Al-Risala · January 1994

سائنسی تصدیق

Al-Risala, January 1994, pp. 21–25

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں انسانی نسلوں کے بارہ میں جو نئی نفسیاتی اور حیاتیاتی تحقیقات ہوتی ہیں انھوں نے اسلام کی واضح تصدیق کی ہے اور دوسرے نظریات کو خالص علمی اعتبار سے رد کر دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مالیکیولر بیالوجی (Molecular biology) نے تحقیق کا نیا میدان

کھول دیا ہے۔ چنانچہ امریکہ میں جینیٹکس کے ماہرین کی ایک ٹیم نے باقاعدہ ریسرچ کے ذریعہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ وہ انسانیت کے مشترک جد اعلیٰ (common ancestor) کو دریافت کریں۔ اس ٹیم نے جینیٹی شادت (Genetic evidence) کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ تمام انسانوں کے جد اعلیٰ ایک تھے۔ رنگ وغیرہ کا فرق، جو بظاہر دکھائی دیتا ہے وہ محض اضافی ہے۔ اس کا نسلی علیحدگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے مطابق تمام انسان ایک عظیم خاندان (Great family) کی حیثیت رکھتے تمام لوگ ایک ہی حیاتیاتی اخوت (biological brotherhood) کے رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں (نیوز ویک ۱۱ جنوری ۱۹۸۸)

اس موضوع پر موجودہ زمانہ میں کثرت سے کتابیں اور تحقیقی مقالات شائع ہوئے ہیں۔ زیر اہتمام ایک کتاب چھپی ہے جو کہ حسب ذیل ہے :

J Comas, The Race Question in Modern Science, 1956. اس کتاب کا باب نسلی توہمات (Racial Myths) اس ضمن میں خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے۔ محرک کا مسئلہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ ان علمی تحقیقات کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ دنیا کی عملی صورت حال میں کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوا۔ جن قوموں نے اپنے کو اعلیٰ سمجھ لیا تھا ، وہ آج بھی اپنے کو اعلی سمجھے ہوئے اور ان قوموں کے ساتھ نئی نئی صورتوں میں نا انصافی کی جارہی ہے جن کو قدیم تصور کے تحت کمتر سمجھ لیا گیا تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سماجی انصاف کے معاملہ میں صرف ایک نظریہ کا پایا جانا کافی نہیں۔ ساتھ ایک طاقت ور محرک کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اور طاقت ور محرک اسلام کے سوا کہیں اور اسلام نے جس طرح ایک کامل نظریہ دیا ہے، اسی طرح وہ اس معاملہ میں ایک انتہائی طاقت ور محرک بھی انسان کو دیتا ہے۔

قرآن میں ایک طرف عدل کا حکم دیا گیا ہے (النحل (۹۰) اور دوسری طرف مکافات عمل کا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ خبر دی گئی ہے کہ انسان کے تمام اعمال کی مکمل ریکار ڈنگ کی جارہی ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی اللہ کی عدالت میں کھڑا کیا جائے گا۔ وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

بھی شخص ، اگر وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ۔ وہ وقت بہر حال آتا ہے جب ہر آدمی اپنے کیے کا انجام بھگتے ، خواہ اس نے ایک ذرہ کے برابر ظلم کیوں نہ کیا ہو (الزلزال) مسئولیت (accountability) کا نظریہ آدمی کو آخری حد تک چوکنا کر دیتا ہے۔ یہ فکر جس کے سینے میں جاگ جائے وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں سخت محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ خود اپنے بچاؤ کے لیے ضروری سمجھتا ہے کہ ہر ایک ساتھ انصاف کرے۔ وہ لوگوں کے ساتھ زیادتی کرنے سے پوری طرح اپنے آپ کو بچائے۔

عام حالات میں سماجی انصاف محض دوسروں کی ضرورت رہتا ہے۔ مگر مسئولیت کا عقیدہ سماجی انصاف کو خود اپنی ضرورت بنا دیتا ہے۔ اور کون ہے جو خود اپنی ضرورت کے بارہ میں غافل ہو جائے۔ مسئولیت کا عقیدہ اتنا شدید چیک ہے کہ ظلم تو درکنار، ظلم کے شائبہ سے بھی آدمی بچنے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنی اہلیہ ام سلمہ کے حجرے میں تھے۔ آپ نے کسی کام کے لیے خادم کو بھیجا۔ وہ باہر گئی تو وہاں کھیل کود دیکھنے لگی اور واپسی میں دیر کر دی۔ کافی دیر کے بعد وہ واپس آئی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی۔ آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے۔ تاہم آپ نے خادم سے صرف یہ کہا کہ اگر مجھے قیامت میں بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا (لولا خشية القود لا وجعتك بهذا السواك)۔

قدیم زمانہ میں خادم کو مارنا مالک کا فطری حق سمجھا جاتا تھا، مگر اسلام نے جو ذہن بنایا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غلطی کے باوجود مسلمان اپنے خادم کو مارنے سے احتراز کرتے تھے۔ کیونکہ یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ ان کا یہ فعل کہیں خود اپنی باز پرس کا سبب نہ بن جائے۔

ایک صحابی ابو مسعود انصاری ایک بار کسی غلطی پر اپنے غلام کو مارنے لگے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابو مسعود ، جان لو کہ جتنی قدرت تم کو اس غلام پر ہے ، اس سے زیادہ قدرت تمہارے اوپر خدا کو ہے۔ (اعلم ابا مسعود ، لله اقدر عليك منك على هذا الغلام) یہ سنتے ہی ابو مسعود کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر پڑا۔ انھوں نے غلام سے کہا کہ جاؤ تم آزاد ہو۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ظاہری فرق کو مٹا کر ہر آدمی کو عین اسی مقام پر کھڑا

کر دیتا ہے جہاں وہ دوسرے کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ ابومسعود اپنے اور غلام کے درمیان فرق دیکھ رہے تھے۔ اپنے آپ کو بڑا اور طاقت ور سمجھ رہے تھے اور غلام کو چھوٹا اور کمزور۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حقیقت کی یاد دہانی کرائی تو ان کو معلوم ہوا کہ جہاں میں نے غلام کو کھڑا کر رکھا ہے وہیں میں خود بھی کھڑا ہوا ہوں کیونکہ اصل مقابلہ انسان اور انسان کا نہیں ہے بلکہ انسان اور خدا کا ہے۔ اور خدا کے مقابلہ میں میں بھی اتنا ہی چھوٹا ہوں جتنا چھوٹا کہ میں اپنے غلام کو سمجھ رہا ہوں۔ ایک اور دوسرے میں فرق کا احساس سماجی نا انصافی پیدا کرتا ہے۔ جب ایک اور دوسرے کا فرق مٹ جائے تو اس کے بعد سماجی نا انصافی کا بھی لازمی طور پھر خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ظلم اور سماجی بے انصافی کے تمام واقعات انسانوں کے اندر نا برابری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ انسانوں میں بظاہر کوئی طاقت ور ہوتا ہے اور کوئی کمزور، کوئی دولت مند ہوتا ہے اور کوئی غریب۔ اب طاقت ور اور دولت مند اپنے آپ کو کمزور اور غریب سے اونچا سمجھ وہ سمجھتا ہے کہ میں اس کے اوپر جو دست درازی چاہوں کروں، وہ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ میری برتر حیثیت اس کے مقابلہ میں ہر دفاع کے لیے کافی ہے۔

مگر اسلام بتاتا ہے کہ ہر انسان کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ ہر قضیہ آخر کار خدا کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ خدا تمام طاقت وروں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ وہ کامل انصاف کے ساتھ ہر ایک کے اوپر اپنا فیصلہ نافذ کرے گا اور پر کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ خدا کے فیصلہ کی زد میں آنے سے اپنے آپ کو بچا سکے۔

اس طرح ہر معاملہ انسان اور انسان کے درمیان کا معاملہ نہ ہو کر خدا اور انسان کے درمیان کا معاملہ بن جاتا ہے۔ ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔ اور جب تقسیم خدا اور انسان کی ہو جائے تو کوئی بھی طاقت ور نہیں رہتا۔ ہر آدمی اپنے آپ کو اسی عجز کی حالت میں محسوس کرنے لگتا ہے جہاں اس سے پہلے وہ دوسرے کو فرض کیے ہوئے تھا۔

یہ بلاشبہ سماجی انصاف کا سب سے زیادہ طاقت ور محرک ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ احساس بیدار ہو جائے وہ کسی حال میں دوسرے کے اوپر نا انصافی کی جرات نہیں کر سکتا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں خدا کو نہ مانا جاتا ہو وہاں اس قسم کا چیک ممکن نہیں۔ خدا کو نہ ماننے کی

صورت میں مسئلہ انسان اور انسان کے درمیان رہتا ہے۔ اور جب مسئلہ انسان اور انسان کے درمیان ہو تو کسی بھی طرح انسان کو اس پر مطمئن نہیں کیا جاسکتا کہ ایک اور دوسرے کے درمیان فرق نہیں ہے۔ فرق تو واقعہ میں موجود ہے اور پوری طرح موجود ہے۔

انسانوں کے درمیان فرق کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ فرق کے اثر کو ختم کیا جاسکتا ہے ، اور وہ اس طرح کہ معاملہ کو انسان اور انسان کا معاملہ بنانے کے بجائے اس کو انسان اور خدا کا معاملہ بنا دیا جائے۔ ہر انسان یہ سمجھنے لگے کہ تمام انسانوں کے اوپر ایک خدا ہے اور تمام معاملات کو آخر کار اسی کے یہاں اس کے فیصلہ کو رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

اسلام کے سوا دوسرے جن مذاہب میں خدا کا تصور ہے، وہ تحریف کی بنا پر عملاً اس مقصد کے لیے غیر مؤثر ہو گیا ہے۔ مثلاً مسیحیت میں خدا کا بیٹا سولی پر چڑھ کر تمام انسانوں کے گناہ کا کفارہ بن چکا ہے۔ یہودیت میں نجات ایک گروہ کا حق ہے جس کی بخشش پیشگی طور پر ہو چکی ہے۔ ہندوازم میں خدا کا عقیدہ وحدت الوجود (monism) کی صورت میں ہے۔ جو کہ عملاً بے فائدہ ہے۔

اسلامی توحید میں خدا علیحدہ ہستی ہے اور تمام انسان اس کے بندے اور مخلوق ہیں۔ اس عقیدہ سے آدمی کے اندر عجز کا تصور ابھرتا ہے۔ اس کے برعکس ہندوازم میں خدا ہی واحد حقیقت ہے۔ علیحدہ وجود نہیں۔ انسان خود بھی خدا کے وسیع تر وجود کا ایک جز ہے۔ یہ عقیدہ برعکس طور پر برتری کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ اسلامی توحید ”میں بندہ ہوں“ کا احساس جگاتی ہے ، جب کہ ہندوعقیدہ ”میں خدا ہوں“ کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ اول الذکر سے عجز کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور ثانی الذکر سے گھمنڈ کی نفسیات۔ اور جس سماج کے افراد اپنے اندر گھمنڈ کی نفسیات لیے ہوئے ہوں وہاں سماجی انصاف کا ماحول پیدا کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔

Printed page