۳۷ کو میری ملاقات نئی دہلی میں پرنسپل نرنجن سنگھ سے ہوئی تھی۔ وہ ۱۹۱۹ کے اس امرت سر اجلاس میں موجود تھے جس میں مہاتما گاندھی شریک ہوئے۔ نرنجن سنگھ نے مجھے بتایا کہ کانگریس کے اس تاریخی اجلاس میں تلک ، موتی لال ، اینی بسنٹ، محمد علی جناح وغیرہ موجود تھے۔

بڑے بڑے لیڈروں کے اس ماحول میں گاندھی جی بظاہر دیکھنے میں اتنے غیر اہم معلوم ہوتے تھے کہ اسٹیج پر ان کو دیکھ کر اسکول کے لڑکوں نے کہا: یہ گھاس کاٹنے والا کہاں سے آ گیا۔ تلک نے اس اجلاس میں مکمل سوراج کا رزولیوشن پیش کیا۔ دوسرا رزولیوشن گاندھی جی کا تھا۔ اس میں ڈومینین اسٹیٹس کی تجویز رکھی گئی تھی۔ تقریروں کے بعد ووٹنگ ہوئی تو تلک کو ۱۲۳ ووٹ اس کے مقابلے میں گاندھی جی کو صرف چار ووٹ زیادہ ملے۔ ان کا رزولیوشن ،۱۲ ووٹ سے اس وقت گاندھی کی یہ جیت اتنی عجیب تھی کہ جب نتیجہ کا اعلان ہوا تو لڑکوں نے نعرہ لگایا : وہ گھسیارا جیت گیا ، وہ گھسیارا جیت گیا۔

یہ دور غلامی کی بات ہے ۔ دورِ آزادی میں جو شخص گاندھی کا رول ادا کرنے کے لیے اٹھے گا اس کو مزید اضافے کے ساتھ ہائی پروفائل کا اسلوب چھوڑنا ہو گا اور آخری حد تک لو پروفائل کے اسلوب کو اختیار کرنا ہوگا۔ حتی کہ عین ممکن ہے کہ اس عمل کے دوران لوگوں کی نظر میں وہ مسٹر جیت کے بجائے مسٹر ہار بن جائے۔ اور اس کے بارہ میں اسکول کے لڑکے یہ نعرہ لگائیں : مسٹر جیت گھسیارا بن گئے ، مسٹر جیت گھسیارا بن گئے۔

انڈیا کی تعمیر نو کے لیے آج ایسے ہی مردانِ کار کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی لوگوں نے قوموں کا مستقبل بنایا ہے اور ایسے ہی لوگ ہوں گے جو انڈیا کا مستقبل تعمیر کریں گے۔ اَلرَّبَّانِيَّة حیاتِ بشری کا ربانی طریقہ ۔ کاروانِ ملت _ صفحات ۲۳۰

Printed page